ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔سیاست سکول

…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی……..
خبر یہ آئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت سیاستدانوں کی تربیت کے لئے باقاعدہ سکول کھولنا چاہتی ہے سکول کا نصاب تیا ر کیا جا رہا ہے سیاستدانوں کو اس نصاب کے مطابق یونیورسٹی کے پروفیسر تر بیت دینگے آپ چشم تصور سے نظارہ دیکھ لیجئے وزیرا عظم نواز شریف ،محمود خان اچکزی ،سید قائم علی شاہ ،آصف علی زرداری ،الطاف حسین ،پرویز مشرف ،مولانا فضل الرحمن ،عمران خان ،پرویز خٹک ،طاہر القادری ،شیخ رشید ،افتاب احمد خان شیر پاؤ ،اسفندیار ولی خان اور سراج الحق سکول میں ڈیسکوں پر بیٹھے ہیں پرو فیسر منیر بخاری ان کو سیاست کی الف بے پڑ ھا رہے ہیں کتنا پُر لطف کمرہ جماعت ہوگا لیکچر کے بعد عمران خان سوال پوچھینگے اور پروفیسر بادشاہ منیر بخاری ان کے سوال کا جواب دینگے میرا تو جی چاہتا ہے کہ چشم زدن میں سیاستدان بنوں اور اُڑ کر اس کمرہ جماعت میں جا کے بیٹھ جاؤں کمرہ جماعت میں پرویز مشرف اور الطاف حسین کے سوالات بیحد دلچسپ ہونگے شیخ رشید احمد اور طاہر القادری کے ساتھ پروفیسر بادشاہ منیر بخاری کی نوک چھونک دیکھنے اور سننے کے لائق ہوگی جیسے کہتے ہیں خدا دے اور بندہ لے جہاں تک سیاستدانوں کی تربیت کا تعلق ہے جمہوری معاشروں میں یہ کام سیاسی ورکروں سے شروع ہو تا ہے۔ امریکہ میں پرائمیریز کی سطح پر کارکنوں کی تر بیت ہو تی ہے کمیونسٹ ممالک کے اندر (Commune ) کی سطح پر کارکنوں کو سیاسی تر بیت دی جا تی ہے وطن عزیز پاکستان میں جماعت اسلامی ، اے این پی اور ایم کیو ایم نے پارٹی کی سطح پر کارکنوں کی تر بیت کا مر بوط نظام قائم کر لیا ہے جماعت اسلامی 13 سال کی عمرسے 25 سال کی عمر تک نوجوان کیڈر کی تر بیت کا کام کرتی ہے۔ان کو لٹریچر کے ذریعے بھی فکری رہنمائی اور نظریاتی علم فراہم کر تی ہے۔ تر بیتی اجتماعات کے ذریعے بھی تر بیت دیتی ہے مختلف زمہ داریاں انکے سپرد کرکے انکا استعاد دیکھتی ہے ریفریشر کورس کرواتی ہے۔ اور یہ سلسلہ جماعت کی بلند ترین کیڈر تک تسلسل کیساتھ جاری رہتا ہے۔ایم کیو ایم نے سکٹر انچارچ کی سطح پر کارکنوں کی تر بیت کا اہتمام کیا۔بعض معاملات میں اعلیٰ تر بیت کے لئے کارکنوں کو بیرون ملک بھی بھیجا یہ سلسلہ اب تک جا ری ہے۔جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کا ممبر جب اسمبلی میں آتا ہے تو اپنی دھاک بٹھا دیتا ہے ۔ التوا اور استحقاق کی تحریکیں لاتا ہے پواینٹ آف آرڈر پر مائیک لے لیتا ہے۔نکتہ اعتراض لے آتا ہے نشاندار اور غیر نشان دار سوالات داخل کرتا ہے پرائیوٹ ممبروں کا دن آجائے تو سوالات اور ضمنی سوالات کے ذریعے ایوان پر چھا جا تا ہے۔ ڈاکٹر یقوب ، پرو فیسر غفور ، صاحبزادہ طارق اللہ زاہد خان اور ڈاکٹر فاروق ستار اس کی چند مثالیں ہیں۔ سرخیبوش لیڈر خان عبدالغفار خان نے سر ڈھری مر کز میں سیاسی کارکنوں کی فکری رہنمائی اور تر بیت کا اہتمام کیا تھا۔ آج کل باچا خان مرکز اس طرح کی تر بیت دیتا ہے۔ میں اندرون سندھ اپنے سفر کے دوران دادو، لاڑکانہ ،خیر پور ، نواب شاہ ،سکھر اور سانگھڑ میں ایسی پرانی لا ئبریریاں دیکھیں جن میں روس ،پولینڈ ،یو گوسلاویہ اور چیکو سلواکیہ کے ادیبوں کی کتابوں کے سندھی تراجم رکھے گئے تھے جی ایم سید ، ابراہیم جو یو اور ان کے ساتھیوں نے سندھی نوجوانوں کی فکری تربیت کے کمیونسٹ اور قوم پر ست ادیبوں کی تحریروں کا ترجمہ کروایا اور چھوٹی چھوٹی لا ئبریریوں کے ذریعے گا ؤں گاؤں پہنچایا تھا یہ بھی سیاسی کارکنوں کی تربیت کا ایک طریقہ ہے خیبر پختونخوا کی حکومت کیا کرتی ہے اس کا بلیو پرنٹ ابھی سامنے نہیں آیا اخبارات میں جو خبر آ ئی ہے اس میں سیاست سکول اور اس کے نصاب کا ذکر ہے طالب علم کے طور پر سیاسی کا رکن یا ورکر کی جگہ سیاستدان کہا گیا ہے مجھے نہیں معلوم پرو فیسر اقبال تا جک کو پی ٹی آئی والے پسند کرتے ہیں یا نہیں میری دانست میں سیاستدانوں کی موجو دہ ٹولی کے لئے قابل عمل نصاب وہی مرتب کر سکتے ہیں انہوں نے سیاسیات کو پڑ ھا یا ہے اور سیاست دانوں کو قریب سے دیکھا ہے دائیں بازو اور بائیں بازو کے سیاسی کاروبار پر اُن کی گہری نظر ہے اگر یہ کام پروفیسر اقبال تاجک کو سونپا گیا تو وہ نہایت کار آمد تربیتی مینول مرتب کر کے دینگے سر دست اُس تربیتی نصاب کے فہرست مضامین پر بحث جاری ہے مثلاًفہرست مضامین میں یہ عنوانات زیر غور ہونگے ایک عنوان ہوگا تبدیلی کے 10 اصول ،دوسرا عنوان ہوگا ،دھرنا دینے کے 7فائدے تیسرا عنوان ہوگا اسمبلیوں کا بائیکاٹ چوتھا عنوان ہوگا ،چار حلقے کھولنے کا راز پانچواں عنوان ہوگا سیاسی گفتگو میں گالی کس وقت دی جائے چھٹا عنوان ہوگا لیڈ ر کا ہیلی کاپٹر کہاں اُترے گا ؟ اس طرح بے شمار عنوانات ہونگے مجھے یقین ہے کہ سیاست سکول میں تعلیم با لغان کے مرا کز کی طرح عمر کی کوئی قید نہیں ہوگی بستر مرگ پر دراز ہونے سے پہلے ہر کھانستا ،چھینکتا سیاستدان اس سکول میں داخلہ بے سکیگا بزر گ سیاستدانوں کو پہلے داخلہ دیا جائے گا تاکہ سیاست سکول کی اعلی تربیت اگلے جہاں میں ان کے کام آسکے سکول کھل گیا تو پنجاب ،بلوچستان اور سندھ کے سیاستدان بھی سیاسی تربیت کے لئے پشاور آئینگے اگر جان کی امان پاوں تو پروفیسر بادشاہ منیر بخاری کو پیشگی مبارک باد دینا چاہتا ہوں الطاف حسین اور آصف زرداری کو سیاست کی الف بے پڑ ھانے کا کام عنقریب انہیں سونپا جا رہا ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى