ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ……….اسمبلیوں کی مدت ؟

……………..ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ ………


اسمبلیوں کی مدت پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا یا گیا ہے جماعت اسلامی سراج الحق نے شدو مد کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھایا ہے ۔ قانون دانوں کے علاوہ الیکشن کمیشن اور وفاقی محتسب نیشنل اکاونٹیبلیٹی بیورو اور دوسے اداروں کا توجہ اس امر کی طرف مبذول کی ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے اسمبلیوں کی مدد چار سال کی جا ئے انہوں نے مغرب کے دلدادا اور مغربی ملکوں کی نقل اتارنے والوں سے کہا کہ کہ تم 5 سال کی مدد کیساتھ کیوں چمٹے ہو ے ہو۔ امریکہ میں بھی ہر چار سال بعد انتخابات ہو تے ہیں اگر چہ اضا خیل نوشہر ہ ہونے والا اجتماع کئی لحاظ سے تاریخی اجتماع تھا تا ہم اسمبلیوں کی مدت میں کمی کا مطالبہ اس اجتماع کا اہم مطالبہ تھا اجتماع میں مولانا محمد طیب طاہری ، مولانا گل نصیب خان اور مولانا حامد الحق حقانی نے بطور خاص شرکت کی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اجتماع گاہ کا دورہ کیا اور سینئر وزیر سکند ر حیات شیر پاؤ بھی اجتماع میں شریک ہو ئے ایک اندازہ یہ تھا کہ متحدہ مجلس عمل میں شریک جماعتوں کے قائدین اور دفاع پاکستان کونسل جماعتوں کے لیڈر اجتماع میں شریک ہونگے مگر ایسا ممکن نہ ہوا۔ عالمی سطح پر 23 اسلامی ممالک سے مسلم تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے وفود اجتماع میں شریک ہو ئے اجتماع جہاں ملکی اور مقامی سطح پر جماعت اسلامی کے نظم و ضبط کا اعلیٰ مظاہرہ تھا وہاں عالمی سطح پر جماعت اسلامی کے پیغام کی پذیرائی اور اسلامی ملکوں کے اندر جماعت اسلامی کی مقبولیت کا بھی ثبوت دیتا تھا ۔ اجتماع میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کو تازہ دم کرکے اگلے انتخابات کی تیاری کے لئے منظم کیا گیا ۔ اس کو ری فیولنگ ایکسر سائز بھی کہا جا سکتا ہے اجتماع کی قراردادوں میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور ہر دفتروں میں رائج کیا جا ئے پرایمری سکولوں میں اسلامیات کی پوسٹوں کو بحال کیا جا ئے، شراپ پر پابند ی لگائی جا ئے نجی سود پر پابندی کیساتھ ساتھ سرکاری سود پر بھی پابندی لگائی جا ئے۔بد عنوائیوں کا خاتمہ کیا جا ئے اسمبلیوں میں ایک سال کی کمی کے مطالبے کا جواز پیش کرتے ہو ئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے دلیل دی ہے کہ اسمبلیوں کے اراکین پہلے تین سالوں میں کرپشن کے ذریعے اور کرپشن کے طریقوں سے آگاہی حاصل کرتے ہیں اگلے دو سالوں میں جی بھر کر وہ کرپشن کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے کہا ہے ۔
نالہ ہے بلبل شوریدہ تیرا خام ابھی
اپنے سینے میں اسے اور ذرا تھام ابھی
ہمارے خیال میں اس مقام میں سراج الحق کا تجربہ ادھورا سا ہے ہمارے حکمران پہلے دن سے کرپشن شروع کرتے ہیں اس میں دو سال یا تین سال کر گریس پیر یڈ نہیں ہو تا ان کے لئے کرپشن کی اورینٹیشن چنداں ضروری نہیں ہو تی۔ جو شخص صوبائی اور قومی اسمبلی کا امیدوار ہو تا ہے اس کو کرپشن کے سارے دروازوں کا پتہ ہو تا ہے اور جو لوگ اس کے الیکشن پر پیسے لگا تے ہیں ان کو بھی پتہ ہو تا اگر وہ خود پیسہ لگاتا تو حساب کرکے لگاتا ہے کہ 6 کروڑ روپے خرچ ہو گئے پہلے سال اصل زر واپس آئے گا بقیہ چار سال منافہ آتا رہے گا۔ اور ہر سال کا منافع بھی اصل زر سے زیادہ ہو گا ان ظالموں نے ظلم یہ کیا کہ کرپشن کی کوئی چھوٹی سی کھڑکی سراج الحق کو نہیں دیکھا ئی ورنہ انہیں پتہ لگ جا تا کہ اسمبلیوں کے اراکین کی حلف بر داری کے دن نوٹوں سے بھرے بریف کیس حرکت میں آجاتے ہیں۔ چلیے ہم مان لیتے ہیں کہ اسمبلیوں کے اراکین میں دو چار لوگ پہلی دفعہ کامیاب ہوکر آنے والے ہونگے ان کو کرپشن کے طریقے سیکھنے میں تین سال یا 2 سال لگتے ہونگے ۔ اگر اسمبلیوں کی مدت 5 سال سے کم کرکے 4 سال کر دی گئی تو وہ لوگ کو چنگ کلاسز کے ذریعے ایک آدھ ماہ میں کرپشن کی تربیت حاصل کرینگے اور لنگر لنگوٹ کس کر دوسرے ماہ میدان میں اتر ینگے۔ خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں دکانوں کے باہر بورڈ لگا ہو تا ہے، یہاں اصلی چرس دستیاب ہے نقالوں سے ہوشیار رہیں ۔ اس طرز پر کرپشن کی کو چنگ اکیڈیمیاں کھلنگی جن کے دیدہ زیب بروشر ہو نگے ، ان میں لکھا جا تا ہے کو رس مکمل کرنے کے بعد دولت گھر کی بونڈی بن جا تی ہے۔ سائیکل کی جگہ بی ایم ڈبلیو گاڑی لے لیتی ہے۔ کچے مکان کو عالیشان کوٹھی میں بد ل دیا جا تا ہے اور پھر ہر چیز کو لاکھ اور کروڑ سے ضرب دینے کا سلسلہ چل نکلتا ہے محدود نشستوں پر داخلے جاری ہیں۔ ہمارے ایم پی ایز اور ایم این ایز اس طرح کی اکیڈیمیوں میں داخلے کے لئے قطار میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کرینگے۔ ویسے بھی خدا لگتی کہتے تو اسمبلیوں کی مدت5 سے گھٹا کر 4 سال کرنے کا خیال برا نہیں ۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اسمبلیوں کو توڑنے کے لئے 3 سال بعد دھرنا دینے اور ریلی نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گا۔4 سال بعد ہی منزل آجائیگی۔ جہاں تک کرپشن سے نجات حاصل کرنے کا تعلق ہے یہ بہت اچھا خیال ہے۔ مگر اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اسمبلیوں کی مدت میں ہیرپھیر یا قانون پر عملدر آمد کے مطالبے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مہاتیر محمد ، نیلسن میڈیلا ، لی کوان یو ، مازوے تنگ اور چواین لائی کی طرح کا لیڈر پیدا کیا جا ئے۔پاکستان کے اندر ایسا لیڈر اب تک پیدا نہیں ہوا۔ آپ عوامی جمہوریہ چین، سنگا پور ، جنوبی افریقہ اور ملائیشیا کی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چا ہیں۔ تو ان ملکوں میں کرپشن کو لیڈروں نے اپنے بے داغ کردار کے ذریعے ختم کیا ہے۔ لی کوان یو نے کسی کرپٹ اور بد عنوان سیاستدان کو اپنی پارٹی میں جگہ نہیں دی۔ مہاتیر محمد نے کسی کرپٹ اور بد عنوان شخص کو اپنے قریب آنے نہیں دیا۔ نیلسن میڈیلا نے صاف ستھرے لوگوں کی ٹیم بنائی۔ مازوے تنگ اور چواین لائی نے کسی کرپٹ شخص کو اپنی پارٹی میں قبول نہیں کیا۔ تب جا کر ان لوگوں نے کرپشن کا خاتمہ کیا فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ایک صحافی نے جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الا علیٰ مو دودی سے کہا کہ ایوب خان خود کرپٹ نہیں ہے اس کے حواریوں میں کرپٹ لوگ شامل ہو تے ہیں۔ اس پر مولانا نے کہا ’’ یہی تو بات ہے گندی مکھیاں وہاں بیٹھتی ہیں جہاں ان کو گندگی نظر آتی ہے‘‘ جماعت اسلامی کے اجتماع نے بہت اچھا کیا اسمبلیوں کی مدت پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔ محب وطن حلقوں کی طرف سے اس تجویز کو پذیرائی ملنی چاہیئے اگر اس طرح کرپشن ختم نہ بھی ہوا کم از کم اتنا تو ہو گا کہ کھڑکی سے باہر کرپشن کے انتظار میں بیٹھے ہو ئے لیڈروں کو 5 سال انتظار کرنا نہیں پڑے گا فیض نے کہا تھا
ہم سے کہتے ہیں چمن والے غریبان چمن
تم کوئی ، اچھا سا رکھ لو اپنے ویرانے کا نام

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق