
معاشرے کے خصوصی افراد اور ہماری ذمہ داریاں
…………..تحریر: عبدلولی خان خاموش ؔ کوشٹ………..
الطاف نے ابھی بولنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک دن اسے شدید بخار ہوا۔ اسکے والدین اسے لے کر فوراً ایک رشتہ دار ڈاکٹر کے پاس لے گئے جو چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے انہیں الطاف کو فوراً شہر کے ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا کیونکہ اسکے بقول الطاف کو گردن توڑ بخار نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ گاؤں سے قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال 10کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ بڑی مشکل سے گاڑی کا بندوبست کیا گیا اور الطاف کو ہسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں بھی ناکافی سہولیات کے پیش نظر اسے 70کلومیٹر دور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا۔ جہاں اسے اگرچہ ضروری طبی امداد دی گئی مگر بد قسمتی سے الطاف شدید گردن توڑ بخار کے سبب سماعت سے محروم ہو چکا تھا۔ چونکہ اسنے ابھی بولنے کی پہلی سیڑھی پر ہی قدم رکھا تھا تاہم سننے سے محروم ہونے کے سبب عمر گزرنے کے ساتھ وہ بولنے کی نعمت سے بھی محروم ہو گیا۔
آج الطاف 16سال کا خوبصورت نوجوان ہے ۔ سماعت اور بولنے سے محروم ہونے کے ساتھ سکول اور پڑھائی کی نعمت سے بھی محروم ہونے کے باوجود خداداد صلاحیتوں کا حامل ہے۔ چھوٹی موٹی تکنیکی اور فنی کاموں میں اپنی مثال آپ ہے۔ دوسروں کی زبان سے نکلے گئے الفاظ اور ہونٹوں کی حرکت سے اچھی طرح سمجھ جاتا ہے کہ کس موضوع پر بات ہورہی ہے۔ خود اشاروں سے اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ رشتوں، رشتہ داروں، جذبات، احساسات، حالات ، واقعات غرض زندگی کے تمام پہلوؤں کا اچھی طرح ادراک رکھتا ہے۔ اسکا ذہن کسی بھی ذہین اور ذی شعور انسان سے کئی گنا بہتر کام کرتا ہے۔ روزمرہ مشاہدے میں آنے والے خصوصی بچوں میں سے یہ ایک مثال ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے دیہات میں نجانے الطاف جیسے اور کتنے بچے خصوصی توجہ کے طلب گار ہیں۔ ایسے بچوں کی زندگیوں اور انکی ذہنی استعداد کار کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ایسے بچوں کی خصوصی نگہداشت اور تربیت سے انہیں باآسانی معاشرے کا ایک کار آمد شہری بنا یا جا سکتا ہے۔
اپنے ارد گرد نظر دوڑانے پر ہمیں بحیثیت مجموعی سماج کا ایک ایسا طبقہ نظر آتا ہے جسے عرف عام میں معذورین کہا جا تا ہے۔ سماج کے اس طبقہ میں وہ افراد شامل سمجھے جاتے ہیں جو رفتار زمانہ اور زندگی کی دوڑ میں اپنی طبعی، دائمی اور پیدائشی مجبوریوں کی بنا پر پیچھے رہ گئے ہوں۔ بینائی، شنوائی سے محروم، بے دست و پا، دماغی طور پر مفلوج، دائمی روگ میں مبتلا افراد عام طور پر اس میں داخل مانے جاتے ہیں۔ معذورین یا خصوصی افراد کے ساتھ ہمدردی یا ترحم اگر چہ فطرت انسانی کا تقاضا اور لازمہ ہے لیکن صرف اسلام نے اس جذبہ کو صحیح رخ دیا ہے اور معذورین کے مختلف حقوق و مراعات کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اسلام نے معذور افراد پر کسی بھی قسم کا معاشی بوجھ نہیں رکھاہے۔ کسب معاش کی الجھنوں سے انہیں آزاد رکھا ہے۔ وہ تمام تر قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ جن میں کمزوروں، بے سہاروں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے، معذورین بھی ان کے مفہوم میں داخل ہیں۔ تاہم اسکے ساتھ ساتھ اسلام نے معذور افراد کو الگ تھلگ کسمپرسی کی زندگی گزارنے کی بجائے اجتماع معاشرت کا بھی حوصلہ دیا۔ ان کے مقام و مرتبہ کے مناسب معاشرتی کام بھی تفویض کئے، احساس کمتری اور معاشرتی سرد مہری کا شکار بننے سے ان کو تحفظ فراہم کیا۔ عبد اللہ بن ام مکتوم ایک نابینا صحابی تھے۔ ایک دفعہ وہ بغرض دریافت مسئلہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایسے وقت میں حاٖضر ہوئے جب کہ آپﷺ بعض سرداران قریش سے اسلام پر گفتگو فرما رہے رہے تھے۔ آپﷺ کو ان کا یہ بے وقت سوال پوچھنا ناگوار گزرا، بس اتنا ہونا تھا کہ سورہ عبس کا نزول ہوا جس میں بارگاہ خداوندی کی طرف سے آپ ﷺ کو اس رویہ پر تنبیہ کیا گیا۔ روایت میں ہے کہ اس کے بعد جب بھی وہ نابینا آپﷺ کی خدمت میں آتے تو آپﷺ بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرماتے خوش آمدید اے وہ ساتھی جس کے بارے میں پروردگار نے مجھ پر تنبیہ فرمایا۔ رسول پاک ﷺ جب غزوہ احد کے لئے روانہ ہوئے تو اپنی جگہ نابینا ابن ام مکتوم کو اپنا نائب فرمایا۔ غور کیجئے کتنا بڑا منصب ایک نابینا شخصیت کے سپرد کیا جا رہا ہے۔
حضور ﷺ کی زندگی اور حیات صحابہ کرامؓ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ بد قسمتی سے مادہ پرستی کے اس دور میں ہمارے معاشرے میں ایسے معذورین کو وہ اہمیت اور مقام نہیں دیا جا رہا جسکی اسلامی تاریخ شاہد ہے ۔ پاکستان کے تمام صوبوں میں ایسے معذور افراد کی کوئی کمی نہیں جو خصوصی توجہ کے محتاج ہیں۔وطن عزیز کے ایسے دور دراز علاقوں میں چترال بھی شامل ہے ۔ خیبر پختونخوا کے اس دور افتادہ اور رقبے کے لحاظ سے صوبے کے سب سے بڑے ضلع میں خصوصی افراد کے لئے ایک (ایم آر اینڈ پی ایچ) سنٹر پچھلے کئی سالوں سے کام کر رہا ہے۔ تاہم ناکافی وسائل اور حکومتی عدم توجہی کے سبب یہ سنٹر آج بھی کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں قائم ہے۔ اسکے باوجود ہر سال کئی خصوصی بچے اس سنٹر سے بنیادی تعلیم کے حصول کے ساتھ ساتھ مختلف ہنرسیکھ کر فارغ ہوتے ہیں۔ چترال میں خصوصی بچوں کے لئے ایک اسپیشل ایجوکیشن کمپلکیس کے قیام کی اشد ضرورت ہے تاکہ چترال کے طول و عرض سے آئے ہوئے خصوصی بچے ہاسٹل کی سہولت سے بہرہ مند ہونے کے ساتھ ساتھ انکے لئے مخصوص ذہنی و جسمانی تعلیم و تربیت سے مکمل طور پر مستفید ہوں۔ نیز سب ڈویژن مستوج میں بھی ایک سپیشل ایجوکیشن سنٹر کا قیام وہاں کے خصوصی بچوں کی فلاح و بہبود کی طرف ایک مثبت قدم ثابت ہو گا۔
چترال کے خصوصی بچوں کی فلاحی و بہبود کے لئے کام کرنے والے مخیر حضرا ت میں میاں محبوب علی شاہ کاکا خیل اور جناب فضل الرحمن صاحب (سابق ای اے سی چترال) کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات نے اپنی اپنی بساط کے مطابق چترال کے معذور بچوں کی بحالی اور انکی ذہنی اور تعلیمی تربیت کے لئے گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ حکومت اور ضلع میں کام کرنے والے الخدمت فاؤنڈیشن اور فلاح انسانیت جیسے فلاحی اداروں کو بھی چترال کے خصوصی بچوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور انکی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔
