ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد …………عدالت کی مثالی کردار

………………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی…………


ہماری عدالتوں میں جو مقدمات پیش ہوتے ہیں ان مقدمات کے جتنے فیصلے آتے ہیں ان سے عدالت کے کردار کا درست تعین نہیں ہوتا مشرف کے دور میں ایک تجویز آئی تھی کہ دو طرح کے الگ الگ عدالتیں ہونی چاہئیں ایک عدالت صرف سیاستدانوں کے مقدمات سنے گی دوسری عدالت عوام کے مقدمات سنے گی یہ بات بہت سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی بہت سے لوگوں کو بُری لگی پشاور ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اس راز سے پردہ اُٹھایا ہے کہ کہ عدالت عوام کے حقوق کی سب سے بڑی محافظ ہے شرط یہ ہے کہ عدالت کو عوام کے مقدمات سنے کے لئے وقت دیا جائے اور مقدمات حقائق پر مبنی ہو ں وقت ضائع کرنے والی نہ ہو عوام پر سیاستدان اور سول انتظامیہ کے کل پُروزے جب ظلم کرتے ہیں تو عوام کو ان مظالم کے خلاف عدالت سے ہی انصاف مل سکتا ہے اور سب سے بڑا ظلم بھی سیاستدانوں اور سول افیسروں کی طرف سے ہوتا ہے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم خان میا نخیل نے ایک ڈویژن بینج کی سر برا ہی کرتے ہوئے 65 گھرانوں کے 6ہزار سے زائد افراد کو ان کی پاکستانی شہریت واپس دلانے کا حکم صادر کرکے سیاسی حکمرانوں اور سول انتظامیہ کے افسروں کی طرف بے جا ظلم کا نشانہ بننے والے پاکستانیوں کی داد رسی کی ہے بقول فیض ؔ ۔
بیداد گروں کی بستی ہے یاں داد کہاں خیرات کہاں
سر پھوڑ تی پھیرتی ہے نادان فر یاد جو در در جاتی ہے
محمد یقوب وغیرہ بنام سرکار کے جس مقدمے کا فیصلہ ہوا اس کی کہانی بہت دلچسپ ہے عدالت میں اس کی پیروی کرنے والے محمد آصف ایڈوکیٹ کا خیال تھا کہ مقدمے کے اندر جان ہے اس کا فیصلہ جلدی آئے گا مقدمے کورٹ پٹیشن کی صورت میں داخل کیا گیا کم و بیش 6ہزار پاکستانی شہریوں کا مقدمہ طویل بھی تھا مختصر بھی طویل اس معنی میں تھا کہ کہانی 1927 سے شروع ہوئی ،مختصر اس لئے تھا کہ 1927 کی مردم شماری انگریزوں نے کروائی مردم شماری میں محمد یقوب وغیرہ کے اباو اجداد کے نا م ان کی ولدیت اور قومیت سب کچھ درج کردی گئی 1951 میں ان کو چترال کی سابق ریاست سے نکال دیا گیا ان لوگوں نے کابل میں پناہ لی 1951 سے 1982 تک 31 سال کا بل کے قریب آقچہ نامی موضع میں پناہ گزین بن کر رہے جاتے وقت 24 گھرانے تھے دو ہزار کی آبادی تھی واپس آئے تو 65 گھرانے اور 6ہزار نفوس تھے 1951 میں ملک چھوڑنے کی سند ریاستی حکومت کے صورت میں موجود تھی واپس آنے کی سند افغانستان میں خانہ جنگی ،سویت فورسز کی آمد اور امریکی مداخلت کی صورت میں میڈیا کی شہادتوں پر مبنی طویل دستاویز تھی ستم ظریفی یہ ہے کہ نومبر 1982سے نومبر 2016 تک محمد یقوب وغیرہ کے مقدمے میں فریق بننے والے پاکستانی در بد پھر تے رہے کسی وزیر ،کسی افسر اور کسی سیاستدان نے ان کی درخواست نہیں پڑھی ان کا ایک صفحے پر مبنی فارسی سند کا اردو یا انگریزی میں ترجمہ نہیں پڑھا ،1972 کی مردم شماری کے 6صفحے کسی نے پڑھنے کی زحمت گورا نہیں کی پولیس نے پہلی بار مارچ 1998 ء میں اس کی باقاعدہ انکوائری کی اور اپنی رپورٹ میں تصدیق کی کہ 1951 میں خوش نجات ،مرزا خان وغیرہ کے 24 گھرانوں کو اُس وقت کے وزیر اعظم دلارام خان کے کہنے پر شہزادہ شہاب الدین کے حکم سے ریاست بدر کیا گیا تھا یہ لوگ گہریت کے اصل باشندے تھے ان کے عزیز اقرباء موضع گہریت ضلع چترال میں رہایش پذیر ہیں اٹھارہ سالوں تک کسی افسر یا سیاستدان نے پولیس کی انکوائری رپورٹ کو پڑھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی محمد یقوب وغیرہ نے سیاستدانوں کا دروازہ کھٹکھٹا یا ہر افیسر کے دروازے پر دستک دی اُن کے ذہن دو خد شات تھے پہلا خدشہ یہ تھا کہ ساستدان ہماری بات نہیں سنتا ،عام افیسر ہمارا کاغذ نہیں پڑھتا تو جج ہماری بات کب سنے گا جج ہماری درخواست کیونکر پڑھے گا ؟دوسرا خدشہ یہ تھا کہ عدالت کا خرچہ ہم برداشت نہیں سکینگے بڑا خرچہ آئے گا بڑا وقت لگے گا ،فروری 2014 ؁ میں چترال کی تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر ایک محضر نامہ تیار کیا اور محضر نامے کے اندر گہریت کے 65 گھرانوں کو ان کی پاکستانی شہریت واپس دلانے کا مطالبہ کیا پھر ضلع کونسل نے قرار داد منظور کی ضلع ناظم نے وزارت داخلہ کو خط لکھا جواب میں انکار کے سوا کچھ نہ آیا تو محمد یعقوب وغیر ہ کو رٹ پٹیشن لیکر عدالت جانے کا مشورہ دیا گیا اس طرح عد لیہ کا مثالی کردار ہمارے سامنے آیا چند پیشیوں کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچ گئی کہ 1927 کی مردم شماری والی دستاویز ریکارڈ پر ہے 1951 ؁ء میں ان گھرانوں کو گھر وں سے نکالنے کی دستاویز ریکارڈ پر ہے ان لوگوں کے پاکستانی ہونے کا اس سے بڑا ثبوت اورکیا ہو سکتا ہے اگر چہ پاکستانی شہری نہیں ہیں تو پھر پاکستان کی 20 کروڑ آبادی کو کس دستاویز کی بنیاد پر پاکستانی شہری ثابت کیا جائے گا ؟ وزارت داخلہ اور نادر احکام کے پاس کسی کو پاکستانی ثابت کر نے کا اور کیا ثبوت دستیاب ہوگا عدالت نے وہ خلا پر کر دیا جو حکومت اور شہر ی کے درمیاں موجود تھا جو بیورو کریسی اور شہری کے درمیاں موجود تھا عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کر نے کے لئے اور لوگوں کو عدالتوں سے رجوع کر نے کی ترغیب دینے کے لئے چیف جسٹس مظہر عالم خان میانخیل کی طرف سے گہریت چترال سے تعلق رکھنے والے 65 گھرانوں کی ان کی پاکستانی شہریت اور شناخت واپس کر نے کا حکم مثالی حیثیت رکھتا ہے ایسے عدالتی احکا مات کی تشہیر ہونی چاہیے تاکہ عوام کے اندر عدلیہ کا مثال کردار اجاگر ہو اور عوام کو ظلم برداشت کر نے کی جگہ عدالتوں سے رجوع کر کے انصاف حاصل کر نے کی ہمت اور جر اء ت پیدا ہو جائے ایسے مقدمات کے فیصلوں پر فیچر شائع ہونے چاہئیں ان کی انوسٹی گیٹیو رپورٹنگ ہونی چاہیے عدلیہ کے مثالی کردار سے مظلوم عوام کو حوصلہ ملے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق