مضامین

فضاؤں کا شہزادہ

…………….محکم الدین ایونی……
اس مرتبہ حادثے سے بچنا ممکن نہیں تھا ۔ حالانکہ فضاؤں میں پراواز کرتے ہوئے وہ اس سے پہلے بھی پانچ مرتبہ حادثے کا شکار ہوا تھا ۔ اور معجزانہ طور پر بچ گیا تھا ۔ گو کہ اُن حادثات میں اُن کو کئی مرتبہ چوٹیں آئیں ،لیکن وہ ہمت کے پیکر اور اپنے فن کے ایسے دنی تھے ۔ کہ حادثات اُس کے جذبے کو کم نہ کر سکے ۔ گویا ان کو فضاؤں میں تیرنے کا عشق تھا ۔ اور فضاؤں کا یہ شہزادہ بالآخر فضامیں تحلیل ہو گیا ۔یہ صرف فضاؤں کا ہی شہزادہ نہیں تھا ۔ بلکہ زمین کا بھی شہزادہ تھا ۔ اور چترال کے شاہی خاندان کا چشم وچراغ جس کی بہادری، شرافت وانکساری ، دینداری اور فرض شناسی دوسروں کیلئے ایک مثال ہے ۔ شہزادہ فرہاد عزیزبیغش ریاست چترال کے آخری فرمان روا مہتر چترال سیف الرحمن کے چھوٹے بھائی شہزادہ عزیزالرحمن بیغش کے فرزند شہزادہ فہام عزیز منیجر پی ٹی ڈی سی چترال کے بڑے بھائی اور موجودہ مہتر چترال فاتح الملک علی ناصرکے چچا تھے ۔ شہزادہ فرہاد عزیز 1963کو شاہی قلعہ چترال میں پیدا ہوئے ، ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول چترال سے حاصل کی ۔اور پشاور یونیورسٹی سے مزید تعلیم پائی ۔ چترال میں سایورج پبلک سکول کے قیام کے بعد بطور میتھس لیکچرر اُس سے منسلک ہوئے ۔ آپ پولو کے اچھے پلیئر تھے ۔ لیکن اچانک وہ پولو سے ناطہ توڑ کر پیرا گلائڈنگImage result for shahzada farhat aziz chitral کی طرف متوجہ ہوئے ،غیر ملکی پیرا گلائڈرزجو چترال میں پیراگالائڈنگ کیلئے آئے اُن کے ساتھ قریبی تعلق رکھا ۔ اور اُن کو قریب سے دیکھ کر پرواز میں دلچسپی لینی شروع کی ۔ اس دوران ایک غیر ملکی پیرا گلائڈر Brade Sanderنے چترال سے گلگت تک پیرا گلائڈنگ کرکے جب ورلڈ ریکارڈ بنایا ۔ تو اس کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو ا ۔ شہزادہ فرہاد نے اُس سے ٹریننگ لی ،اور فضاؤں کے ہی ہو کے رہ گیا ۔ وہ پیرا گلائڈنگ کے فن کو فروغ دے کر چترال میں سیاحت کو ترقی دینا چاہتے تھے ۔ اس لئے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی توجہ چترال کی طرف کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔ اور کئی پیرا گلائڈرز جو چترال میں طویل قیام کے متحمل نہیں تھے ۔ اُن کی دنوں اور مہینوں تک مہمان نوازی کی ۔ اور چترال کی فضاؤں میں اُنہیں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کا موقع فراہم کیا ۔ انہوں نے اپنے ساتھی پیرا گلائڈر سیف اللہ جان کو لے کر کئی نوجوانوں کو ٹریننگ دی ۔ نوجوان پیراگلائڈروں پر مشتمل ٹیم تیار کی۔ اورچترال میں ہندوکُش ایسوسی ایشن فار پیرا گلائڈنگ کی بنیاد رکھی ۔ ا ور 2011کے بعد تا حیات اس کے صدر رہے ۔ اس ایسوسی ایشن میں دیگر ساتھیوں کے علاوہ اُس کے اپنے کالج کے شاگرد سا جد الرحمن ،میرمحمد یاسین ، ساجد ضیاء اور شیخ فاروق اقبال بھی شامل ہیں اُن کے ایک ساتھی پائلٹ معراج حسین نے بتایا ۔ کہ شہید شہزادہ فرہاد نے پیراگلائڈنگ میں کئی ریکارڈ قائم کئے ۔ انہوں نے چترال شہر کے مقام بیرموغلشٹ سے ٹیک آف کرکے تین گھنٹے فضا میں پرواز کرنے کا ریکارڈ چترال کی سطح پر قائم کیا ۔ وہ ٹینڈم فلائٹ میں مہارت رکھتے تھے ۔ جس میں پائلٹ اپنے ساتھ دوسرے شخص کو لے کر اُڑتا ہے ۔انہوں نے کئی فارنرز کو بھی ٹینڈم فلائٹ سے چترال کے فضاؤں کی سیر کرائی ۔ جبکہ اکیس ہزار فٹ کی بلندی پر بھی پرواز کا ریکارڈ بنایا ۔ ا پنی ٹیم کی نمایندگی کرتے ہوئے سوات ، بن شاہی ، دیر ، شندور اور زنی پاس سے پروازیں کیں اور سوات میں اُس وقت اپنے فن کا مظاہرہ کیا جب دہشت گردوں کی وجہ سے لوگ سوات کی طرف آنے سے گریزان تھے ،انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پیراگلائڈنگ کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو یہ پیغام دیا ۔ کہ پاک فوج ، دیگر سکیورٹی اداروں اور عوام کی قربانیوں سے سوات میں امن قائم ہو چکا ہے ۔ انہوں نے کئی انعامات پائے ۔ اپنے پروازوں کے کرئیر کے دوران پانچ بڑے حاثات سے دوچار ہوئے ، اور معجزانہ طور پر بچ گئے ۔ لیکن گذشتہ سال پُر فضا مقام بر موغلشٹ کے بالائی پہاڑ سے تقریبا دس ہزار فٹ کی بلندی پر سے پرواز کرتے ہوئے چترال شہر آرہا تھا ۔ کہ لینڈ کرتے ہوئے بجلی کی تاروں سے ٹکرا گیا ۔ لیکن خوش قسمتی سے تاروں میں اُس وقت بجلی نہیں تھی ، اور اُس کی زندگی بچ گئی ، پھر بھی اس حادثے میں اُس کی ایک ٹانگ اور بازو کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں ۔ لیکن یہ حادثہ بھی اُس کے جذبے کو شکست دینے میں ناکام رہا ۔ اور وہ صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ فضاؤں میں اُڑنے کیلئے مناسب موسم کا انتظار کر رہا تھا ۔ کہ اجل نے مہلت نہیں دی ۔ اور گذشتہ دنوں جب وہ اپنی بیٹی کو NUSTمیں داخل کرنے کیلئے بد قسمت طیارے میں سوار ہو کر چترال سے اسلام آباد جارہاتھا ۔ کہ حادثے کا شکار ہوا ۔ اور شہزادہ فرہاد عزیز اور اُن کی بیٹی سمیت اڑتالیس افراد شہید ہوئے ۔ چترال کے معروف پیراگلائڈر ظہیر الدین بابر نے شہزادہ فرہاد کیImage result for shahzada farhat aziz chitral اچانک موت کو چترال کی پیراگلائڈر ز کیلئے ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ شہزادہ فرہاد ایک اعلی پیرا گلائڈر ، ایک اعلی اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درویش صفت شخصیت کے مالک تھے ۔ جنہوں نے چترال میں سیاحت کو ترقی دینے کیلئے پراگلائڈنگ کے فروغ کی بھر پور کوشش کی ۔ شہزادہ فرہاد نے اپنی ایسوسی ایشن اور ذاتی تعلق کی بنیاد پر رابط کرکے مختلف اداروں کے ذریعے سیلاب اور زلزلے کے دوران چترال کے طول و عرض میں میڈیکل کیمپ قائم کئے ، لاکھوں روپے مالیت کے ادویات اور امداد متاثرین کو دلوائے ۔ بلکہ اُن کی کو ششوں سے چرون اویر بونی ، موڑکہو اور چترال کے دیگر مقامات پر متاثرین کیلئے شیلٹرز بھی تعمیر کئے گئے ۔ جبکہ شہادت سے دو دن پہلے چترال کے سپیشل بچوں کے سنٹر میں منعقد ہونے والے پروگرام میں تمام بچوں کیلئے یونیفارم اور تقریب کے اخراجات بھی انہوں نے برداشت کی تھی ۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔