تقدیرہ خان

ڈار ازم

……………….تقدیرہ خان………………..
پاکستان کے وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کو عالمی مالیاتی تنظیموں نے ایشیاء کا بہترین وزیر خزانہ قرار دیا ہے ۔ جناب اسحق ڈار مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور لائن آف کنٹرول پر ٹینشن کی وجہ سے امریکہ جاکر اپنا ایوارڈ حاصل نہ کرسکے ۔ جس کی وجہ سے امریکہ میں پاکستانی سفیر جلیل عباس جیلانی نے اُن کی جگہ ایوارڈ حاصل کیا۔
اسحق ڈار صاحب واقعی اس ایوارڈ کے مستحق تھے چونکہ جس قدر آپ نے عالمی مالیاتی اداروں کو فائدہ پہنچایا وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ آپ کی مالیاتی اداروں کی محبت کا نتیجہ ہے کہ ہر پاکستانی اپنے جسمانی وزن سے زیادہ بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ، اور مشکل سے سانس لے رہا ہے ۔ غریب عورتیں جسم فروشی کے دھندے سے اپنا اور بچوں کا پیٹ پال رہیں ہیں ۔ پاکستانی کسانوں کا برا حال کر کے بھارتی کسانوں اور آڑھتیوں کو خوشحال کر دیا گیا ہے ۔ پنشنر وں اور بوڑھوں کی نیشنل سیونگ سکیم میں جمع شدہ رقوم پر منافع 75 فی صد کم کر دیا گیا ہے ۔ مہنگائی آسمان کو چھور رہی اور غربت اور بیماری نے عام آدمی کو انسانیت کے درجے سے گرا دیا ہے ۔ بھارت ایک طرف کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے، اور دوسری جانب پاکستان میں دہشت گردی کی کھلم کھلا نہ صرف حمایت کر رہا ہے بلکہ افغانستان کے راستے دہشت گردوں اور علیحدگی پسندوں کی بھر پور مالی امداد اور تربیت بھی کر رہا ہے ۔ اس کی واضح مثال کمانڈر کلبھوشن یادیو ہے جو پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی کی تحویل میں ہے اور اپنے جرائم کا اعتراف کر چکا ہے ۔
جناب اسحق ڈار کی قابلیت کا واضح ثبوت پاکستان کی دگر دوں معاشی حالت ہے جس طرح حکومت دہشت گردوں کی تربیت مالی معاونت اور بھارتی مداخلت پر خاموش تماشائی ہے اسی طرح جناب اسحق ڈار پاکستان کی معاشی اور اقتصادی حالت پر نا صرف خاموش ہیں بلکہ اسے ابھرتی ہوئی معیشت قرار دیکر لوگوں کو مصنوعی خوشی دینے کی کوشش کر تے ہیں ، ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دن قوم سے خطاب کر تے ہوئے بتائیں کہ دیکھو میں ایک آدمی بلکہ بہت ہی عام آدمی سے پاکستان کا امیر ترین آدمی کیسے بن گیا ہوں ۔ نوجوان بلکہ ہر پاکستانی انسان میر ی مثال سامنے رکھے اور کسی نودولتی سرمایہ دار یا کارخانہ دار کی نوکری کر کے اُسے مال بنانے کے گُر سکھائے ، خود بھی کھائے اور دوسروں کو بھی کھلائے ۔ میرے ابتدائی دنوں میں کمپیوٹر کی جگہ حساب کتاب رجسٹروں میں ہو تا تھا جس میں پکڑنے جانے کا اندیشہ تھا مگر میں نے ہر محکمے کو ایسا حکم دیا کہ میاں خاندان کے بجلی ، ٹیلی فون ، گیس اور دیگر ضروریات کے بل واجبی آتے تھے جبکہ کسٹم ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور انکم ٹیکس والے احتراماً میاں خاندان کی طرف دیکھتے ہی نہ تھے۔
جس طرح شیر شاہ سوری ہمایوں اور اکبر کی حکمرانیوں کو راجہ ٹوڈر مل نے چار چاند لگائے اُسی طرح میں نے میاں خاندان کو دنیا کا امیر ترین خاندان بنا کر پاکستان کو دیوالیہ ہونے کے قریب کر دیا ہے ۔
میری ان کوششوں کو صرف اہل مغرب نے ہی داد دی ہے جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں ۔ بھارتیوں اور پاکستانیوں نے میری قدر نہیں کی ۔ میں ہر لحاظ سے ہلال امتیاز ، ستارہ پاکستان اور دیگر تمغوں اور ستاروں کا حقدار ہوں ۔ میں نے بھارتی کسانوں اور کارخانہ داروں کو جو فائدے پہچائے ہیں اس کا وہ تصور ہی نہیں کر سکتے تھے۔ بھارتی بوڑھے اور قریب المرگ جانوروں کا گوشت گلی سڑی سبزیاں اور جی۔ ایم ۔سی زدہ پھل نہ صرف عام پاکستانی مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہے بلکہ ہمارے فائیو سٹار ہوٹلوں اور سرکاری تقریبات میں بھی یہی پھل ، گوشت اور سبزیاں استعمال ہو تیں ہیں ۔ میری ان خدمات کے بدلے میں مجھے پدم بھوشن یا چانکیہ ایوارڈ ملنا چاہیے اگر مودی صاحب ایسا کرنے کا ارادہ کریں تو اس تقریب ایوارڈ کا انعقاد جموں یا سری نگر میں کریں تا کہ آر پار کے کشمیریوں کو مثبت پیغام ملے ۔
میری شہرت اور دانائی سے جو پاکستانی جلتے ہیں اور میرے اس ایوارڈ کو ملالہ یوسفزئی اور شرمین عبید چنائے کی طرح جعلی اور پاکستان دشمن قوتوں کی سازش قرار دے رہے ہیں انھیں جدید معاشی نظام اور چانکیائی سیاست کی سمجھ نہیں ۔ میں بار ہا کہہ چکا ہوں کہ میں اسلام آباد خود نہیں آیا بلکہ بھجوایا گیا ہوں ۔ مجھے حضرت داتا صاحب نے ڈیپوٹیشن پر بھجوایاہے ۔ ظاہر ہے کہ اسلام آباد جو بھی آتا ہے وہ حضرت بری امام کی مرضی سے آتا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے ایک متعصب قلم کار نے جسے ہمیشہ آزادی کشمیر کا بخار چڑھا رہتا ہے نے ایک آن لائن اخبار میں ملالہ انا کا ملالہ یوسزئی سے مقابلہ کر تے ہوئے اُسے مغرب کی سازش قرار دے دیا ۔ ملالہ انا اور ملالہ یوسف زئی کا کوئی مقابلہ نہیں ملالہ انا نے انگریز حکومت کے خلاف بندوق اُٹھائی اور ماونڈ کی لڑائی میں سینکڑوں انگریزوں کو قتل کیا ۔ یہ اور بات ہے کہ انگریزوں نے کچھ پختونوں کو ساتھ ملا لیا اور ماونڈ کی جنگ جیت گئے ۔ ملالہ ، اُس کا باپ جو قبیلے کا سردار بھی تھا اور اس کا منگیتر اس جنگ میں کام آئے جنھیں پٹھانوں نے شہید قرار دیا اور ملالہ کو انا یعنی افغانوں کی دادی قرار دیا۔ ظاہر ہے کہ ہمارے انگریز دوستوں کو عرصے سے اس بات کا غم تھا کہ ان کی دشمن کو اتنا بڑا اعزاز کیوں دیا گیا۔ ا س اعزا ز کا بدلہ لینے کے لیے انھوں نے سرحدی گاندھی کے پیروکار کی بیٹی کو بھارتی گاندھی کے پیروکار کے ساتھ مشترکہ ایوارڈ دیکر نہ صرف امن اور جنگ میں فرق مٹایا بلکہ اکھنڈ بھارت اور گاندھی گیری کے فلسفے کو بھی دوام بخشا۔
بھٹو صاحب بھی تو فخرے ایشیاء تھے اس میں کسی کوکوئی سازش نظر نہیں آتی ان کا روٹی کپڑے اور مکان کا نظریہ بری طرح فلاپ ہوا اوران کے نیشنلائزیشن کے پروگرام سے میاں خاندان بری طرح متاثر ہوا۔میری اور میاں خاندان کی چالوں کے سامنے بھٹو ازم کی ایک نہ چلی ، اور آج نا صرف میاں خاندان بلکہ میرا ڈار خاندان بھی دنیا کے امیر کبیر خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔یہ بھٹو ازم کا نہیں بلکہ ڈار ازم کا دور ہے ، برائے مہربانی ڈار ازم کو ڈارون سے نہ ملا دینا ،میں ڈارون کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتا ۔مجھے پرولتاری اور اشتمالی بھی زہر لگتے ہیں ۔البتہ بورژاویت اور اشتراکیت کسی حد تک ٹھیک ہے بشرطیکہ بورژاویت میں میاں صاحبان، زرداری صاحب اور مولانا فضل الرحمن صاحب اور میری شرکت یقینی ہو ، میں بنیادی طور پر کیپیٹلسٹ ہوں اورچانکیہ صاحب کے اس قول پر یقین رکھتاہوں کہ طاقت ور حکمران کے لیے ضروری ہے کہ فوجی کمانڈر اس کے تابع فرمان ہوں اور عوام اپنی حاجات کیلئے بادشاہ کے محتاج ہوں۔طاقت ور فوج اور خوشحال عوام بادشاہ کے خلاف سازشوں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی طاقت وربادشاہ ہوئے ہیں ان کی رعایا بدحال رہی ہے اور فوج میدان جنگ میں مصروف رہی ہے۔
ھنی بال، ہلاکو خان، چنگیز خان ، نپولین ،ہٹلر اور دیگر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ،عوام کا بھرکس ہم نے نکال دیا ہے اور جناب احسن اقبال کے ویژن میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگلے بیس یا پچیس سال تک یہ قوم معاشی لحاظ سے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے گی۔فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہی ہے،اور ساتھ ساتھ ہمار ا میڈیا سیل، وزراء کرام اور ہم خیال سیاستدان اور اخبار فوج کا مورال گرانے کی کوشش بھی کرتے رہتے ہیں ۔فوج کے خلاف پراپیگنڈا ہمارے مشن کا حصہ ہے، جس کا فو ج جواب نہیں دے سکتی۔جب کے مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کے علاوہ برادرم طلال چوہدری ، وزیر دفاع خواجہ صاحب، وزیر ریلوے چھوٹے خواجہ صاحب اور دیگر نوجوان لیگی اس کی تائید میں دیر نہیں لگاتے ۔ڈار ،خواجہ ،بٹ اور میر ایک ہی خاندان کی شاخیں ہیں ۔انگریزی دور میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے ہمیں راجپوتوں میں شمار کیا تھا، چونکہ کشمیری راجپوت حکمران ہمیں راجہ نہیں مانتے تھے ۔اب حاسد کہیں گے کہ یہ بھی انگریز کی سازش ہے ۔
بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سوائے آزادی مانگنے والوں کے ، آر پار کے سب لوگ متحد اور متفق ہیں اور ڈارازم پر یقین رکھتے ہیں فکر کی کوئی بات نہیں۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق