تازہ ترین

چترال ضلع کونسل کا اجلاس،کئی قراردادوں کی منظوری

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) ضلع کونسل کا اجلاس منگل کے روز ایوان کو چلانے کے لئے اصول وضوابط پر مشتمل بائی لاز کی منظوری دینے، مختلف محکمہ جات اور اداروں کی کارکردگی اور ان میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کے لئے بننے والی کمیٹیوں کی رپورٹوں پر غور کرنے اور کئی قراردادوں کی منظوری کے بعد غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئی۔ کنوینر مولانا عبدالشکور کے زیر صدارت اجلاس جب شروع ہوا تو بائی لاز کو منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیا گیا لیکن کھوت کے شیر عزیز بیگ (پی پی پی) نے کہاکہ پہلے ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر بات کی جائے جس کی اجازت نہ ملنے پر ایوان سے واک آوٹ کرگئے جس پر تحریک انصاف کے ارکان کونسل بھی ایوان سے باہر چلے گئے جبکہ برسراقتدار پارٹی ہونے کے باوجود جماعت اسلامی کے چند ارکان بھی واک آوٹ کا حصہ بن گئے ۔ کنوینر کی درخواست پر امیر جماعت اسلامی مولانا جمشید احمد ایک گھنٹہ تک ان سے گفت وشنید کے بعد ان کو ایوان میں واپس لانے میں کامیاب ہوگئے۔ وقفے کے بعد مولانا محمود الحسن (دروش I) اور کسان کونسلر رحمت الٰہی نے محکمہ صحت کے بارے میں سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کی جس میں گزشتہ سال ڈیزاسٹر کے لئے خریدے گئے ادویات اور اس سال کے اوائل میں محکمے میں کلاس فور وں کی تعیناتی کے بارے میں بے قاعدگیوں کی تصدیق کی۔ رحمت غازی خان (پی ٹی آئی) نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں سب کمیٹی کی رپورٹ پیش کردی اور محکمے کی کارکردگی پیش کی جس پر مجموعی طور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا جبکہ سول چینلوں کی مرمت کو بھی محکمے کو تفویض کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی طرح محکمہ جنگلات میں تعیناتیوں کے بارے میں ارندو کے شیر محمد نے رپورٹ پیش کی جس پر کنوینر نے کہاکہ اب یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے لہٰذا اس پر مزید بحث نہیں کی جاسکتی۔ لینگ لینڈز سکول کے بارے میں غلام مصطفٰی نے رپورٹ پیش کیا جس پر ابتدائی بحث کے بعد کنوینر نے مزید تفصیلات کے ساتھ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ اس موقع پر پیش کردہ قراردادوں میں دیار کی لکڑی سے بنے ہوئے فرنیچروں کو ضلع سے باہر لے جانے پر پابندی لگانے کی رحمت الٰہی کی طرف سے،ایل پی جی کی قیمتوں کو حکومتی نرخنامے کے مطابق رکھنے کی محمد یعقوب کی قرارداد، ضلعے کے دوسرے علاقوں سے ارندو جانے والوں کو صرف شناختی کارڈ کی بنیاد پر ارندو جانے کی اجازت دینے کی شیر محمد کی قرار داد اکثریت رائے سے منظور کرلئے گئے۔ ضلع کونسل سے باہر مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے پی ایم ایل سے تعلق رکھنے والے رکن کونسل شہزادہ خالد پرویز نے کہاکہ ویمن ڈیویلپمنٹ کی مد میں 62لاکھ روپے میں سے مستوج سب ڈویژ ن میں ایک پائی بھی نہیں رکھی گئی اور سپورٹس کے مد میں 55لاکھ روپے میں سے مستوج سب ڈویژن کو صرف 5لاکھ روپے دے کر اور اپنے من پسند حلقوں میں ترقیاتی فنڈزذیادہ مختص کرکے ناانصافی کی ہے جس پر وہ عدالت جانے کے اپشن پر غور کررہے ہیں۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق