مضامین

پس وپیش                               پھر یہ بہہ گئی      

             ……………..       تحریر: اے ایم خان چترال……….

چترال کے مختلعف علاقون کو دیکھا جائے تو اُن کی خصوصیات اُس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اُن کا وجود یا دریا کی بہاو یا کٹائی کی وجہ سے، یا سیلاب کی زد میں آکر بن چُکے ہیں۔  یونین کونسل کوشٹ (جوکہ اِس سے پہلے تحصیل موڑکہو کے احاطے میں آتا تھا) کے احاطے میں آنیوالا  ایک چھوٹا گاون  موجودہ وقت میں بمباغ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تقریباً سو گھرانون پر مشتمل یہ گاون کئی سالون سے ایک سال پہلے تک اپنے خوبصورتی، پانی کی فروانی، فصل ، میوہ جات اور معتدل آب وہوا کے پیش نظر مشہور رہ چُکا ہے۔

   لیکن اُس کی موجودہ حالت اور ساخت کو دیکھ کر یہ اندازہ ہو ہی جاتا ہے کہ یہ تغیر بمباغ کے ساتھ منسلک ہے۔ کئی سالون سے بمباغ ایک خوبصورت ‘‘باغ’’ کی طرح تھا جس طرح ایک سال پہلے تھا،لیکن اب یہ ‘‘باغ’’ پھر ‘‘گُم ’’ ہوگیا ہے اور یہ گاون بمباغ سے دوبارہ ‘‘گُم باغ ’’ بن چُکا ہے،جوکہ اِس علاقے کا اصل نام ہو سکتا ہے۔

تریچ سے نکل کر آنیوالا دریائے موڑکہو کے کنارے آباد یہ چھوٹا سا گاون اب ایک بنجر اور خشک علاقے کا ایک وشت ناک  نظارہ پیش کر رہا ہے۔ پینے کیلئے یہان کوشٹ سے ایک پائپ لائن سسٹم آتا ہے جو علاقے کے رہائشیون کے مطابق صاف نہیں ہے۔ یہان کے رہا ئشی کنوان کا پانی پینے کیلئے استعمال کرتے ہیں، وہ بھی چند لوگوں نے اپنے لئے نکال دئیے ہیں ہر بندے کا اپنا کنوان بھی نہیں ہے۔ گزشتہ سال سے بمباغ میں کوئی فصل پیدا نہیں ہوا ہے ، اور اِس سال بھی کسی نے کوئی کاشت کاری نہیں کی ہے کیونکہ نہر کا پانی مکمل طور پر منقطع ہوا ہے ، اور یہان پانی کا کوئی دوسرا مستقل ذریعہ نہیں ہے۔ بمباغ سے اب کوئی گزرتا ہے تو صرف چند لوگوں کے گھرون کے قریب ایک چھوٹا سا کھیت کاشت کاری کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جب لوگوں سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے ٹریکٹر کے ذریعے دریا سے  پندرہ سو روپے میں ایک گھنٹے کا پانی نکال کر یہ چھوٹے موٹے کاشت کاری کر چُکے ہیں۔

بمباغ کیلئے نہر وریجون کے سامنے سے آرہا ہے  جوکہ  کوشٹ کے غیرنانو کے قریب تک صحیح سلامت ہے لیکن کوشٹ کے کنارے اور موردیر کے شروغ میں سیلاب کی وجہ سے یہ نہر ختم ہو چُکا ہے جسے دوبارہ بحال کرنا اب ممکن بھی نہیں۔

 بمباغ کیلئے ایک پائپ لائن لانے کی کوشش ہوگئی ہے وہ بھی ناکام ہوکر رہ گئی ہے جس میں پائپ لائن کو دریا کے اُوپر گزارنے کیلئے  جو ناقص پُل بن چُکی ہے وہ گرنے کی وجہ سے یہ پروجیکٹ بھی ناکام ہوا ہے۔

بمباغ کے رہائشی ایک طرف پینے اور فصلون کیلئے پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں تو دوسری طرف کوشٹ ،موردیر اور دوسرے علاقوں سے بذریعہ روڈ گزشتہ ایک سال سے منقطع ہیں۔ کو شٹ سے آنیوالے اور بمباغ سے تعلیم کی غرض سے جانے والے  طلبا وطالبات بہت مشکل سے سمندر کے کنارے سے سفر کررہے ہیں جوکہ مارچ اور اپریل کے بعد دوبارہ بند ہو جائے گی۔ کوشٹ اور بمباغ کے درمیان لفٹ سروس جوکہ ایس آر ایس پی کے تعاون سے بن چُکا تھا وہ بھی خراب ہو چُکا ہے جسکا بنیادی وجہ میرے خیال میں اِس کا زیادہ استعمال ہے، کیونکہ روزانہ کے حساب سے ایک بڑی تعداد وہاں سے سفر کرتا آرہا تھا۔

بمباغ کے  رہائشیون کے جان و مال کیلئے آنیوالے سالوں کیلئے متوقع سیلاب  ایک خطرہ بن چُکا ہے، جس کیلئے بھی ابھی تک کوئی خاطر خواہ اقدامات ہو نہیں رہے ہیں تاکہ لوگوں کے باقی ماندہ زمیں محفوظ ہو سکیں۔ سمندر کا سطح بلند ہو چُکا ہے جس سے مزید بمباغ کے زمیں زیر سیلاب آسکتے ہیں۔

 بمباغ میں فصلوں اور پینے کا پانی ایک سال سے منقطع ہے، یہ مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ بمباغ اور کوشٹ کو ملانے والا راستہ اور پُل دریا برد ہوگیا ہے ، مزید خرابی کا اندیشہ زیادہ نظر آرہا ہے۔ بمباغ اور کوشٹ کو ملانے والا پُرانا پُل اور اُس کی بنیا د بھی ختم ہوگئی ہے  ،اور جو نئے مقام پر تعمیر ہورہا ہےوہاں کام کی رفتار کو دیکھا جائے تو ایسا لگتا ہے وہ بھی ایک سال سے پہہلے تعمیر ہونے کی گنجائش نہیں۔ یعنی دوسرے الفاظ میں بمباغ کے لوگوں کے فصلوں اور پینے کا پانی لانا بھی محال ہے ، اور دوسرے علاقوں سے بذریعہ روڈ ملانے کیلئے بھی ایک سال سے زیادہ وقت درکار ہے۔

 بمباغ کا کوئی خاص سیاسی اثر رسوخ نہیں، کوئی سول سوسائٹی ارگنائزیشن بھی وہاں کام کر نہیں رہاہے،جس کا ایک وجہ اِداروں کے خلاف وہ غلط فہمی سرایت کررہا ہے جو چترال کے کچھہ علاقوں میں ہے، اور دوسری طرف کوئی اِدارون کے پیچھے جا نہیں رہا ہے۔یہاں لوگوں کی آبادی اور اگاہی اِتنی نہیں کہ وہ سیاسی حلقوں، اِدارون اور عوامی نمائندگان کو اپنے لئے کام کرنے پر امادہ  کر سکیں۔

اب کون اِن غریبوں کے دُکھون کا مداوا بنے، اور اُن کی بحالی کیلئے کام کرے۔چترال میں کام کرنے سول سوسائٹی ارگنائزیشن جس میں ایس ار ایس پی، اے کے ار ایس پی اور حکومتی اِدارے ‘‘گُم باغ’’ کو دوبارہ ‘‘بمباغ’’ بنانےمیں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اور ہمارے سیاسی قائدین جوکہ ضلع، صوبائی اور قومی اسمبلی میں ہماری نمائندگی کر رہے ہیں ، وہ بمباغ کے لوگوں کی بحالی ، اُن کیلئے پانی کا بندوبست کرکے بے لوث عوام دوستی کا شیوہ اپنائیں گے۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔