ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا لبصحرا ………سپیشل پولیس فورس

………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………..


ایک بم دھماکے میں پولیس کے دو سپاہی شہید ہوئے ایک کی ماہانہ تنخواہ 45ہزار تھی دوسرے کی تنخواہ 15ہزار روپے تھی 45ہزار تنخواہ والے کو پنشن ،فیملی پنشن اور دیگر مراعات بھی دیدی گئیں 15والے مشاہر ہ والے کو مزدور کی طرح دفن کیا گیا مہینے کی 17 تاریخ تھی 17دنوں کی تنخواہ بحساب 500 روپے یومیہ اُس کے گھر بھیجدی گئی اب اُس کی بیوہ اور یتیم بیٹا گھر کی دیوار پر لٹکی ہوئی وردی کو دیکھ کر افسردہ ہوتے ہیں اگر یہ شخص پولیس کی مراعات کا حقدار نہیں تھا تواس کو پولیس کی وردی کیوں پہنائی گئی تھی پشاور ،بنوں،نو شہرہ ،ہنگو،سوات اور شانگلہ سمیت دور دراز اضلاع میں خیبر پختونخواکی پولیس کے دو طرح کے جوان ڈیوٹی دیتے ہیں جن کو فورس تنخواہ اور مراعات ملتی ہیں وہ پولیس فورس کہلاتے ہیں جن کو یومیہ مزدوری یا ڈیہا ڑی پر رکھا گیا ہے ان کو پولیس کی مراعات نہ زندگی میں ملتی ہیں نہ زخمی ہونے پر ملتی ہیں اور نہ یہ مراعات شہید ہونے کے بعد ملتی ہیں گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے صوبے میں ترقیاتی کام بند ہیں معیشت تباہ ہو چکی ہے غربت اور بے روز گاری کی شرح میں 20فیصد اضافہ ہوا ہے اس لئے بے روزگار نوجوان 500روپے یومیہ اجرت پر پولیس کی وردی پہن کر بھاری مراعات یا فتہ اور تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہیں بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو علم ہے کہ پولیس سٹیشن میں دو طرح کے سپا ہی کام کرتے ہیں اس لئے بھارت جب دہشت گردی کی واردات کرتا ہے تو دونوں کو نشانہ بناتا ہے وہ پولیس کی وردی کو نشانہ بنا تا ہے اگلے بھارتی اہلکار فاتحہ کے لئے دونوں جگہ پہنچتا ہے دونوں کے جذبات کو ریکارڈ کر تا ہے اور تصویر یں لیکر اپنے بوس Boss کو بھیج دیتا ہے یہ تصویریں دہلی اور کابل پہنچتی ہیں تو دہشت گرد گروہ کو معاوضہ مل جاتا ہے جو پولیس کے شہداء پیکچ سے دوگنا ہوتا ہے جس پولیس کو یومیہ مزدوری پر رکھا گیا ہے شہداء پیکچ سے محروم کیا گیا ہے زخمی اور معذور ہو نے پر علاج معالجہ کی سہولت سے محروم کیا جاتا ہے وہ سپاہی ’’سپیشل پولیس فورس ‘‘سپاہی ہوتا ہے کتنا زبر دست نام ہے’’ سپیشل پولیس فورس‘‘انگریزی کے لفظ specialکو ہماری حکومت نے مذا ق بنایا ہوا ہے اس لفظ کا ترجمہ بنتا ہے خاص اور خاص الخاص یعنی بہت ہی برتر اور اعلی دفتروں میں جو افیسر سب کو نا پسند ہوتا ہے جس کو وزیر ،ایم این ایے یا ایم پی اے کرپشن کی راہ میں روکاوٹ قرار دیتا ہے اس کو کسی عہدے پر نہیں رکھا جاتا وہ جہاں بھی جائے گا کرپٹ سیاستدان کے لئے قانون کی رکاوٹیں کھڑی کرے گا ایسے افیسر کو تنخواہ اور مراعات دیکر گھر بھیجا جاتا ہے دفتر ی کا غذات میں لکھا جاتا ہے اس کو افیسر آن سپیشل ڈیوٹی (OSD) لگایا دیا گیا گویا اس لفظ کو سپیشل کے اُلٹے اور برعکس معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے جس کو ڈیوٹی سے فارغ کیا گیا اس کی نئی ڈیوٹی کو سپیشل ڈیوٹی کا نام دیا گیا اس طرح پولیس کے جس سپاہی کو مراعات تنخواہ ،پنشن ،علاج معالجہ کی سہولت اور شہداء پیکج سے محروم کیا گیا اُس کا نام رکھا ’’سپیشل پولیس فورس ‘‘جب بھی پولیس کی مراعات کا ذکر ہوتا ہے سہولتوں کا ذکر ہوتا ہے پولیس حکام گریڈ 18سے اُو پر دیکھتے ہیں ایس پی ،ایس ایس پی ،ڈی آئی جی اور اے آئی جی کی مراعات کو دیکھتے ہیں آئی جی کو حاصل مراعات میں اضافہ کرتے ہیں نومبر کی سرد راتوں میں ،دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں کو منفی 4درجہ سنٹی گریڈ میں بازار کے کسی چوک ،کسی دفتر ،کسی ریسٹ ہاوس یا کسی بڑے بنگلے کے باہر ڈیوٹی دینے والے سپاہی ،اے ایس آئی ،انسپکٹر یا ڈی ایس پی کے مراعات کا ذکر کبھی نہیں ہوتا میں نے منگورہ ،بٹ خیلہ ،تیمرگیرہ اور چترال کے بازاروں میں رات کی ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں چار چار اور دو دو کی ٹولیوں میں ڈیوٹی دینے والے سپا ہیوں کو دیکھا ہے ان میں سے 3سپا ہی عام فورس کے ہوتے ہیں 25ہزار روپے سے اوپر تنخواہ لیتے ہیں پنشن کے حقدار زندہ سلامت ریٹا ئرہوئے تو پنشن ملے گی بھارتی درندوں کے مقابلے میں دہشت گر دی کی کسی وارادات میں زخمی ہوئے تو سرکاری خرچ پر علاج ہوگا اور وطن کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں شہید ہوئے تو شہید کا خصوصی پیکج ملے گا بازار کی ڈیوٹی میں ہر رات ایک سپاہی وہ ہوتا ہے جس کو رات دن ڈیوٹی کے لئے 500روپے یومیہ مزدوری ملتی ہے یہ سپیشل پولیس فورس کا سپا ہی ہے کسی طرح کی مراعات کا حقدار نہیں اگر شہید ہوا تو مزدورمرا اس کا کوئی حساب پولیس پرواجب الادا نہیں بقول فیض احمد فیض ؔ
نہ مدعی نہ شہادت حساب پاک ہوا
یہ خون خاک شیناں تھا رزق خاک ہوا
حسا ب لگانے والے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت کے ڈیڑ ھ سال رہ گئے خیبر پختونخوادبنگ آئی جی پی اگلے سال ریٹا ئرمنٹ لینے والے ہیں ہوسکتا ہے دو سال کی توسیع مل جائے دونوں صورتوں میں وقت کم ہے کام بہت زیادہ ہے دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کیلئے سپیشل پولیس فورس کے نام سے جو بھرتیاں کی گئی تھیں ان کو عام پولیس کی طرح تنخواہ ،پنشن ،میدیکل کور اور شہداء پیکج دینے کے لئے خصوصی احکامات کی ضرورت ہے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے جو حکومت اور جو فورس اپنے سپا ہی کے ساتھ انصاف نہ کر سکے وہ عوام کو کیا انصاف فراہم کرے گی اُس حکومت اور اُس پولیس سے انصاف کی توقع کیونکر رکھی جائے گی حکومت کا فرض ہے کہ سپیشل پولیس فورس کی تنخواہ یا سروس سٹرکچر اور مراعات دیدے اور دہشت گردوں کے مقابلے میں ان کی قربانیوں کا اعتراف کرے یہ انصاف کا کم سے کم تقاضا ہے مگر سو ملین ڈالر والا سوا ل یہ ہے کیا ہم تحریک انصاف سے کسی انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں؟
مٹ جائیگی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو حشراب اُٹھا کیوں نہیں دیتے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق