محمد صابر

قرآن وسنت کی بالادستی ـــــــــــ ِاسے کہتے ہیں عدل  ِاسے کہتے ہیں انصاف 

ـ ـ ـ ـ ـ ـ  محمد صابر گولدور چترال ـ ـ ـ ـ ـ ـ
دنیا میں جہاں کہی بھی عدل و انصاف اور قانون کا نام آتا ہے فوراً ہی میرے دل و دماغ میں ایک مقدس ملک کا نام آتا ہے ـ جزیرہ نما عرب جی ہاں میں ( المملکت السعودیة العربیة ) سعودی عرب کی بات کر رہا ہوں  ـ جس کے متعلق  بچپن ہی  سے بہت کچھ مثبت  سنتے آئے ہیں ـ جہاں قانون کا بول بالا ہے باوجود بادشاہی نظام کے جہاں کی عوام خوشحال اور ریاست سے مطمئن دیکھائی دیتے ہیں ـ اگر یہ کہا جائے کہ سعودی بادشاہت کسی بھی خطے اور ملک کی نام نہاد جمہوریت سے ہزار گنا بہتر ہے تو اس میں کوئی  مبالغہ آرائی نہیں  ـ باقی دنیا میں جہاں بھی جمہوریت ہے لوگ جمہوریت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے جمہوریت کو موجودہ وقت کا  پسندیدہ طرز حکمرانی کا نام دیا جاتا ہےـ مگر جمہوری نظام کے جو لوازمات ریاست اور ریاست کے شہریوں پر عائد ہوتے ہیں ان کے ساتھ بہت برا برتاؤ کیا جاتا ہے  ـ خاص کر ایشیائی ممالک میں جمہوریت کو کرپشن کے آگے بطور ڈال استعمال کیا جاتا ہے اور جب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہاتھ کرپٹ عناصر کی گریبان تک پہنچتا ہے تو ہر طرف سے ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ جمہوریت کو خطرہ ہے جمہوریت کو بچانا ہے  ـ
ابھی کچھ ہی دنوں کی بات ہے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز نے عوام کے ساتھ ایک نشست میں ایسی باتیں کہہ دی کہ باقی 57 اسلامی ممالک کے سربراہوں کے سر شرم سے جھک جائے ـ بادشاہ سلمان نے کیا کیا کہا ملاحظہ فرمائے:
   ” کوئی بھی عام شہری میرے یا حکومت اور شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف عدالت کا  دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے ـ کیونکہ الحمد الله ہمارا دستور و قانون قرآن وسنت ہےـ میں مثال کے طور پر ایک واقعہ ذکر کرنا چاہوں گا کہ ایک عام شہری نے میرے والد شاہ عبد العزیز کے خلاف عدالت میں  مقدمہ دائر کیا اس وقت کے قاضی سعد بن عتیق نے شاہ عبد العزیز کو عدالت طلب کیا اور ایک جیسے کٹہرے میں کھڑا کرکے فیصلہ کیا اور اس بات کی پرواہ نہ کی کہ میرے سامنے شاہ عبد العزیز( بادشاہ ) کھڑے ہیں کیونکہ قرآن وسنت کے نفاذ کا یہ طریقہ ہےـ اب کوئی بھی عام شہری میرے خلاف حکومت کے خلاف یا شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف مقدمہ کرسکتا ہے کیونکہ الحمد ﷲ ہمارا قانون قرآن و سنت اور خلافائے راشیدین کا عمل ہے ـ “
اس واقعے کے علاوہ حال ہی میں دنیا کے مشہور و معروف اخبارات میں ایک خبر شائع ہوئی کہ  سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض  میں ایک دل موہ لینے والا واقعہ رونما ہوا جس کو عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی  کا تعبندہ اور درخشاں  مثال کہا جاسکتا ہے ـ ہوا کچھ یوں کہ سعودی عرب کے  بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کا بھتیجا شاہی خاندان کا چشم و چراغ شہزادہ ترکی بن سعود الکبیر دولت کے نشے میں مغرور شراب کباب کی لت میں مست اپنے دوست المحیمید کو قتل کرتا ہے ـ  پولیس کا قاتل کی  گرفتاری کے بعد عدالت بغیر کسی دباؤ اور شاہی مداخلت کے بغیر اور مکمل آذادی کے ساتھ  شہزادے کو قصاص کے طور پر سزائے موت کا فیصلہ سناتی ہے ـ جب یہ خبر عام ہوجاتی ہے تو شاہی خاندان کے ارب پتی کھرب پتی افراد اس شہزادے کو قتل سے بچانے کےلیے ریال سے بھرے بریفکیس بھر بھرکر دیت کی منہ بھولی رقم دینے کےلیے تیار نظر آتے ہیں مگر  مقتول کا خاندان دیت لینے سے صاف انکار کرتا ہے ـ  اور 18 اکتوبر 2016 کو قاتل شہزادے شاہی خاندان کے چشم و چراغ کا سر قلم کردیا جاتا ہے ـ اس کو کہتے ہیں انصاف اس کو کہتے ہیں عدل ـ  ایک ہمارا معاشرہ ہے جہاں انصاف لینے کےلیے آپ کو 20 سال 30 سال عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے  ہیں  ـ بعض دفعہ تو ساری ساری عمرے عدالتوں کی نظر ہو جاتی ہیں ـ کیا یہ ممکن ہے ہمارے ملک کے حکمران سعودی بادشاہ کی طرح خود کو احتساب کےلیے پیش کر سکے؟ کیا کوئی عام شہری ملک کے حکمرانوں کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے ؟  جہاں تک میرا خیال ہے یہ  صورتحال ہمارے ملک میں تقریبا ہی ناممکن ہے ـ یہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے عوامی نمائندگان قرآن و سنت سے واقف ہوں اور ملک کی  آئین اور دستور کو قرآن و سنت سے ہم آہنگ کرے ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق