محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان…… ’’بیٹا اور بیٹی ‘‘

…………محمد جاوید حیات

Advertisements

’’اپنے شوہر سے کہنا کہ مجھے جوتے خریدنے کے کچھ پیسے دے دے ورنہ واپس آکر تم لوگوں کو سبق سیکھاؤں گا ‘‘
’’امی ابو سے کہنا کہ مجھے عید کے لئے کپڑے نہ خریدے میرے پاس چھوٹی عید کے کپڑے ہیں بلکل نئے ہیں ۔۔ابو کے پاس پیسے کم ہونگے ‘‘۔۔
پہلا جملہ میرے بیٹے کا ہے اور دوسرا جملہ میری بیٹی کا ہے ۔میں مجبورا بیٹے کے جوتے کے پیسے اس کی امی کو تھما دیتا ہوں ۔۔بیٹی کو بھول جاتا ہوں احساس تک نہیں ہوتا کہ اس عید کو بیٹی کے لئے کچھ نہیں خریدا ۔۔صبح تڑکے اٹھتا ہوں دیکھتا ہوں ۔تو بیٹی چنور ہاتھ میں لئے برآمدے کی صفائی کر رہی ہے ۔ناشتے پہ خالی چپاتی کے ساتھ چائے پی رہی ہے ۔بیٹا سویا ہوا ہے ۔۔دس بجے اٹھ کے مووٹ بنا کے ا نڈے کے ساتھ ناشتہ کرے ۔۔ صاف کپڑے پہنے چمکتے جوتے پہنے اور باہر نکلے ۔ماں ڈرے ،باب ڈرے ،بہنییں ڈریں ،گھر میں سب ڈریں ۔۔اس کی بلند پروازی ،اس کی صاحب نظری ،اس کا سٹا ئل ،اس کی پوشاک ،ذلفوں کی بوقلمونیاں ،بھویں سکیڑنا چھڑانا ،ماں باپ کی باتوں پر ناک بھوں چھڑانا ،با ڈی لیگویج ،سر کو جھٹکا دینا ،مو بیل کے ساتھ کھیلنا ،انگریڑی لفظوں کا استعمال ،بار بار ہاتھ بالو ں پہ پھیرنا،کھانے کے دوران مسیج کرنا ،شیخیاں بھرنا ،اٹھلانا ،خوشہ چینیاں کرنا ،سب کی شکایت کرنا ،سب کو اپنے سے پست تصور کرنا ۔۔یہ میرا بیٹا ہے ۔۔یہ اس کی خصلتیں ہیں ۔آپ کہیں گے کہ میری تربیت میں کمزوری ہے ۔میرے پاس کوئی جواب نہیں ۔اس کی ماں اس کے سامنے بات نہیں کر سکتی ۔۔میں مجبورا منہ لٹکائے بھیٹتا ہوں ۔۔۔۔ہم نے پہلے اس کی پیدائش کے خواب دیکھے ۔۔پھر اس کے بچپن اور جوانی کے خواب دیکھے ۔ہمارے خوابوں کا سلسلہ طویل ہے ۔۔اس کی تعلیم و تربیت کے خواب ،اس کے امتحانات کے خواب ،اس کے آفیسر بننے کے خواب ،گھر سنبھالنے کے خواب ،اس کے پاس چمکتی گاڑی کے خواب ۔۔خوابوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ۔۔مگر ہم نے بیٹی کے لئے کوئی خواب نہیں دیکھا ۔لیکن خوابوں کا شہزآدہ اتنے خواب دیکھنے کے باوجود بھی کسی خواب میں نہیں آیا ۔۔مگر کوئی خواب نہ دیکھنے کے باوجود خوابوں کی شہزآدی سہانے خوابوں کی تعبیر بن گئی ۔۔اس کی محبت کبھی انسو بن کر اس کی آنکھوں میں آگئی کبھی الفاظ بن کر اس کے لبوں پہ آگئی ۔۔اس کا احترا م کبھی بوسہ بن کر ہاتھوں پہ لگی ۔۔کبھی تعظیم بن کر پاؤں سے لگی ۔کبھی خلوص بن کر سینے سے لگی کبھی دعا بن کر دل کو لگی ۔۔یہ عجیب اتفاق ہے ۔دونوں میرے جگر کے ٹکڑے ہیں ۔میرے جسم کے حصے ہیں ۔میرے دل ہیں ۔۔مگر ایک اپنی ایک پرایا ۔۔ایک دل ہو کر دل سے جدا ۔۔ایک صرف خیالوں میں رہتے ہوئے خواب ۔۔۔ہاں عجیب اتفاق ہے ۔۔ایک بے توجہی پاکر محبت کی چٹان ۔۔ایک توجہ پاکر بے وفائی کی مثال ۔۔غلطی میری ہے ۔۔میری توقعات مجھے لے ڈوبے ۔۔میں نے بیٹا مانگا ۔۔صالح اولاد نہیں مانگا ۔۔میں نے صرف خواب دیکھا ۔۔اس کی تعبیر کے لئے جد وجہد نہیں کی ۔۔میری امیدیں میرے بیٹے تک گئیں ۔توکل کی منزل تک نہیں پہنچ سکیں ۔۔میرے بیٹی کو نظر انداز کر گئیں ۔۔میں نے غلط کمایا بیٹے نے اڑایا ۔۔میں نے بیٹی کو پھول نہیں سمجھا اس کی حیرا ن آنکھوں میں موجود محبت کو نہیں پڑھا ۔۔اس کے اس معصوم ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بوسہ نہیں دیا جو میرے بوٹ پالش کر رہے تھے ۔۔اس کی محبت درد بن گئی ۔۔میں نے محسوس تک نہیں کیا ۔۔وہ ٹوٹ گئی بکھر گئی ۔۔مجھے خبر تک نہ ہوئی ۔۔میں نے اس کو کبھی رحمت نہیں سجھا ۔۔۔اس لئے کہ ناشکرا ہوں ۔۔۔ اس لئے بیٹے کے ناز اٹھانا پڑتا ہے ۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى