صوبیہ کامران

رُموز قلم۔۔ ’’ میں سوچتی ہوں‘‘

۔۔ تحریر۔۔ صوبیہ کامران۔۔ بکرآباد چترال


جب سے میں نے ہوش سنبھالا ، مجھے اس دنیا میں صرف اور صرف اللہ ہی کی قدرت کے جلوے نظر آتے ہیں ۔ یہ سورج جتنا خوبصورت اور روشن ہے… میں سوچتی ہوں ، اسے بنانے والا یعنی اللہ تعالیٰ خود کتنا حسین ہوگا… اور یہ چاند ہمیں کس قدر خوبصورت اور ٹھنڈی چاندنی عطا کرتا ہے تو اس کا بنانے والا کس قدر دل کش ہوگا… میں سوچتی ہوں … میرا اللہ کتنا مہربان ہے .. وہ اپنے ان بندو ں پر بھی رحم فرماتا ہے جو اس سے بالکل غافل ہو چکے ہیں… وہ اسے پہچانتے بھی نہیں ہیں… میرے اللہ کی رحمت ، چرند ، پرند، جانوراور انسان… غرض کائنات کی ہر شئے پر بارش کی طرح برستی ہے… میں سوچ رہی ہوں … یہ اللہ ہی ہے.. جس نے مجھے قلم ااور علم کے ذریعے اپنی پہچان کرائی ہے … اس نے مجھے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے بچایا ہے… مجھے کسی پریشانی کا سامنا ہوتو وہ اللہ ہی ہے جو اسے دور کرکے سکون اور اطمینان سے مالا مال کر دیتا ہے… میں سوچتی ہوں… اللہ نے مجھ پر کس قدر کرم اور فضل کیا کہ مجھے مسلمان گھرانے میں پیدا فرمایا ہے .. . اس نے زندگی جیسی نعمت سے مجھے نوازا ہے۔بچے کو اگر چوٹ لگے تو وہ درد سے بلبلا نے لگتا ہے… اس کی ماں بے چین و بے قرار ہوکر اس کی طرف لپکتی ہے اور اسے اٹھا کر چومنے لگتی ہے … اسے سینے سے لگا لیتی ہے.. اللہ کی محبت تو ماں کے مقابلے میں ہزاروں لاکھو ں گنا زیادہ ہوتا ہے… کیا وہ ہم پر رحم و کرم نہیں کرے گا…؟ میں سوچتی ہوں… ٹھیک ہے.. میں اپنی ظاہری آنکھ سے ، اپنے پیارے اللہ کو نہیں دیکھ سکتی ، لیکن دل کی آنکھ سے تو ضرور دیکھ سکتی ہوں نا… وہ ہمارا مالک.. ہمارا معبود.. ہر مشکل میں ہماری مدد کرنے والا..اندھیروں سے نکالنے والا.. . ہدایت دینے والا… روشنی بخشنے والا… بے شمار نعمتیں عطا کرنے والا… اور ان گنت مہربانیاں کرنے والاہے… غرض ہم اپنے پیارے اللہ کی کن کن نعمتوں کا شمار کریں اور اس کا شکریہ ادا کریں .. اس کے بغیر ہمارا وجود بے معنی ہے.. میں سوچتی ہوں.. اکثر سوچتی ہوں.. اتنے اچھے ، اتنے محبت کرنے والے اللہ کو ہم کو اپنے دلوں میں ، ہر وقت ، ہر گھڑی ، ااور ہر ساعت کیوں بسا نہیں رکھتے … میں سوچتی ہوں… ا یک بار آپ بھی سوچ کر دیکھ لوں نا… !!

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ مواد

اترك تعليقاً

إغلاق