محمد جاوید حیات

دھڑکنوں کی زبان……’’ میری تنخواہ‘‘

…………….محمد جاوید حیات ………….
مجھے یاد ہے کہ ابو سے پیسے نہیں مانگ سکتا ۔امی سے کہتا امی ابو سے کہتی ابو امی کو ہزار ناگواری سے پیسے دیتے ۔امی پھر مجھے تھمادیتی ۔۔ان پیسوں میں شاید برکت تھی ۔یا میری سادا سی زندگی آسان تھی ۔۔میں جوتوں کی دکان میں جاتا تو صرف جوتوں کی سائز دیکھتا ۔۔جو پاؤں میں فٹ آتے ۔خرید لیتے ۔۔کپڑوں کا رنگ دیکھتا ۔ لے لیتا ۔۔سوئٹر اور اوور کوٹ کا رنگ دیکھتا بس خرید لیتا ۔میرے پاس اپشن نہیں تھی ۔میرے پاس چائیس نہیں تھی۔۔کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ خواہشات سر اٹھائیں ۔۔جیب خرچ کا تصور نہیں تھا ۔۔موبائل میں پیسہ ڈالنے کا تصور نہیں تھا ۔بائیک کی مرمت اور تیل ڈالنے کا غم نہ تھا ۔عینک خریدنے کا تصور نہ تھا ۔۔میں پلا بڑا ۔۔۔چھوٹا موٹا روزگار مل گیا ۔۔واجبی سی تنخواہ تھی ۔۔زندگی کے تقاضے وہی تھے ۔وہی رہے ۔3000کی تنخواہ میں سے میری ماں گھر گرستی چلاتی ۔آٹا ، دال ،چائے ،چاول آگے بچوں کے لئے عید کے کپڑے جوتے ۔۔رشتہ داروں کی غمی خوشی میں شرکت ۔۔بچوں کی فیس ۔۔زندگی بس وہی کچھ تھی ۔۔عمر ڈھلتی رہی ۔۔تنخواہ بڑھتی رہی ۔۔جیب اسی طرح خالی خالی رہی ۔۔اب تنخواہ لیتا ہوں ۔۔تو دوسرے لمحے میرا ہاتھ جیب کی جگہ دل پہ ہوتا ہے ۔اور دل دھک سا جاتا ہے ۔۔سوچتا ہوں ۔کہ وہ نوٹوں کا پلندہ کہیں کھو تو نہیں دیا۔۔کوئی چور اچکا اٹھا کر تو نہیں لے گیا ۔۔سوچتا ہوں تو ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔میں نے تنخواہ لیتے ہی منٰی کی فیس 8000 دے دی ۔۔اس کو نئے کپڑے ،نئے جو تے اور سوئٹر خریدنے تھے ۔۔۔۱۰۰۰ اٹھ گئے۔۔ گذرے مہینے کچھ مہمان آئے تھے ۔۔ایک دو رشتہ داروں کی غمی خوشی تھی ۔۔ان میں شرکت کی ۔دس دس ہزار اس میں اٹھ گئے ۔۔فریزر خراب ہوا ۔۔چھوٹے ،بیگم ،بیٹی اور اپنے فون کے مہینے کے خرچے پہ1000 اٹھ گئے ۔۔گیس سلنڈر پہ دو ہزار اٹھے ۔۔بچوں کی جیب خرچ پہ 5000 ہزار اٹھے ۔کہتے ہوئے شرم آتی ہے ۔۔بڑے بڑوں کے ہاں 5000 روزاٹھتے ہیں ۔۔۔۔منے کی بائیک خراب ہوئی ۔10000 اس پہ خرچ آیا ۔۔ورنہ تو اس کا موڈ خراب رہتا ۔۔ بجلی پانی کا بل اضافی تھا ۔۔میں نے سوچا تو کوئی چور اچکا نہیں تھا ۔۔میری جیب پھر سے خالی ہوگئی ۔۔میری کلاس میں تین بچیوں کی آنکھوں میں افسردگی تھی ۔۔ان کے جوتے پھٹے ہوئے تھے وہ ان کو دوسروں سے چھپا چھپا کے چلتی تھیں ۔۔میرے پڑوس میں ایک انٹی بیمار تھی ۔ اس کا شوہر اس کو کسی ڈاکٹر کو نہیں دیکھا سکتا تھا ۔میرے ایک قریبی رشتہ دار کا دس سال کا بیٹا اپنی ٹانگ توڑوا چکا تھا ۔۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس مہینے کی تنخواہ ملے گی تو اس کا پلاستر کراؤنگا ۔۔۔۔۔میں اپنے سکول کے لان میں بیٹھ کر اپنے سٹاف ممبرز کے ساتھ بحث میں مصروف ہوں۔۔ حکومت پر تنقید کرتے رہے ۔۔حکومت تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرتی ۔۔۔مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ۔۔کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہماری زندگی پھیل گئی ہے ۔۔ہمارے اخراجات بڑھ گئے ہیں ۔۔جماعت نہم کا مانیٹر دو دفعہ آکر میرے کان میں کہہ گیا تھا کہ سر آپ کی کلاس ہے ۔۔تیسری بار جب آیا تو گھنٹی بجی ۔۔مجھے اطمنان ہوا کہ پریڈ ختم ہوا اب یہ بچہ میرے پیچھے نہیں آئے گا ۔۔اسی طرح گھنٹیاں بجتی رہیں ۔۔ما نیٹر آتے جاتے رہے ۔۔۔۔اتنے میں میری بچی کا فون آیا ۔کہا ’’ابو کل میرے سکول میں فنکشن ہے ۔۔میں نے تقریری مقابلے میں ڈسٹرکٹ ٹاپ کیا ہے ۔۔اصل کریڈٹ آپ کو جاتا ہے ۔ تقریر آپ نے لکھی تھی ۔۔موضوع تھا ۔۔قوم کا سچا خادم کون؟۔۔تو نے ایک فرض شناس آفیسر کا تعارف اس انداز سے کرایا تھا کہ لوگ غش غش کر اٹھے ۔۔ہاں کل تمہیں ضرور میرے سکول میں آنا ہے ۔۔اور ہا ابوآج شام کو میرے لئے نئے کپڑے اور نئے جوتے خریدنے ہیں ۔۔مجھے کل انعام مل رہا ہے میں نے پورے ضلع میں ٹاپ کیا ہے ۔۔اب میرے سکول میں تفریح کی گھنٹی بجی ۔۔اور میری جماعت نہم کی بچیاں باہر لان میں آکر سمٹ کر بیٹھ گئیں ۔وہ اپنے جوتوں کو ساتھیوں سے چھپا رہی تھیں ۔۔دو اساتذہ میرے کان کے قریب آکر کہنے لگے سر گھر میں ضروری کام ہیں ۔۔چھٹی کے لئے صرف دو گھنٹے رہ گئے ۔۔۔ پھرتیسرا آتا ہے اور بڑے اطمنان سے کہتا ہے ۔۔کہ سر کلاسیں خالی ہیں۔چھٹی کرتے ہیں ۔۔دونوں آوازیں میرے کانوں میں چیخ بن کر گونجتی ہیں ۔۔حکومت تنخواہ نہیں بڑھاتی ۔۔۔اساتذہ پریڈ نہیں لیتے ہیں ۔۔۔سارے محکموں میں زمہ دار لوگ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں ۔۔۔میں ان آوازوں کے درمیان سکڑ کر نکتہ بن جاتا ہوں ۔۔اور ’’خا لی جیب ‘‘کے اوپر ہاتھ مضبوطی سے رکھتا ہوں ۔۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى