ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……..فوجی کمان کی چھڑی

…………ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ……..


جمعرات 24 نومبر کی شام کو وزیراعظم محمد نواز شریف نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ میں تجسس اور گو مگو کی اس کیفیت کو ختم کر دیا ہے جس میں چیف کی ریٹا ئر منٹ یا مدت ملازمت میں توسیع کے دونوں راستے موجود تھے اگرچہ جنرل راحیل شریف نے ایک سال پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ تو سیع لینے پر ریٹا ئر منٹ کو ترجیح دینگے مگر اس پر کوئی باور نہیں کرتا تھا ماضی کی بعض روایات بھی ایسی تھیں جو باور کر نے کی راہ میں حائل تھیں نیز جنرل راحیل شریف فوج کے اندر جتنے مقبول ہیں عوامی حلقوں میں اس سے 10 گنا زیادہ مقبولیت رکھتے ہیں ان کا کرداریونانی تاریخ کے کسی بڑے ہیرو کی طرح ہے اسلامی تاریخ میں صلاح الدین ایوبی نے چاروں طرف سے آنے والی دشمنوں کو جس طرح مات دی تھیں اس کی مثال جنرل راحیل شریف کے کردار میں نظر آتی ہے انہوں نے ا پنی بے پناہ مقبولیت اور اچھی شہرت کے باو جود مدت ملازمت میں توسیع لینے پر ریٹائر منٹ کو ترجیح دیکر بہت اچھی مثال قائم کی ہے حالانکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے شہروں کی بڑی بڑی شاہر اہوں پر ان کے حق میں بینر بھی لگائے ، وال چاکنگ کر کے بھی اس کی مدت ملازمت میں توسیع یا ان کو سیاسی کردار دینے کے لئے قوانین میں ترمیم کے مطالبے کئے الودای عشائیے میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے فوج کے سپہ سالارکو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور ملک و قوم کے لئے ان کی خدمات کو سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل قرار دیا اگلے دودنوں میں مزید تقریبات ہونگی 29 نومبر کو فوجی کمان کی تبدیلی کی سادہ تقریب ہوگی جس میں وہ کمان کی چھڑی اپنے جانشین کے حوالے کرینگے مدت ملازمت میں توسیع لینے کا راستہ مسترد کر کے آرمی چیف کی حیثیت سے جنرل راحیل شریف نے اپنی نیک نا میوں میں مزید اضافہ کیا ہے پاک آرمی کی تاریخ میں جنرل آصف نواز جنجو عہ کے بعد جنرل راحیل شریف کا مقام نمایاں ہے اس مقام پر سپاہی سے لیکر تھری سٹار جرنیل تک ہر فوج اپنے کمانڈر کو دل و جان سے چاہتا ہے اور کمانڈر کے ساتھ عشق کی حد تک والہا نہ محبت کرتا ہے فوج میں ہر چیف کا حکم مانا جاتا ہے تاہم ہر چیف سے محبت کرنے کا دستور نہیں ہے حکم ماننا مجبوری ہے محبت کر نے کے لئے جذبہ چاہیے جس شخصیت سے محبت کی جاتی ہے اُس کے اندر کر شمہ ہونا چاہیے یونا نیوں کی تاریخ میں اس کو ’’ ہیر و ورشپ ‘‘ یعنی ہیرو کی پوجا کہاجاتاتھا اسلامی تاریخ میں اس کو عشق اور سلوک کہا جاتا ہے یہاں سلوک کی اصطلا ح درست معلوم ہوتی ہے دوران جنگ فوجی کمان کی تبدیلی سے ایک اہم پیغام قوم کو ، بین الاقوام کو اور ہمارے دشمنوں کو ملا ہے پیغام یہ ہے کہ ہم خالد بن ولید کی روایت کے امین ہیں ہمارے ہاں ادارہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے دوران جنگ اگر کمان کی تبدیلی عمل میںآئے تو دفاعی صلاحیت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا موجودہ حالات میں اس پیغام کی بڑی اہمیت ہے اردو محاورہ کی رُو سے جس لڑائی کو چو مکھی لڑائی کانام دیا جاتا ہے وہ لڑائی اس وقت پاکستان کی مسلح افواج دشمنوں کے خلاف لڑرہی ہیں اس جنگ کے چار محاذ ہیں پہلا محاذ لائن آف کنڑول اور ورکنگ باونڈری سے لیکر سیا چن تک پھیلا ہوا ہے جہاں بھارتی افواج اپنی وردی میںآرہی ہیں اپنا تو پ خانہ استعمال کر رہی ہیں اورا پنی ایوی ایشن سے کام لے رہی ہیں بھارت کا پورا فائر پاور یہاں پاکستان کے خلاف استعمال ہورہا ہے دوسرا محاذ چمن سے لیکر طور خم ،بن شاہی اور ارناوی تک ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کی طرف سے ہونے والے بھارتی حملوں کا مقابلہ ہے یہاں بھارت نے افغانیوں کا لباس پہن لیا ہے اور افغانی بن کر حملے کرتا ہے تیسرا محاذ وادی بولان ، کوئٹہ اور کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک بھارتی خفیہ ایجنسی کے تربیت یافتہ کا رندوں کا پھیلا یا ہوا دہشت گردی کا وسیع نیٹ ورک ہے جس کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج نے ضرب غضب کے نام سے جہاد شروع کیا ابھی یہ جہاد منطقی انجام کو نہیں پہنچا یہ وہ محاذ ہے جہاں بھارت کے ایجنٹوں نے پاکستانی شہریوں کا لباس پہن لیا ہے چوتھا محاذ چائینہ پاکستان اقتصادی راہد اری (CPEC) کے خلاف بین لاقوامی سازش،عالمی طاقتوں کی طرف سے سی پیک پر مختلف حیلوں اور حوالوں سے ہونے والے حملوں کا محاذ ہے پاک فوج نے جنرل راحیل شریف کی کمان میں ان محاذوں پر جس طرح وطن کا دفاع کیا اُن کے جانشین کی کمان میں بھی چاروں محاذوں پر پاک وطن کا دفاع کر یگی جس طرح خالد بن ولیدؓ کی جگہ ابو عبید ہ بن جراحؓ کے آنے سے اسلامی فوج کو فرق نہیں پڑ ا تھا اسی طرح ایک نیک نا م اور ہر دلعزیز جرنیل کی جگہ دوسرا سپہ سالار آنے سے پاک فوج کی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق