ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد …….کماؤ پُوت ۔اکسائز انیڈ ٹیکسیشن

…………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……….
صوبائی محکموں میں اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو کماؤ پوت کہا جا تا ہے کیونکہ صوبائی محاصل کا بڑا حصہ اس محکمے کے ذریعے آتا ہے انگریزوں نے کالے لوگوں کی آسانی کے لئے اس محکمے کا نام محکمہ مال رکھا تھا اب بھی یہ نام گردش میں ہے تاہم انگریزی کاغذات میں انگریزی نام اکسائز اینڈ ٹیکسیشن دیپارٹمنٹ چل رہا ہے یہ محکمہ صوبے کا سب سے مالدار محکمہ ہے اس کے باوجود صوبائی سول سکرٹریٹ کے چار بڑے محکموں میں اس کا شما ر نہیں ہوتا اہم شخصیت اس کا قلمدان حوالہ نہیں ہوتا اہم افیسر اس کا سکرٹری یا ڈی جی نہیں لگایا جا تا اس کا درجہ فشریز ،زکوۃ وعشراور کو اپرییٹو کے محکموں کی صف میں کیا جاتا ہے جنرل فضل حق اور جنرل افتخار حسین شاہ صوبائی محکموں میں اصلاحات کئے تاہم اکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف ان کا دھان نہیں گیا انگریزوں کے زمانے اس محکمے کو وردی والے محکموں میں شامل کیا گیا تھا فوج ،پولیس ،جنگلات اور ASF کے بعد پانجواں محکمہ ہے جس کا حکام وردی پہنتے ہیں فوج میں وردی پہنے والے کو 6 سال بعد ترقی ملتی ہے پولیس میں 8سال بعد ترقی ملتی ہے جنگلات میں 12سال بعد ترقی ملتی ہے اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا سپاہی ،اسسٹنٹ سب انسپکٹر ،سب انسپکٹر،انسپکٹر اور ٹیکسیشن افیسر 28سال یا 30سال سروس کے بعد اُسی گریڈ میں ریٹائر ہو جاتا ہے جس گریڈ میں بدقسمتی سے بھرتی ہوا تھا ان کا کوئی سروس سڑ کچر نہیں ہے وردی والے محکموں میں 30سپاہیوں پر 5اے ایس آئی دو سب انسپکٹر اور ایک انسپکٹر ہوتا ہے محکمہ اکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں 50انسپکٹر ،4سب انسپکٹر ،ایک اے ایس آئی اور دو سپاہی رکھے جاتے ہیں سروس کا کوئی تناسب نہیں افیسر اور سپاہی میں کوئی مناسبت نہیں ہے اندھیر نگری چوپٹ راج ہے اب تک کسی نے اس محکمے کی تنظیم نو یا ری سٹر کچر کے بارے میں نہیں سوچا اسمبلی میں کسی رکن نے اس حوالے سے تحریک نہیں اُ ٹھا ئی کابینہ میں کسی وزیر نے اس پر نکتہ نہیں اُٹھایا اور صوبائی حکومت کا سب سے مالدار محکمہ بد حالی کا شکا ر ہے قابل اور دیانت دار افیسر اگر اکسائز اینڈ ٹیکسیشن میں آتا ہے تو دو چار سالوں کے اندر ہاتھ پاوں مارکر اس محکمے سے نکل جاتا ہے یہاں تک پی ایم ایس کے ذریعے آنے والے افیسر بھی اس محکمے میں نہیں ٹھہرتے باہر سے دیکھا جائے تو اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا محکمہ بہت اہم معلوم ہوتا ہے مگر اندر سے دیکھا جائے تو یہ محکمہ بد حالی سے دو چار ہے کسمپرسی کا شکا ر ہے آج کل مروجہ فیشن کے مطابق صوبائی حکومت کی دو جماعتیں پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی الگ الگ ہوکر ملک میں کرپشن کے خلاف مہم چلا رہی ہیں اگر چہ اس مہم پر دونوں کا اتفاق نہیں ہے تاہم مہم چل رہی ہے اکسائز اینڈ ٹیکشیشن کے محکمے کو دونوں نے میراثی کا ہاتھی بنا لیا ہے مشہور واقعہ ہے مہاراجہ رنجیت نے میراثی سے خوش ہوکر اپنا سب سے قیمتی ہاتھی اسکو انعام دیدیا لوگوں نے میراثی کو مبارک باد دی مگر میراثی کی بیوی نے کہا ارے کمبخت اپنے اوقات دیکھو !مہاراجہ کی ہاتھی کو کیا کھلاو گے مہاوت کا خرچہ کہاں سے لاو گے دودھ اور شہد سے اس کو دھویا جاتا تھا تم اس کودھلانے کا کیا بندو بست کر و گے ؟ہاتھی مہاراجہ کو واپس کرو اور دو وقت کی روٹی کا مطالبہ کرو بیوی کی باتیں سن کر میراثی بولا !ارے پگلی تم فکر مت کرو میں ایسا نتظام کرونگا کہ ہاتھی خود کمائے گا ہمیں بھی کھلائے گا اپنے لئے بھی خوراک اور مہاوت کے خرچے کا معقول بندوبست کرے گا میراثی نے ہاتھی کے دونوں کانوں کے ساتھ ڈھولک باندھ دئیے سونڈ کے ساتھ بھی ڈھولک لگا دیا دم کے ساتھ بھی ڈھولک باندھ دیا اور ہاتھی کو چو راہے پر لاکر کھڑا کیا بچے جمع ہو گئے مہاو ت کو آنہ ،پیسہ ،روپیہ دے کر ہاتھی کے ڈھولک بجنے کا تماشہ کرنے لگے دور دراز دیہات پر یہ با ت پھیل گئی اور دور دور سے لوگ بچوں کو لیکر تماشا دیکھنے کے لئے آنا شروع ہوئے دولت بر سنے لگی ہاتھی نے اپنا خرچہ بھی پورا کیا ، میراثی کو بھی کھلانے پلانے لگا خیبر پختونخوا میں اب تک کرپشن کے خلاف مہم چلانے والے لوگ اقتدار میں نہیں آئے تھے اب اللہ پاک کے فصل و کر م سے صوبائی حکومت میں شامل دو بڑی جماعتیں کر پشن کے خلاف مہم چلا رہی ہیں مگر محکمہ مال کو دونوں نے میراثی کا ہاتھی بنا لیا ہے خوب کماؤ ،خود کھاؤ مجھے کھلاؤ سروس سٹرکچر ،ترقی اور دیگر مرا عات کا ذکر زبان پر مت لاؤ اگر کھانا اور کھلانا پسند نہ ہو تو کسی دوسرے محکمے میں جاؤ ،ہمار ا دماغ خراب نہ کرو اب یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر صوبائی اسمبلی میں تحریک آنی چاہئے سر دار حسین بابک،صاحبزادہ ثناء اللہ اور مولانا لطف الرحمن کو اس پر آواز اُٹھا نا چاہئے اور نگ زیب نلوٹھا کو بھی آگے آنا چاہئے گزشتہ 10سالوں کے اندر تین حکومتوں نے سرکاری محکموں میں کئی کیڈروں کو سروس سڑکچر دیا محکمہ تعلیم ،محکمہ بلدیات ،محکمہ خزانہ ،محکمہ جنگلات اور محکمہ صحت کے ملازمین کو سروس سڑکچر ملا جائز مراعات مل گئیں پوسٹوں کی اپ گریڈیشن ہوئی محکمہ اکسا ئز اینڈ ٹیکسیشن میں کچھ بھی نہیں ہوا اب صوبائی حکومت کو ڈیڑھ سال رھ گئے ہیں آنے والے دنوں میں کماؤ پوت یعنی اکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے کی ری سڑ کچر نگ کی گئی ملازمین کو وردی کے ساتھ سٹر کچر دیا گیا تو ہم کرپشن کے خلاف مہم کے قائل ہو جائینگے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق