شمس الحق قمر

میرے روزنامچے کے اَوراق سے ۔۔۔۔۔۔۔۔( منصور شبا ب ؔ ، سُروں کا بازی گر ، دھنوں کا بادشاہ )

………..تحریر: شمس الحق قمرؔ بونی ، حال گلگت…………


سرُ، دُھن، لے یا موسیقی روحانی آوازوں کے مختلف نام ہیں یہ عام آوازوں سے مختلف ہوتی ہیں ۔ اگر کوئی موسیقار سُر پر کھڑے رہنے کا فن جانتا /جانتی ہو وہ اپنے آس پاس کے ماحول کو اپنی مٹھی میں تا دمِ آخر قید رکھنے کی صلاحیت رکھتا /ْ رکھتی ہے ۔ ایک اچھا موسیقار وہ ہے جو کسی ساز کی موسیقی یا لے کو دل کے لہو سے سیراب کرتے ہوئے سرُ کی مختلف منازل طے کر تا/کرتی ہے ۔ ساز اُس وقت بہتر اور جاندار ساز ہوتا ہے جب اُسے لے کے مختلف مراحل سے گزارا جائے ۔ عام فہم الفاظ میں آواز کا اُتار چڑھاو، دباؤ ، زیر و بم ، ملائمت ، رفتاراور کسی خاص بول یا خیال پر آوازلوچدار بنا کر سامعین و ناظرین کو اپنی گرفت میں لینا اور ابتدائی کھرج کو ہموار بناناوغیرہ کسی ساز کے وہ مراحل ہیں جو کہ پائے کے موسیقاروں اور گلوکاروں میں نظر آتے ہیں اگر کوئی گلوکار/ گلو کارہ کسی ساز کے مذکورہ مرحلوں کو چھوتے ہوئے گزرتا /تی ہے تو اُس ساز میں ایک روحانی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو ہر سننے والے کی سماعتوں کو چھین کر دوام حاصل کرتی ہے ۔ یہ ایک خدا داد صلاحیت ہے جو کہ اللہ تعالی کی جانب سے ودیعت کردہ ہوتی ہے اور ریاض سے نکھرتی چلی جاتی ہے ۔ موسیقی میں گداز پیدا کرنا ایک خاص فن ہے جو کہ ہر کسی کی بس کی بات نہیں ہوتی اگر کوئی گلوکار اس میں گداز پیدا کرنے کا حامل ہوتا ہے تو اُس کے اندر ایک دائمی حُسن جنم لیتا ہے ۔ سرُ یا دُھن زندگی کا ایک ایسا حُسن یا ایک ایسی خوبی یاخوبصورتی کا نام ہے جسے حاصل کرنے اورپھر اپنے اندر سمونے کے لئے خاص بصیرت اور باریک بینی کی ضرورت ہوتی ہے تب جاکے ایک گلوکار/گلوکارہ حُسن شناسی کا فن حاصل کر سکتا /سکتی ہے ۔ یوں توگانہ گانا بڑاآسان کام لگتا ہے لیکن ایک عام انسانی آواز میں گدازپیدا کرنا وہی جاتنے ہیں جو اس بار گراں کو اپنے کندھوں پر اُٹھائے ہوئے ہیں۔برصغیر پاک و ہند میں کئی ایک لوگوں نے گلو کاری کی اور کسی حد تک کامیاب گلو کاری کی لیکن دوام بہت کم لوگوں کی آوازوں کوحاصل ہوا اور وہ لوگ آج بھی اپنے سننے والوں کے دلوں پر خوب راج کررہے ہیں ۔ جن میں محمد رفیع ، لتا، طلعت محمود ، میڈم نور جہاں ، نصرت فتح علی خان اور مہدی حسن کے علاوہ کئی ایک لوگوں کے نام شامل ہیں۔یہاں ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا چترال میں بھی ایسے عظیم اور پائے کے لوگ پیدا ہوئے ہیں یا ہیں جنہیں مذکورہ فنکاروں کی صف میں کھڑا کیا جا سکے ۔کہتے ہیں کہ ہندوستان کے مشہور موسیقار طلعت محمود ایک غریب لڑکا تھا ۔ لیکن قدرت نے خوش گلو اور خوش الحان بنا کے پیدا کیا تھا تاہم اُس نوجوان کو معلوم نہیں تھا کہ اُس کے اندر دنیا کا انوکھا حسن شناس چھپا ہوا ہے ۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اگر اُسے کسی فلم میں گانے کا موقعہ مل سکے تو ممکن ہے کہ قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے ۔ طلعت محمود ایک فلم ہدایت کار کے یہاں گئے ۔ ڈائریکٹر خود موجود نہیں تھے ۔ فلم کے انجینئروں نے طلعت کی صدا بندی کی اور اپنے ہدایت کار کو بتا یا کہ جس لڑکے کی آواز رمحفوظ کی گئی ہے وہ بہت سریلی ہے لیکن آواز میں تھر تھراہٹ سی معلوم ہوتی ہے بس یہی ایک کمی ہے ۔ ڈائریکٹر ایک اعلیٰ پیشہ ور آدمی تھے انہوں نے ریکارڈنگ سننے کی خواہش کا اظہار کیا ۔ طلعت محمود کی آوا ز کے پہلے بول کے ساتھ ہی ڈائریکٹر اتنے بے قرار ہوئے کہ اپنی کرسی پر نہیں بیٹھ سکے کیوں کہ انہیں ایک ایسی آواز مل گئی تھی جو کہ اُن کی فلموں کو چار چاند لگا سکتی تھی ۔ ڈائیریکٹر نے اپنے انجینئروں سے کہا کہ جس آواز کی صدیوں سے تلاش تھی وہ آج مل گئی ہے ۔کیوں کہ آواز میں فطری تھر تھراہت کا وجود آواز کی وہ اہم خصوصیت ہے جو کہ موسیقی میں جان پیدا کرتی ہے اور سننے والوں کے کانوں میں رس کھولتی ہے ۔
ہم اپنے گلوکاروں میں منصور شبابmansor کی سریلی آواز کو جب سنتے ہیں تو ایک خاص قسم کی کپکپی اور تھر تھرا ہٹ کا احساس ہوتا ہے ۔یہ وہ لرزش ہے جو ہر سننے والے کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرواتی ہے ۔ جیسے موصوف نے گل نواز خاکی کا یہ کلام جو گایا ہے ؂ ہردیو آہَ کیہ اثر بیرو وا مہ لو تہ پروشٹہ بے اثر نو بسیر ۔ مہ غون گدیریو سار بشار بیروا یہ کلام آپ کی سُر شناسی اور لے نوازی کی ایک شگفتہ مثال ہے۔ کھوار دھنوں کو انوکھے انداز سے گا کر گائیکی میں جو خاص تھر تھراہٹ پیدا کرتے ہیں اُس کو محسوس کرنے کے لئے ایک مخصوص ذوق اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر آپ توجہ سے سنیں گے تو دل و دماغ پرروشنی کا ایک پر کیف سا سما بندھ جائے گا اور آپ ایک ایسی دنیا کے سفر پر نکلیں گے کہ جس کی شان اور مرتبے کی عام انسانی حالت میں مثال قطعی طورپر نہیں مل سکتی ۔ہماری موسیقی کے سازایک سے لیکر تین سروں پر محیط ہوتے ہیں تب جاکے کسی ساز کا ایک دور پورا ہوتا ہے لیکن شبابؔ صاحب اپنی آواز میں سروں کی تقریباً پانچ کڑیاں ایک دوسرے سے ملاتے ہو ئے کسی بھی دھن کو ایک دل گداز انداز سے منطقی نتیجے کو پہنچا دیتے ہیں جو کہ انہی کا کمال ہے ۔ یہی کمال میری نظر میں چترال کی موسیقی اور سازو آواز کی معراج ہے جو کہ آج تک کسی اور گلوکار کے حصے میں نہیں آیا ۔شباب ؔ کی دھنوں کی لطافت اور آواز کی میٹھاس طلعت محمود کی دُھنوں اور آواز کی میٹھاس سے کسی قدر کم نہیں ۔ ساز کی ابتدا سے لیکر انتہا تک لے سے تال میل کھاتا رہتا ۔ میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ کاش !شباب کی آواز کو اگر کسی بڑی زبان میں جگہ ملی ہوتی تو آج شباب ؔ کا نام د نیا کے اعلیٰ درجے کے بڑے موسیقاروں میں اول نمبر پر ہوتا ۔ قدرتی طور پر خوش الحان افراد موسیقی میں جب ایک مرتبہ بھی اپنی آواز کا تجربہ کرتے ہیں تو اپنے لئے بے شمار مداح پیدا کرتے ہیں ۔ شباب کسی بھی سُر پر گھنٹوں ایسے کھڑے رہتے ہیں جیسے کوئی بازی گر کسی تنے ہوئے باریک رسی پر کھڑے ہو کر تماشائیوں کو انگشت بہ دندان کرکے دشمن سے بھی داد وصول کرتا ہے ۔ ہم نے اُن سے کبھی بھی یہ نہیں پوچھا کہ وہ گلے کو اتنا لوچدار رکھنے کیلئے کیا کھاتے اور کیا پیتے ہیں ۔ پینے سے قطع نظر ہم نے دیکھا ہے کہ کھانے میں انتہائی لا پراہ ہیں لیکن اس کے باوجود بھی گانے کی ابتدائی کھرج اتنی ہموار ہے کہ صبحان اللہ جیسے اُہ مہ ژان۔۔۔ژان ۔۔۔۔ ژان بلکہ یوں کہیے کہ سامنے والے کے دل کے تاروں کے ساتھ سرگوشی کر رہا ہوتا ہے ۔ اُدھر غالب ؔ جب خیال کے انتہا کو پہنچ جاتے ہیں تو کہتے ہیں ؂ آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں غالب صریر خامہ نوائے سروش ہے ۔ غالب کی طرح شاید شبابؔ کو بھی سُر اور لے کی نزاکتیں غیب سے آتی ہیں اور شاید اُن کے گلے سے بھی فرشتے کی آواز نکلتی ہو ورنہ کوشش سے انسان اپنے کام یا پیشے کو بہتر سے بہتر تو بنا سکتا ہے لیکن اُ س میں وہ فطری رنگ نہیں بھر سکتا جو ہر دیکھتی آنکھ کو خیرہ اور ہر سنتے کان کو متاثر کرسکے ۔
اُردو میں ایک مقولہ ہے کہ گھر کی مرغی دال برابر ۔ چترال میں ہمارے فنکاروں کے لئے یہ کہاوت درست نظر آتی ہے ۔ یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہمیں اور ہمارے طرز زندگی کو دوسرے لوگوں ، اقوام اور ممالک کے سامنے پیش کرتے ہیں یہی ہمارے اصلی سفارت کار ہیں لیکن اپنے علاقے میں اُن کی وہ عزت اور احترام نہیں جو دوسری جگہوں یا علاقوں میں ہے ۔ منصور شباب ؔ کی جتنی عزت گلگت بلتستان میں ہے اُتنا احترم کسی بھی سیاسی شخصیت ، مذہبی رہنما اور حکومت کے اعلی ٰ حکام کا اس علاقے میں نہیں ہے ۔ گلگت میں اگر کسی کو یہ معلوم ہو کہ شباب ؔ گلگت کے کسی گوشے میں روپوش ہیں تو سوال پیدا نہیں ہوتا کہ لوگ اُسے ڈھونڈ کر نہ نکال سکیں ۔mansoor-shababگلگت بلتسان میں شباب کے ارد گرد دوستوں اور مداحوں کا ایک ہالہ ہوتا ۔ رفقا ء ، مداح اور احباب کے ہجوم میں ہر قبیل کے لوگ ہوتے ہیں بڑے بڑے اور قد آور سیاسی راہنما، حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز افیسرز، یونیورسٹی کے طلبأ ، شعرا، ادیب اور دانشوروں کے علاوہ ایک آدھ مذہبی شخصیات بھی محفل کا حصہ بن جاتی ہیں ۔موصوف کی آواز کی میٹھاس کی وجہ سے آپ کی قدرو منزلت اور مرتبے کا اندازہ آپ اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں کھوار بولنے، سننے اور سمجھنے والوں کے علاوہ دوسری زبانوں کے بولنے والے لوگ بھی شباب ؔ کی آواز میں آپ کی زبان سے نکلنے والے تمام الفاظ کو اُسی ادائیگی اور حسن کے ساتھ گا گا کر زبان کو چسکا دیتے ہیں اور دیکھ کر اُن پر مقامی کھوار بولنے والوں کا گمان گزرتاہے ۔ یہ تقریباً سن دو ہزار پانچ کی بات ہے کہ جب آپ کی سحر انگیز آواز میں افضلؔ کی غزل ؂ پیسی مہ بغاؤ بیابانہ اچی گوسہ نو اشوران مڑاغ ہوئے اوانہ اچی گوسہ نو ، کی بازگشت گلگت بلتستان کے طول و عرض میں پھیل گئی ۔خوبی کی بات یہ ہے کہ شباب ؔ کی آواز نسوانی دنیا میں بھی اپنا لوہا منوا چکی ہے کیوں کہ ایک طرف شبابؔ کی قد کاٹھ اتنی متنا سب کہ کہیں بھی کوئی فتور نظر نہیں آتا۔ یہ پیکرسر تا پا اپنے مصور کے ہاتھوں کی خوبصورتی کا مظہر ہے :مسکراتے لب ، بھرے چہرے پر قدرے مختصر مگر نشیلی آنکھیں ، کشادہ ماتھا، یاقوتی رخسار ، جاذب نظر پٹھے اور لہجے کا میٹھا پن ایسا کہ جیسے کوئی منہ سے پھول جڑ رہا ہو۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو انسانوں کے ہر طبقے میں آپ کی عزت و احترام کی وجہ ہیں ۔ بلا تفریقِ جنس ، لڑکے ،لڑکیاں ، مردو زن، چھوٹا بڑا سب کی زبان پر شباب کا نام احترام سے آتا ہے ۔ ہم نے گلگت کے چائے خانوں میں ، بڑے بڑے ہوٹلوں میں ، گاڑیوں میں اور دکانوں میں دیکھا ہے جب کوئی تاریخی یا بڑے دن آتے ہیں تو بجائے شینا ، بروشسکی یا وخی و بلتی کے شباب کی آواز میں کھوار گانے بڑے بڑے لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے الاپے جاتے ہیں ۔ مجھے ایک دفعہ بڑی حیرت آمیز خوشی ہوئی کہ ہنزہ میں الیکشن کے دوران شباب کی سحر انگیز آواز میں اظہر کی غزل ؂ نذرانہ مہ ژان مہ ژان تہ غیچھان سور ہ ،کی تھاپ پر دوشیزائیں شبابؔ کے انداز سے گانے کے ساتھ ساتھ گا کر مستی میں رقصاں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اس سے بڑھ کر فخر کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ شبابؔ کی وجہ سے ہماری زبان کی راج ہو رہی ہے سچی بات یہ ہے کہ آج تک کسی سیاست دان ، مذہبی شخصیت ،دانشور یا کسی اور نے ہماری زبان یا علاقے کی وہ خدمت نہیں کی ہے جو منصور شباب ؔ نے اپنے رفقائے کارکے ساتھ مل کے کی ہے یا کر رہے ہیں ۔ یہ سب عام باتیں نہیں ہیں عمیق غور کی ضرورت ہے بلکہ یہ ہم سب پر اس فنکار کا قرض ہے جسے چکانے کی ضرورت ہے ۔ میں اس واقعے کا چشم دید گواہ ہوں کہ گلگت میں شباب ؔ اگر کسی بڑے محفل میں شرکت کرنے والے ہوں توگورنمنٹ کی مشینری حرکت میں آتی ہے کیوں کہ آپ کو سننے اور آپ کو ملنے کے لئے لوگوں کا سمندر امنڈ آتا ہے۔ ایسی ہی ایک محفل میں میں بھی گیا تو مجھے پولیس والوں نے شبابؔ سے ملنے سے روکے رکھا کیونکہ حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے کچھ اس طرح کے انتظامات کئے گئے تھے کہ فنکار کو لوگوں کے بڑے ہجوم کی وجہ سے کوئی دقت پیش آنے کا خدشہ نہ ہو۔ ہرملنے والے کی خوب چھان بین کی جارہی تھی ۔ لیکن اُس سال کی کسر کا ازالہ اِس سال خوب ہوا ۔کل کی بات ہے ، حُسن اتفاق بھی یہ ہوا کہ گل نواز خاکی ؔ کا کلام ؂ ہردیو آہَ ، جس میں شباب نے رباب کیساتھ اپنی آواز کا جادو جگا یا ہے، جب میں نے سنا تو میں بھی فرش اور عرش کے درمیاں پھنستا اورچھٹتا رہا آخر کار نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے شباب پر لکھنا پڑا سوچا کہ اس آواز پر اگر نہیں لکھوں گا تو قیامت کے دن اُس فرشتے کا زیر عتاب رہوں گا جنکا فرض کائینات کے خاتمے کا سُر بجانا ہوتا ہے یعنی وہ فرشہ جو کائینات میں تمام سازو آوا ز کا ذمہ دار ہے ۔ میں نے شبابؔ پر لکھنا شرع کیا ایک دو پیراگراف لکھے تھے کہ کمشنر ظفروقار تاجؔ بھائی کے گھر سے فون آیا ( وقار تاجؔ اور خالق تاجؔ کا رشتہ بیٹے اور باپ کا ہے دونوں قد آور شاعر ہیں اور دونوں چترال کے لوگوں ، چترال کی ثقافت ، چترال کی موسیقی اور چترال کی تہذیب کے دلدادہ ہیں یہ وہ خاندان ہے جن کی محبت کا سایہ میرے اُوپر بھی پدارانہ اور مدارانہ ہے ) معلوم ہوا کہ شبابؔ صاحب کچھ دوستوں کے ساتھ گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں ہیں جن کی میزبانی ظفر وقار تاجؔ اور عبد الخالق تاجؔ کر رہے ہیں اور ناچیز کو بھی دعوت دی گئی ہے ۔ میں نے لکھنے کا کام موقوف کیا اور سیدھا شباب ؔ کے پاس ٹپک پڑا ۔ یہ محفل مخصوص تھی ۔ گنے چنے لوگ تھے ۔ مجھے عجیب لگا کہ گلگت میں پہلی بار ہم شباب ؔ سے اتنی آسانی سے مل رہے تھے ۔
ہمیں بہت افسوس ہے کہ آج تک کسی بھی سیاسی پارٹی یا سیاست دان نے ہمارے فنکاروں کی قدر نہیں کی ہے ۔ فنکاروں کی محض ایک گانہ گانے والے سے زیادہ کوئی اور وقعت نہیں ہے۔ حالانکہ یہی لوگ ہیں جو ملک میں تبدیلی لاتے ہیں ۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر منصور شباب کا ڈومسائل گلگت کا بنادیا جائے اور الیکش میں کھڑا کیا جائے تو محفل موسیقی کی طرح الیکشن بھی لوٹ سکتا ہے ۔لیکن چترال میں اِن لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور ایسی ہی کئی ایک ہستیاں اپنے ساز و آواز سمیت آسودہ خاک ہو گئے ہماری قوم ان کی محبتوں کا صلہ نہیں دے سکی ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسی طبقے کے سُر تال کے دام میں سب کے سب اسیر ہیں مسئلہ اگر ہے تو وہ انا کا ہے کیوں کہ کسی کی عظمت کا کھلے دل سے اعتراف کرنا آسان کام نہیں ۔ لوگ یہ جاتنے بھی ہیں کہ کسی مذہبی شخصیت سے زیادہ یہ لوگ معاشرے کو اچھائی اور برائی کی طرف بڑی آسانی سے لے جا سکتے ہیں ۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی بے لوث محبت اور اپنی دل افروز اور سریلی آواز وں کے جادو سے ہر کس و ناکس کے دل میں گھر بسایا ہوا ہے ۔ حکومت اور ہمارے سیاسی نمائندوں کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ چترال میں ارٹس اور موسیقی کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی اور ترویج دینا وقت کا اہم تقاضا ہے تاکہ علاقے میں زیادہ بہتر ، زمہ دار اور باشعور قوم پیدا ہو ۔ معاشرے سے کدورت اور بے راہروی کے قلع قمع کے لئے ضرروی ہے کہ ہم موسیقی جیسی صحت مند سرگرمیوں کا اپنے معاشرے میں پرچار کریں اور زیادہ سے زیادہ جگہ دیں ۔ کوئی پلیٹ فارم ہو جس کے ذریعے منصور جیسے فنکار اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور معاشرے کو سنوارنے میں اپنا کردا ر آسان انداز اور احسن طریقے سے انجام دے سکیں ۔کچھ لوگوں کو موسیقی کی ترویج کے حوالے سے کی گئیںیہ باتیں ضرور بُری لگیں گی تاہم اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ موسیقی میں لوگوں کے دلوں میں گھس بیٹھنے کی جو طاقت ہے وہ دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں ہے ۔ اور جس انداز سے منصور شبابؔ موسیقی اور اپنی آواز کے ذریعے لوگوں کے دلوں کے اندر اپنے لئے مکان بنا لیتے ہیں اتنے بلند مقام کو چھونا ہر کسی کی بس کی بات نہیں ۔ اللہ عمر دراز کرے آمین

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق