
چترال میں تجار یو نین کی الیکشن وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔شبیر احمد
چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس ) شبیر احمد تجاریونین کے اپوزیشن رہنما نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ چترال بازار یونین کا الیکشن 23 ستمبر2013 کو ہوا تھا۔ 23 ستمبر 2016 ء کو سابقہ تجار یو نین اپنی 3 سالہ مدت پوری کر چکی ہے۔ سابقہ تجار یونین کی مقررہ وقت پورا ہونے کے بعد انکی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے ڈپٹی کمشنر چترال کو درخواست دی تھی اور اب ہم سر کار ی اور نیم سرکاری اداروں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ کہ کچھ سیاسی جماعتیں بازار میں سیاست چمکانے کی کوششیں کر رہے ہیں آج کے بعد ہم بازار میں ایسا ہونے نہیں دیں گے اور سیاسی جماعتیں بازار کے اندر جلسہ کرکے دکانداروں اور راہگیروں اور ٹریفک کا نظام خراب کرتے ہیں۔ آج تک سیاسی ، غیر سیاسی اور این جی اوز نے چترال بازار کے مفاد میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ا ن کو چا ہیئے کہ وہ اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ پریڈ گراؤنڈ یا پولو گراؤنڈ جا کر کریں۔ بازار کے معمولات میں دخل اندازہی نہ کریں تو اچھا ہے۔ چترال بازار کسی کی ذاتی جا گیر نہیں ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے چترال بازار کے دکانداروں کے مفاد میں کوئی کام نہیں ہوا۔ چترال بازا ر میں کوئی پبلک باتھ رومز نہیں جسکی وجہ سے پورا بازار گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے۔جو کہ دوکانداروں اور عوام الناس کے لئے سخت پریشانی کا باعث بنا ہے ۔پچھلے سال چترال بازار میں تجاوزت کے حوالے سے آپریشن ہوا تھا اور دکانیں توڑ دی گئی تھی ایک سال گزرنے کے باوجود چترال بازار میں فٹ پاتھ اور سو لر لائٹوں کے لئے ٹینڈ ر ہونے کے باوجود چترال بازار اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔گندے نا لیوں کا پانی ہر وقت بازار میں بہنے کی وجہ سے عوام الناس کے لئے سخت تکلیف کا باعث بنا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال کو چاہیئے کہ چترال میں تجار یو نین کی الیکشن کے انعقاد کروانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
