ارشاد اللہ شاد

رُموز شادؔ ۔۔ ’’ پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کی سیاسی عروج‘‘۔۔

 تحریر۔ارشاد اللہ شادؔ ۔بکرآباد چترال


’’پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کی سیاسی عروج ‘‘
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت گھر گھر خوشحالی لانے کیلئے کوشاں رہی ہے۔ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے اقتصادی راہداری منصوبہ نا گزیر تھا۔ آج کا پاکستان 3سال پہلے کے پاکستان سے کہیں بہتر ہے۔ لوگوں کی خوشحالی اور ملازمتیں فراہم کرنا اس حکومت کا عزم ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچ رہا ہے۔ اس سال بجلی پیدا کرنے کیلئے مشینری کے در آمدی بل میں بھی 50فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں موجود تمام مینو فیکچرنگ یونٹس میں سے 75فیصد یونٹس جنریٹروں کے ذریعے بجلی کی کمی کو پورا کرنے اور متبادل ذرائع سے بجلی کے حصول کی وجہ سے صنعتوں کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ موجودہ حکومت کی حالیہ کارکردگی کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک کیساتھ تعلقات بحال کرنے کیلئے سر گرم ہے۔ پاک چائنہ اقتصادی راہداری پر خاطر خواہ پیش رفت ہوجانے کے بعد یہ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان بہت جلد خوشحال ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائیگا۔ 3سال بعد معیشت کی پروفائل کافی حوصلہ افزاء ہے۔
حال ہی میں مسلم لیگ ن کے پارٹی الیکشن منعقد ہوا جس میں نواز شریف بلا مقابلہ ہی پارٹی صدر منتخب ہوئے۔ وزیر اعظم نے واضح طور پر بیان دیا کہ 2013ء اور 2016ء کے پاکستان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اُس وقت ملک میں 18، 20گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی ۔ وزیر اعظم نواز شریف نے قوم سے سوال کیا کہ 3سال میں اتنی ترقی کیسے ہوئی؟ وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ قوم کا پیسہ امانت سمجھ کر خرچ کیا ہے۔وزیر اعظم کا یہ قول بھی خوش آئند ہے کہ قوم کی دلی خواہش ہے کہ نواز شریف توقعات پوری کرے گا، میری بھی خواہش ہے کہ اپنے کارکنوں کی توقعات پر پورا اتر سکوں۔ تیسری بار وزیر اعظم منتخب کراکے عوام نے میری کندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی ہے ، جسے پورا کرنے کیلئے شبانہ روز محنت کروں گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی نواز شریف اس قول کی عملی صورت بنا کر عوام کو پیش کرتا ہے کہ نہیں؟
یہ بات درست ہے کہ 2013ء میں پاکستان تباہی کے دھانے پر کھڑا تھا، ملک میں بد ترین دہشت گردی، 18سے 20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ تھی اور اقتصادی طور پر بھی صورتحال بہت خراب تھی۔ لیکن آج 2016کے حالات کے تناظر کو دیکھا جائے تو حالیہ حکومت کی کارکردگی پہلے سے کافی بہتر نظر آتے ہیں۔ 2013ء میں زر مبادلہ کے ذخائر بھی 3ارب ڈالر تھے، جبکہ آج زر مبادلہ کے ذخائر 24ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔
وزیراعظم کا یہ اعلان بھی قوم کیلئے خوش آئند ہے کہ 2018ء کے آخر تک بجلی کی قلت اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کریں گے ۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نیچے آئی ہے۔ پاکستان میں 45نئے ہسپتال اور 4لاکھ لوگوں کو فری لیپ ٹاپ دینے کا عزم کیا۔ اور عوام کو یہ یقین بھی دلایا کہ میں اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھو ں گا جب تک پاکستان کو در پیش ہونے والے مسائل کے دلدل سے نہیں نکالو۔ مزید کہا کہ میں غلط آدمی نہیں ہوں جو بولتا ہوں وہ کر کے دکھاتاہوں۔۔۔۔۔۔
کچھ نظر ادھر بھی ، نواز شریف نے پی ٹی آئی کو کھلے عام چیلنج کیا کہ 2018ء میں KPKمیں مسلم لیگ ن کی حکومت آئے گی۔ اور پی ٹی آئی پر مزید ضرب کاری لگائی کہ نیا پاکستان بنانے کا وعدہ کرنے والے کہاں ہے؟ ایک اور وار لگائی کہ پی ٹی آئی کو جلسے کرنے کیلئے منتیں کرنا پڑتی ہے تاکہ لوگ آجائیں ، ڈگڈگی بجانے والے ہر دور میں آتے ہیں اور وہ باتیں کرتے ہیں جن کاکوئی وجود نہیں ہوتا اور سارا وقت کنٹینر اور گانوں میں گزار دیتے ہیں۔
ایک اورنیوز اخباروں کی زینت بنی ہوئی ہے کہ آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بیان دیاہے کہ موجودہ حکومت 2018ء سے پہلے جاتی نظر نہیں آرہی۔ پیپلز پارٹی نواز شریف کا احتساب نہیں چاہتی کیونکہ اگر نواز شریف کا احتساب ہوا تو پیپلز پارٹی والوں کا بھی ہوگا۔ عمران خان کی تقریروں سے حکومت نہیں جائے گی۔ نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے عمران خان کو آخری حد تک جانا ہوگا۔ تقریریں دینے یا دھرنے دینے سے حکومتیں ختم نہیں ہوتیں۔ 2014ء میں بھی دھرنے ہوئے مگر نتیجہ صفر نکلا۔ لگتا ایسا ہے کہ اب سابق صدر کو بھی نواز شریف پر رحم آرہا ہے۔
پانامہ لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر تحریک انصاف کی طرف سے 2نومبر کو دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف اور وفاقی حکومت کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ حکومت دھرنا دینے سے قبل تحریک انصاف سے مذاکرات کرے گی۔ پی ٹی آئی قیادت نے 2نومبر کو اسلام آباد میں طویل المدت دھرنا دینے کے ساتھ اگلے مرحلے پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ حکومت نے بھی دھرنے سے قبل پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکراتی پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے کوشش کی جارہی ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اس حوالے سے اپنے قریبی ساتھیوں اور حکومتی عمائدین سے مشاورت بھی شروغ کردی ہے۔ دوسری جانب یہ فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے کہ کسی کو کسی بھی صورت ریڈ زون میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعظم نواز شریف نے پی ٹی آئی کو بھرپور الفاظ میں چیلنج دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی والے ان باتوں کا جواب کیسے دیتے ہیں؟ اور عملی شکل کیسے اختیار کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پی ٹی آئی والے کونسے مثبت نتائج پیش کریں گے۔ دریں حالات میں پاکستان کے مستقبل کا انحصار کس کے ہاتھ میں ہے۔ ہماری نجات تبھی ممکن ہے جب تک ہماری قیادت ایماندار، پر عزم اور مستقل مزاج ہو۔ عوام معذرت اور جواز نہیں، نتائج چاہتے ہیں۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق