محمد صابر

اختلاف امت اور صراط مستقیم

ـ ـ ـ ـ ـ ـ محمد صابر گولدور چترال ــ ـ ـ ـ ـ ـ
آج سے 1400 سو سال پہلے جب پیغمبر اسلام ﷺ کے زمانے کی بات کی جائے تو اس مبارک زمانے اور آج کے زمانے میں زمین آسمان کا فرق ہمیں نظر آئے گا ـ نبی اکرم ﷺ کے مبارک دور میں صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین من و عن نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کی پیروی کرتے تھے صحابہ کرام رحمت اللعالمین ﷺ کی چہرہ مبارک کی جانب نظریں جمائے منتظر رہتے قرآن پاک کی کوئی  آیت نازل ہوتی تو خود کو اس آیت کے رنگ میں ڈھلنے  کی کوشش کرتے ان کےلیے قرآن پاک اور ارشادات نبوی حرف آخر تھے تبھی نبی اکرم ﷺ کے بعد صحابہ کرام کی زندگی ہمارے لیے عملی کامل و اعلی مثال ہے ـ
جس معاشرے میں مختلف طبقات گروہ یا کسی جماعت نے مسلکی بنیاد پر جنم لیا ہو اور ہر ایک مسلک اپنی رائے ، فکر اور سوچ کو دوسروں پر تھوپ دینا چاہتا ہو تو اس معاشرے کا اخلاقی زوال یقینی ہے اگر اسی معاشرے کو ایک فکر و فلسفہ کی بنیاد پر گامزن کیا جائے تو اس معاشرے میں یگانگت ایکتائی اور یکجہتی پروان چڑھنے لگے گی ـ
عصر حاضر کا موازنہ اس مبارک و بابرکت دور سے کریں تو مشرق و مغرب کی طرح دوری دیکھائی دے گی جب پیغمبر اسلام ﷺ بنفس نفیس ان میں موجود تھے صحابہ کرام براہِ راست آپ کی صحبت سے فضیاب ہوتے تھے آپ نے انہیں درس انسانیت کے ساتھ ساتھ خوف الہی ، ایثار و قربانی ، جرات و بہادری اور تقوٰی کی تعلیم دی ان اسباب کی بنا پر وہ اس قابل ہوئے کہ رہتی دنیا کےلیے مثال بن گئے ان کی کامیابی کا راز قرآن اور ارشادات نبوی میں مضمر  ہے ـ صحابہ کرام بھی بعضی امور میں اختلاف رائے رکھتے تھے مگر انہوں نے ہمیشہ خود کو مسلمان کہلانے میں ہی فخر محسوس کیا اور اپنی رائے اور اختلاف کو قرآن و حدیث کی جانب لوٹا دیا ان میں خلوص اور تقوی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اپنی نفسانی خواہشات کو پس پشت ڈال کر نفس کے خلاف اپنی رائے اور سوچ فکر کو قرآن و حدیث سے ہم آہنگ کیا صحابہ  نےگروہ اور جماعت کی شکل  اختیار کرنے سے گریز کیا خود کو امت محمد ﷺ کا فرد جانا اسلام کے مقرر کردہ دائرے میں خود کو محدود کر لیا انہوں نے مسلک سے بالاتر ہوکر خود کو امت محمد ﷺ کا ایک فرد اور مسلمان کہلانے میں فخر محسوس کیا  ـ پھر نتیجہ یہ نکلا کہ اتحاد و اتفاق فروغ پایا معاشرہ مثبت سمت پر گامزن ہوا آپس میں ہمدردی ، ایثارو قربانی کا جذبہ عام ہوا اختلاف بھی رحمت ثابت ہوئی ـ
مگر اس مقابلے میں آج ہماری حالت زار  دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے  ہم نےخودکو خود ساختہ رسم و رواج میں جکڑ رکھا ہے گروہ بندی جماعت بندی اور مسلکی اختلافات  میں اپنے آپ کو مگن رکھا ہے کوئی کہتا ہے کہ شافعی ہوں کوئی حنفی تو کوئی خود کو سنی کہتا ہے تو کوئی نہ جانے کیا کچھ !!!
الله پاک تمام مومنوں کو قرآن پاک میں مخاطب فرماکر کہتا ہے ـ
ﷲ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑواور آپس میں تفرقہ نا پھیلاؤ ـ
ﷲ کی رسی سے مراد کلام الہی اور سنت رسول ﷺ ہے ـ اختلاف امت اور صراط مستقیم ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو کہ طلوع اسلام سے بہت بعد جاکر رونما ہوا ابھی تک مشکل صورت حال سے دوچار ہے ـ اسلام بذاتِ خود مکمل دین ہے مگر مسلمان نا مکمل ہیں ـ ہم پانچ وقت نماز میں ﷲ پاک سے عرض کرتے ہیں کہ ہم کو سیدھا راستہ دیکھا یعنی صراط مستقیم اگر آج بھی ہم اصحاب کرام رضون الله علیھم اجمعین کی طرح قرآن پاک کو اپنا دستور اور احادیث مبارکہ کو زندگی گزارنے کا طریقہ تسلیم کریں تو کبھی بھی سیدھے راستے سے نہیں بھٹکیں گے ـ ہمیں بھی قرآن پاک کو ارشادات نبوی کو حرف آخر سمجھنا ہوگا اپنی نفسانی خواہشات ، سوچ و فکر  کو وحی الہی کےمقابلے میں ترک کرکے خود کتاب وسنت  کے طابع کرنا پڑے گا ـ مسلک جماعت فرقہ اور گروہ سے بالاتر ہوکر امت مسلمہ کی اتحاد اور یکجہتی کےلیے مل جل کر کام کرنا ہوگا ـ دنیا میں مسلمانوں کی زوال اور زلت کا سبب خود کو فرقوں میں تقسیم کرنا ہے قرآن پاک پر سے کسی خاص گروہ یا جماعت کی اجارہ داری کو ختم کرکے اس کتاب عظیم الشان کو بنی نوع انسانیت کے ہدایت کےلیے عام کرنا ہوگا یہ دنیا کے تمام انسانوں کے ہدایت کےلیے نازل شدہ کتاب ہے ـ  امت محمد ﷺ کا شیرازہ بکھرنے نہیں دینا اس امت کے ایک ایک فرد کو گناہ گار ہو کہ صاحب ایمان سب کو یکجا کیا جا سکتا ہے اور اس کا واحد ایک ہی حل ہے ؟
تمام مسلمانوں کو منہج صحابہ کی طرز پر پھر سے قرآن اور احادیث کی پر جمع کیا جائے ـ
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق