
دیوانوں کی باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(موت کا ایک دن متعین ہے )
………………شمس الحق قمرؔ بونی ، حال گلگت…………..
کیا آپ نے سنجیدگی سے سوچا ہے کہ موت بنیادی طور پر ہے کیا ؟ کیا موت اس کا نام ہے کہ ہم ستر یا سو سال تک کھاتے پیتے ، محنت مشقت کرکے ، خوشی اور غم میں مبتلا ہوکے ، اولاد پیدا کرکے پھر انہیں پرورش کرتے ، ملازمت کرتے، لوگوں سے محبت کرتے اور نفرت کرتے گزارتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ تمام ہنگامے مٹ جاتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ فلاں آدمی مر گیا ۔ ایسی زندگی پر تو بڑے بڑے لوگ بھی حیران ہیں غالبؔ نے کہا کہ سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔ خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں ۔ تما م ہلچل اور رونقیں ایک ایسی وادی میں چلی جاتی ہیں کہ جہاں سے کسی کو کوئی خبر نہیں آتی ۔ دوسری طرف اقبال علیہ رحمت فرماتے ہیں کہ زندگی کیا ہے عناصر کا ظہورِ ترتیب موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا ۔ یعنی ایک ترتیب اور نظم و ضبط کا نام زندگی ہے ۔ بے ضابطگی جہاں پیدا ہوتی ہے وہاں موت کا بسیرا ہوتا ہے ۔ انسان اسی موت کی پریشانی میں ہی زندگی گزار تا / تی ہے ۔ یعنی ہم جو زندگی گزارتے ہیں وہ موت کے ڈر سے گزارتے ہیں۔ اگر ہم زندگی کو زندگی کے لئے ہی گزارتے تو بہت سارے سوالات پیدا نہ ہوتے اور نہ ہمیں موت کا ڈر اور خوف ہوتا ۔ ویسے ہم میں سے کتنے لوگوں نے یہ سوچا ہے کہ موت کا تجربہ کیسا ہوگا ؟ کیا انسان کو زیادہ درد کا احساس ہوگا ، کیا درد کا لطف آئے گا یا گہری نیند کا غلبہ ہوگا ، آخر کیا ہوگا ۔ پھر مرنے کے بعد کیا سلسلہ ہوگا ۔ کہتے ہیں کہ ہماری روح بھی ہوتی ہے اور مرنے کے بعد کا تانہ بانہ اُسی روح کے ساتھ ہوگا ۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ اگر مرنے کے بعد معاملات صرف روح کے ساتھ ہوئے تو شاید ہمیں معلوم نہیں ہوگا یعنی دوسرے لفظوں میں جزأ و سزا کا ہمیں پتہ نہیں چلے گا اور صاف طور پر بچ نکلیں گے ۔ مذہبی عقائد سے قطع نظر میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ یہ جو باقی تمام مخلوقِ خدا مرنے کے بعد کہاں جائے گی۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ مرنے کے بعد جب ہمیں منوں بھاری مٹی کے تودے کے نیچے رکھے جانے کے بعد اگر ہم دوبارہ زندہ ہوئے تو یہ بات کتنی اذیت ناک ہوگی ۔ سوچا ہے کہ اگر واقعتا ایسا ہوا تو ۔ یہ ایسے سوالات ہیں کہ ان پر بات کرتے ہوئے یا پڑھتے ہوئے ہماری کھوپڑی کے اندر رہنے والا اصل ادمی کسی نتیجے تک نہیں پہنچتا بلکہ یہ الٹا اپنے مالک یعنی اپنے جسم کو ڈراتا دھمکاتارہتا ہے ۔ مرنے کے حوالے سے کئی ایک باتیں قابل غور ہیں ۔ مختلف مذہبی عقائد کے پیروکار موت اور موت کے بعد انسانی زندگی کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے اپنے اپنے نظریات رکھتے ہیں ۔ ہم اُن میں سے کسی کو بھی غلط یا صحیح کہنے کا حق تو نہیں رکھتے البتہ ان نظریات سے قطع نظر اپنے دماغ یا عقل سے اپنے انداز سے سوچ کر کوئی معنی یا کوئی رائے اخذ ضرور کر سکتے ہیں ۔
ممکن ہے ایسا ہو کہ ہم جس چیز کو موت کہتے ہیں وہ زندگی کی کوئی ایسی کڑی ہو کہ جس سے گزرنے کے بعد ہم بول اُٹھیں کہ عجیب خواب تھا ایک دنیا تھی ، میں اور میرے جیسے اور بھی لوگ تھے انہیں انسان کہا جاتا تھا،۔ ہمارے آپس میں رشتے تھے جس میں ماں باپ ، بہن بھائی ہزاروں اور رشتے اور ناطے ۔ بہر حال اچھا خواب تھا ۔ ایک ہی پل کی نیند تھی لیکن ایک طویل زندگی گزر گئی ۔ ہم اُس دنیا کے دکھ درد ، غم و آلام ، آسائش اور رونقوں پر کتنے ہنستے ہوں گے ۔
بقول اقبال ۔ یہ مال و دولتِ دنیا یہ رشتہ و پیوند بتان وہم و گماں لا الہ الا اللہ
عجیب چیز ہے وہ جسے ہم موت کہتے ہیں سب اُس سے ڈرتے ہیں ۔ مجھے اس معاملے میں صرف ایک بات سمجھ نہیں آتی وہ یہ کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ خدا کے پاس چلا گیا یااللہ کو پیارے ہو گئے ۔ لیکن اگر کوئی آدمی ہمارے کسی عزیز کو گولی مار کر ، زہر کھلا کر یا گلا گھونٹ کر ہلاک کر تا ہے تو ہم اُسے اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ وہ ہمارے کسی عزیز کو اللہ کے پاس پہنچانے میں ممدو معاون ثابت ہوتا ہے ۔ کیا آپ نے کھبی یہ سوچا ہے کہ ان میں سے کونسی بات غلط ہے ؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ لوگ موت کے بارے میں اصل حقیقت جانتے ہوں کہ موت زندگی کے تمام دکھ سکھ کا آخری تلخ تجربہ ہے لیکن وہ اپنے آپ کو خوش رکھنے کیلئے اس واقعے کو اللہ سے ملاقات سے منسوب کرتے ہوں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمیں اپنے کسی رشتہ دار کے قتل یا موت پر خوش ہونا چاہئے تھاکہ وہ اللہ کے پاس چلا گیا یا چلی گئی ۔ اِن دونوں باتوں میں بھی اگر کوئی وزن نہیں ہے تو کیا تیسری بات ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالی کے پاس جانا محض ایک ڈھکوسلا ہے ( نا اغوذ باللہ )۔ چونکہ بات موت کی ہو رہی ہے لہذا ہم اس موضوع سے ہٹنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔ میں نے ایک خوبصورت مضمون پڑھا جس کا عنوان تھا ’’موت کا تجربہ ‘‘ کچھ لوگوں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا اور پھر اپنی سر گزشت لوگوں میں بانٹا۔ ایک خاتوں کا کہنا تھا کہ بیماری کے عالم میں درد و کرب سے گزر رہی تھی کہ یکدم اُسے راحت سی محسوس ہوئی پھر اُس نے دیکھا کہ وہ ایک انتہائی تنگ و تاریک مقام سے نکل کر ایک صحت افزا مقام کی طرف جا رہی ہے جہاں ہر طرف مسرت ہے ، شادمانی اور خوشیاں ہیں ۔ لیکن یکایک آنکھوں کے سامنے دوبارہ اندھیرا چھا گیا اور دوبارہ اُسے درد و کرب کا احساس ہونے لگا ۔ خاتوں نے ہوش میں آکر آس پاس کا جائزہ لیا تو اُس کے تمام رشتہ دار ں نے اُسے بتایا کہ وہ مر چکی تھی اور وہ اُ س کے تجہیز و تکفین کے لئے سوچ رہے تھے ۔ دل کی دھڑکن ، خون کی گردش اورنبض کی حرکت بند ہو چکی تھی ۔ لیکن یہ خاتوں ناراض تھی کہ وہ ایک روح پرور مقام کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک سامنے اندھیرا چھا گیا اور اُس کی آنکھ کھل گئی جو کہ اچھا نہیں ہوا ۔ ایک اور آدمی نے موت کا یوں تجربہ کیا وہ کہتے ہیں کہ درد کی شدد تیز ہو گئی اور کچھ یاد نہ رہا اور جو کچھ بعد میں انہوں نے بتا یا وہ یہ ہے کہ میں نے ایک نور دیکھا جس نور یا روشنی کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ اس کے بعد میں نے وہ سب کچھ دیکھا جو میں زندگی میں کرتا رہا تھا اور وہ سب کچھ دیکھا جو میرے تمام ہم عصر کرتے رہے تھے اس کے علاوہ اُن لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں جو اس دنیا سے چلے گئے تھے ۔ بعد میں لوگوں نے اُس آدمی کو بتا یا کہ وہ مکمل طور پر مر چکا تھا لیکن زندگی واپس ملی یہ اللہ کی مہربانی ہے ۔ بعد میں کچھ سائنسدانوں نے اس واقعے پر تحقیق کرتے ہوئے اس نتیجے تک پہنچے کہ جب انسانی دماغ کو اکسیجن کی ترسیل بند ہوجاتی ہے تو دماغ اپنے اندر موجود اکسیجن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو زندہ رکھنے کی کوشش میں کچھ کم وقت کے لئے انتہائی برق رفتاری سے کام کر رہا ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ کی رسائی وہاں تک بھی ہوتی کہ جہاں تک عام حالات میں نہیں ہو ا کرتی ۔ عام لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو لوگ موت کے قریب یعنی حالت نزع میں ہوتے ہیں وہ عام طور پر مردوں سے ہم کلام ہوتے ہوئے پائے گئے ہیں ۔ اور جب انسان مردوں سے باتیں کرنا شروع کرے تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ خدا کو پیارے ہونے جا رہاہے۔
مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس مضمون کو پڑھتے ہوئے لوگ پریشان ہوں گے اور مجھے لعن طعن کریں گے کہ میں نے بد شگونی کی ہے اور موت یاد دلا دی ۔تاہم یہ ماننا پڑے گاکہ اس مضمون کے ہر پڑھنے والے کو ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہی پڑے گا ۔ دوستو پریشان مت ہونا ۔ آخر کیا ہوگا جو مر جاؤ گے ۔ موت کا ایک دن متعین ہے نیند رات بھر کیوں نہیں آتی
