تازہ ترین

ایون کی ادبی تنظیم “انجمن شمع فروزان ” کے زیر اہتمام مشاعرہ کا اہتمام

چترال ( نمایندہ چترال ایکسپریس) ایون کی ادبی تنظیم “انجمن شمع فروزان ” کے زیر اہتمام انجمن ترقی کھوار چترال کے سابق صدر اور چترال کے ممتاز شاعر و ادیب صالح نظام صالح کی طویل عرصہ امریکہ میں قیام کے بعدواپس آنے پر اُن کے ساتھ شام گزارنے اور معروف نوجوان شاعر مقبول قاد ر پروانہ کی دعوت پر اُن کی شادی کی خوشی میں ایک پُر وقار مشاعرہ اُن کے گھر واقع درخناندہ ایون میں گذشتہ رات منعقد ہوا ۔ اس محفل کے مہمان خصوصی مہمان شاعر صالح نظام صالح تھے ۔ جبکہ صدارت کے فرائض سینئر شاعر اور صحافی محکم الدین محکم نے انجام دی ۔ محفل مشاعرے میں ایون کے مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ شعراء نے شرکت کی ۔ اور پہلی نشست میں طرح مصرعہ میں اپنے کلام پیش کئے ۔جس میں دیگر معاشرتی مسائل کو موضوع کلام بنا نے کے ساتھ ساتھ دُلہا اور اُس کے خاندان کیلئے نیک جذبات اورتمناؤں کا اظہار کیا ۔ شعراء نے ایک سے بڑھ کر ایک کلام پیش کرکے محفل لوٹ لی ، اور حاضرین سے خوب داد وصول کی ۔ دوسری نشست غیر طرحی کلام کیلئے مخصوص تھا ۔ جس میں بھی کئی شعراء نے اپنے کلام پیش کئے ۔ مشاعرے میں ممتاز شاعر صالح نظام صالح ، محکم الدین محکم، محمد اصغر شیدائی ، نواب خان آرزو ، رحمت آیاز فراق ، مقبول قادر پروانہ ، صفی اللہ اصفی ، سلمان فارسی ، عبدالصمد صابر اور دیگر شعراء نے اپنا کلام پیش کیا۔ بعد آزان مہمان خصوصی اور صدر محفل نے مشاعرے کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے نوجوان شعراء کی صلاحیتوں کو سراہا ،اور خیالات کی پختگی اور بُلندی کی تعریف کی ۔تاہم انہوں نے سینئر شعراء سے اصلاح لینے کے عمل کو مستحسن قرار دیتے ہوئے کہا ۔ کہ اصلاح لینا کوئی عیب کی بات نہیں ۔ بلکہ یہ شاعری کا جزو لاینفک ہے ۔ انہوں نے اس امر پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ چترال میں انجمن ترقی کھوار جیسا مضبوط ادبی تنظیم کا شیرازہ باہمی اختلافات کی وجہ سے بکھر گیا ہے ۔ اور مختلف ناموں سے چھوٹی ٹکڑیوں میں ادبی انجمنیں قائم کی گئی ہیں ۔ ادب کی ترقی کیلئے مثبت اختلاف قابل قدر ہے ۔ لیکن اختلاف برائے اختلاف زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اب چترال شہر سے پھیلنے والے ادب کے اختلافی جراثیم کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے ۔ اور ایون جیسا ادبی قصبہ بھی اس کی لپیٹ میں ہے ۔ صالح نظام صالح نے اس عزم کا اظہار کیا ۔ کہ تمام ادب کے ساتھیوں کو پھر سے ایک پلیٹ فارم میں لانے کی کوشش کی جائے گی ۔ تاکہ ہر ٹولی کو ادب کے گلستان کو نوچ کر اسے ویرانے میں تبدیل کرنے سے بچایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جو لوگ ادب کے چمن کو ویران کرنے کی کو شش کرتے ہیں ۔ اُن کے دل میں مسرت و شادمانی کے بہار نہیں آیا کرتے ۔ محفل مشاعرہ کے اختتام پر روایتی چترالی موسیقی کی محفل بھی جمائی گئی ۔


اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق