ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ………فاٹا ما فیا

…………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………

Advertisements

اخبارات میں فاٹا مشاورتی اجلاس کی ناکامی کی خبریں آگئی ہیں ان خبروں میں کوئی نئی بات نہیں وہی پرانی کہانیاں ہیں جرگے میں ڈیڑھ ہزار لوگوں کو بلایا گیا تھا 1400 لوگ فاٹا اصلاحات کے حامی تھے 100 بندے فرنیٹر کرائمز ریگولیشن کے حامی تھے اُن 100 بندوں نے ہنگا مہ ارائی کی فاٹا اصلاحات رپورٹ کی کا پیوں کو پھاڑ دیا گورنر اور مشیر خارجہ کے خلاف نعرہ بازی کی فاٹا اصلاحات کے حامی اراکین پارلیمنٹ کے خلاف نعرہ بازی کی جواب میں قبائلی علاقوں کے تعلیم یافتہ شہر یوں نے ایف سی آر کے خلاف آواز اُٹھا ئی ، گو ایف سی آر گو کے نعرے لگائے ہلڑبازی ہوئی ، ہنگا مہ ارائی میں اجلاس ختم کر دیا گیا اس طرح کے چھوٹے موٹے ہنگا مے با جو ڑ ، مہمند ، وزیرستان اور دیگر جگہوں پر منعقد ہ مشاورتی اجلاسوں میں بھی ہوئے تھے سابق چیف سکرٹری اور ممتاز دانشور رستم شاہ مہمند نے اس پر تبصر ہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیڑھ ہزار افراد کو بلانے کی ضرورت ہی نہیں تھی 100 قبا ئلیوں کا مشاورتی اجلاس بلایا جاتا تو اس کا مثبت نتیجہ نکلتا قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا خیال ہے کہ 200 افراد پر مشتمل اقلیت ایک کروڑ قبائلی عوام کو آزادی دینے کی مخالف ہے یہ اقلیت چاہتی ہے کہ قبائلی غلا م رہیں اور اس اقلیت کو مراعات حاصل ہوں اگر عدالتوں کا دائر ہ لنڈی کوتل ، میران شاہ اور غلنئی تک بڑھا یا گیا تو یہ اقلیت بے روزگار ہوجائیگی اگر صوبائی اسمبلی میں قبا ئلےؤں کو نمائند گی مل گئی تو اس اقلیت کا پورا کاروبار ختم ہوگا ئے گا اگر قبا ئلی علاقوں میں 20 ہزار نوجوانوں کو لیویز میں ،20 ہزار نوجوانوں کو فوج میں اور 20 ہزار نوجوانوں کو سول انتظامیہ میں نو کریاں دیدی گئیں تو دہشت گردوں کا سارا زور ٹوٹ جائے گا دہشت گردی دم توڑ دے گی اگر فاٹا کے اندر کا رخانے بن گئے ، یونیورسٹیاں بن گئیں ، میڈیکل کالجز اور انجینئر نگ فیکلٹی قائم ہوئے ، تو سمگلر وں کو سستا مزدور نہیں ملے گا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اصلاحات کے ایجنڈے پر خدا نخواستہ ، خدانخواستہ عمل ہوا تو فاٹا کے نام پر اسلام اباد سے پشاور اور پشاور سے پاڑا چنار ، وانا اور خارتک پھیلا ہوا کرپشن کا گرم بازار ٹھنڈا پڑ جائے گا دو بھا ئی کا روبارمیں ہیں ایک کا بزنس بند وبستی علاقے میں ہے وہ سال بھر میں 10 لاکھ روپے کا منافع گھر لاتا ہے دوسرے بھائی کا بزنس فاٹا میں ہے وہ سال گذرنے پر 2 ارب روپے کا منافع کماتا ہے یہ کام ایف سی آر کی برکت سے ہوتا ہے ایک بھائی لکی مروت یا کرک میں تحصیلدار لگا ہوا ہے دوسرا بھائی میران شاہ یا جمرود میں اسی پوسٹ پر کام کرتا ہے لکی مروت یا کر ک والا بھائی مہینے میں 40 ہزار روپے کماتا ہے میران شاہ اور جمرود والا بھائی اسی پوسٹ پر کام کر کے 8 لاکھ روپے ماہورا کماتا ہے یہ ایک مافیا ہے اس کو فاٹا مافیا کا نام دے دیا جائے تو بے جانہ ہوگا یہ ڈرگ مافیا اور ٹمبر مافیا سے بڑا مافیا ہے فاٹا کو کرپٹ لوگوں کی جنت کہا جاتا ہے سرکاری افیسر فاٹا میں پوسٹنگ کو اپنی 35 سالہ نوکری کی سب سے بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہے خدابخشے اور کروٹ کروٹ جنت نصیب کر ے مرحوم میجر (ر) نیر زمان مہمند نے فاٹا کو ایف سی آر کی زنجیروں سے آزاد کر نے ، نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے جائز مواقع دینے اور فاٹا سے کرپشن کے ناسور کوختم کر نے کے لئے 1980 کے عشرے میں میڈیا سے کام لینے کی کو شش کی مگر اُس زمانے میں ان کی آواز اقتدار کے ایوانوں میں جگہ نہ بنا سکی 30 سال گذر نے کے بعد برف پگھل چکی ہے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں فاٹا اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے سیاسی جماعتیں فاٹا اصلاحات پر متفق ہوچکی ہیں 6 رکنی کمیٹی نے جامع رپورٹ پیش کی ہے سیدھی سی بات ہے انگریزوں نے قبائلی عوام کو غلام بنا نے کے لئے فر نیٹر کرائمز ریگو لیشن (ایف سی آر)نافذ کیا اس قانون کا نام ہی یہ ظاہر کرتا ہے کہ انگریز قبائلی عوام کو مجرم گر دانتا تھا باغی سمجھتا تھا پولیٹکل ایجنٹ کے ذریعے ان کو کنٹر ول کر نا چاہتا تھا قیام پاکستان کے بعد ایک ہفتے کے اندر ایف سی آر کو ختم ہو نا چاہیے تھا اس کے بعد کم از کم 10 مواقع ایسے آگئے جب ایف سی آر کو ختم کر نے کا مرحلہ آیا اور گذر گیا اب بھی 200افراد کے نا جائز مفاد کو ایک کروڑ قبائلی عوام کے جائز حقوق پر ترجیح دینے والوں کا پلہ بھاری ہے ان کی پُشت پر اسلام اباد اور پشاور کے بڑے ایوانوں میں بیٹھنے والے ’’ فاٹا ما فیا ‘‘ کا مضبو ط تکیہ ہے یہ طاقتور اور زبر دست لابی ہے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں دعویٰ کرتی ہیں کہ ہم کرپشن کے خلاف ہیں پاکستان کی فوج نے کرپشن کے خلاف ٹھوس اقدامات اُٹھا کر دکھا یا ہے ہماری عدلیہ نے کرپشن کو ختم کر نے کے لئے تاریخی کردار ادا کیا ہے فاٹا مافیا کے خلاف سیاسی قیادت ،عسکری قیادت اور عدلیہ کو یکجا ہو کر آگے بڑھنا ہوگا اور ایف سی آر کی جگہ پاکستانی قوانین کا دائر ہ فاٹا تک بڑھا کر ایک کروڑ قبائلی عوام کو وہی حقوق دینے ہونگے جو چترال سے لکی مروت تک بندوبستی اضلاع کے عوام کو حاصل ہیں یہی فاٹا اصلاحات کے موجودہ پیکج کا منشا اور مقصد ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى