ارشاد اللہ شاد

رُموز شادؔ ۔۔’’اسے مت پڑھیں‘‘

۔۔ تحریر۔۔ارشاد اللہ شادؔ ،،، بکرآباد چترال
……….’’ اسے مت پڑھیں‘‘


جی ہاں ….! اسے مت پڑھیں، لیکن آپ اسے ضرور پڑھیں گے بلکہ آپ اسے پڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ اسے نہ پڑھیں ، جہاں لکھا ہوگا، پھول توڑنا منع ہے ، آپ وہاں سے پھول ضرور توڑیں گے بلکہ پھولوں کا گلدستہ بھی بنائیں گے۔ جہاں لکھا ہوگا ، ہارن بجانا منع ہے ، وہاں آپ ضرور ہارن بجائیں گے ۔ جہاں درج ہوگا ، سگریٹ پینا منع ہے ، وہیں آپ سگریٹ کے دھواں لوگوں کے چہروں پر پھونکیں گے۔ افسوس کہ اوپر یہ ہدایت لکھی ہے کہ اسے مت پڑھیں ، لیکن آپ پڑھتے ہی جارہے ہیں بلکہ اب تو پوری عبارت پڑھ بھی چکے ہیں ، لگتا ہے ، آپ کسی بھی ہدایت پر عمل کم ہی کرتے ہیں ۔ آپ کو قانون توڑنے میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔کیا آپ کسی ہدایت پر عمل کرنا نہیں سیکھ سکتے ؟
انسان بھی عجیب شئے ہے جس چیز سے اس کو منع کیا جاتا ہے وہ جان بوجھ کر کر ڈالنے میں خوشی محسوس کرنے کے باوجود اوپر سے فخر بھی محسوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ہے۔ہاہاہاہا کیا لطیفہ ہے اب ہنسنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑے گا جناب!
چل ایک بار پھر کہتا ہوں کہ اسے مت پڑھیں لیکن آپ نے تو پڑھنا ہی ہے چل پھر سن ۔ ایک دوست (بیمار دوست سے ) اب آپ کا کیا حال ہے؟ دوسرا: بخار ٹوٹ گیا ، کمر درد باقی ہے ۔پہلا: فکر نہ کرو وہ بھی ٹوٹ جائے گی۔ہاہاہا قہقہہ نہیں صرف مسکراہٹ ۔۔ کیونکہ مسکراہٹ وہ تازگی ہے جو اندر کی سوئی ہوئی بیداری کو جگاتا ہے۔ اب مسکرانے کی تاکید کروں گا لیکن آپ ماننے کیلئے تیار نہیں ہونگے بالکل۔ جس چیز کوکرنا ہے وہ ہم نے قسم کھا کر نہیں کرنا ہے ۔ عجیب شئے کی خصلتیں بھی عجیب ہوتی ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ بار بار نہ پڑھنے کی تاکید کیوں کیا جاتا ہے؟ بھائی میں توبراہین قاطع انسان کی خصلت کو پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ویسے پاکستان کا ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں والے ہمارے اپنے ہیں بھلا کسی شہر سے ، لوگوں سے ہمیں کیا دشمنی ہوسکتی ہے۔ آپ ہی ذرا بتائیں…….!!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق