اقبال حیات آف برغزی

روزگار کے متلاشی

 ………تحریر: اقبال حیات آف برغذی

Advertisements

روزگار کے متلاشی نوجوان نسل آئے دن ڈگریاں بغل میں دبائے امید و بہم کی کیفیت میں NTSنام کے انصاف کے ترازو میں خودکو تلنے کے لئے مختلف مراکز کی طرف روان دوان نظرآتی ہے۔ان مراکز میں جہاں مخلوط طرز امتحان کو اپنایا جاتا ہے۔ وہاں مطلوبہ آسامیوں کے لئے علمی صلاحیتوں کو پرکھنے کا انداز بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے انوکھاہے۔ اسلامیات ،قرات اور عربی کے اساتذہ کی تقرری کے لئے امیدواروں کوحساب،انگریزی وغیرہ کے سوالات سے آزمایا جاتاہے ۔جو یقیناًموٹر ڈرئیوار سے جہاز اڑانے کا تقاضا کرنے کے متراد ف ہے۔ یہاں یہ امر بھی قابل حیرت ہے۔ کہ ایف۔ اے ،ایف ایس سی کی تعلیمی معیار کے حامل آسامیوں کے لئے ٹیسٹ میں شامل ایم اے ڈگری والوں کے نمبر کم آنے کے باوجود اسناد کے لئے مزید نمبر دے کر اہل قرار دئے جاتے ہیں۔دوردراز علاقوں میں امتحانی مراکزکا قیام بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے لفظ انصاف کی توہین کرنے سے کم نہیں۔اور اس سے اگر غریب بے روزگار نوجوانوں کی مایوسیوں کا مذاق اڑانے کے مترادف قراردیا جائے تو بے جانہ ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ امتحانی مراکز کے اندر اس دھندے کی نگرانی پر مامور افراد کی طرف سے اپنوں کو نظر کرم سے نوازنے کی شکایتیں بھی عام طور پر سنی جاتی ہیں۔ویسے بھی عمومی طور پر اس قسم کے امور کی انجام دہی کے معاملے میں ملک کاماضی عدم اعتماد کا شکار رہاہے۔ اور کسی بھی غریب نوجوان کی صلاحیتوں کا گلشن آباد ہوتے دیکھنے کی کم امید کی جاسکتی ہے۔ اور رو رعایت،طرفداری،سفارش اور رشوت جیسے ناجائز ذرائع حقدار کو اپنے حق تک پہنچے کی راہ میں مانع ہوتی ہیں۔اور اس قسم کی انداز و فکر کی موجودگی میں شفاف اور ایماندارانہ کارکردگی کا تصور دیوانے کے خواب کے مترادف ہے۔ البتہ ناجائز ذرائع سے کسی دوسرے کا حق مارنے سے محرومیت کی آسیب سے دوچار ہونا اپنی نوعیت کے اعتبار سے بہتر ہے۔ کیونکہ پوری زندگی حرام کمائی سے واسطہ پڑتا ہے۔ اس لئے نوجوان نسل کو محرومیوں سے دلبرداشتہ ہونے کی بجائے اللہ رب العزت کی طرف سے حلال رزق کی اُمید پر کامل ایمان رکھنا چاہیے۔کیونکہ رزق،موت اور نصیب مقدر کے گرد گھومتے ہیں۔اور ان تین امورمیں انسانی خواہشات کی بھر آوری کا تصور رب کائنات کی رضا سے مربوط ہیں۔اس سلسلے میں پختہ عقیدے کے ساتھ ساتھ انسانی کاوشوں کی اہمیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ایک نوجوان کسی متول شخص کے ہاں ملازم تھا۔ مالک اس کی اچھی کارکردگی پر تنخواہ میں ہزار روپے کا اضافہ کرنے اور کچھ عرصے بعد فرائض میں کوتاہی پر تنخواہ سے ہزار روپے کی کٹوتی کرنے کے باوجود نوجوان کی طرف سے ردعمل نہ ہونے کا سبب پوچھنے پر اس نے کہا ۔کہ تنخواہ میں اضافے کے وقت میری بیٹی کی ولادت ہوئی تھی۔اس لئے میں نے اس اضافے کو اس کے رزق سے اور جب ہزار روپے تنخواہ سے کٹوتی کی گئی تو اس وقت میری والدہ انتقال کرگئی تھی ۔تواس کٹوتی کو اس کے رزق سے تعبیر کیا ۔اور یہ زندگی کے اسلوب ہیں جن کے بارے میں چون و چرا کرنا ایمان کی کمزور ی کی علامت ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى