
دادبیدا د …….کریڈٹ لینے کا کریڈٹ
…………ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ …………
قومی اسمبلی میں پانامہ لیکس پر کمیشن بنانے کا بل زیر غور آیا اور بل پاس ہوا اس موقع پر ارکان اسمبلی اور پارلیمانی لیڈروں کی تقریروں میں کسی قومی مسئلے یا عوامی مسئلے کے ذکر سے کریڈٹ لینے یا اپنے سر پر سہرا باندھنے کا مسئلہ غالب نظرآیا شاہ محمود قریشی اور صاحبزادہ طارق للہ کی تقریروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیاں کریڈٹ لینے کا فائنل کھیلا جا رہا ہے دیگر پارلیمانی لیڈروں نے بھی اصل بل اور بنیادی مسئلے سے زیادہ اس بات پر توجہ دی کہ اس بل کا کریڈٹ ’’ما بدولت ‘‘کو جاتا ہے ورنہ کوئی بھی مخلص نہیں تھا قومی اسمبلی میں بل پاس ہونے کے بعد پانامہ لیکس کا اونٹ حیران و پریشان ہے کہ اب وہ کس کروٹ بیٹھے یا نہ بیٹھے اپنا کوہان سنبھالے کھڑا ہے اگریہ دو کو ہانو ں والا اونٹ ہوتا تو اس کو دو نوں کو ہان الگ الگ سنبھالنے کا مسئلہ ہوتا علمائے کرام اس پر بحث کرتے کہ دو کوہان والے اونٹ کی قربانی ہوگی یا نہیں اگر قربانی ہوئی تو اس کے کتنے حصے ہونگے اور کون کون حصہ دار ہوگا ؟گوشت کس کو ملے گا اوجڑی کس کے حصے میں آئیگی اور ہڈیاں کس کو ڈالی جائیگی ؟یہ سارے مسائل بہت پیچیدہ ہیں اور پانامہ لیکس کا اونٹ ان مسائل کے ساتھ اگلے انتخابات تک قربان ہونا نہیں چاہتا اس لئے کچھ لوگ کہتے ہیں ’’اونٹ پے اونٹ تیر ی کونسی کل سیدھی ‘‘یا دش بخیر !قبلہ اور مخدوم آصف علی زرداری کی حکومت میں ایک خط کا ذکر آیا یہ خط پاکستان کی طرف سے امریکی ایجنسی کو لکھا گیا تھا اور اس میں حساس معلومات افشا کر کے ملک و قوم کے خلاف سازش کی گئی تھی خط کا چر چا ہوا تو ایسا لگا کہ زرداری حکومت پل دو پل کا مہمان ہے خط کا نام میمو تھا اس کو سکنڈل بنا کر میمو گیٹ کا نام دیا گیا یہ نام واٹر گیٹ سے مستعار لیا گیا تھا حالانکہ واٹر گیٹ پانی کا دروازہ نہیں ایک بلڈنگ کا نام ہے اس بلڈنگ میں سرکاری ذرائع استعمال کر کے اپوزیشن کے اجلاس کے جا سوسی کرنے پر 1972 ء رچرڈنکسن کی حکومت ختم ہوئی نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے اقتدار سنبھا ل لیا وطن عزیز پاکستان میں نائب صدر کی جگہ ٹرپل ون بریگیڈ آتا ہے اور دوست احبا ب بعلیں بجا رہے تھے کہ ٹر پل ون بریگیڈ آرہا ہے مگر جلد ہی میمو گیٹ کے غبارے سے ہوا نکل گئی اور آصف علی زرداری نے اپنی آئینی مدت بڑے طمطراق اور شان و شوکت کے ساتھ پوری کر کے دکھائی البتہ انہیں اس سکنڈل سے بچنے کے لئے اپنے دوست اور رفیق کار حسین حقانی کی چھوٹی سی قربانی دینی پڑی مسلم لیگ (ن)کی قیادت کے لئے میمو گیٹ کی جگہ پانامہ لیکس کو سکنڈل بنا کر پیش کیا گیا پانامہ پیپر میں دنیا بھر کے آف شو ر کمپنیوں کا ذکر آیا ہے اس میں وزیر اعظم کی اولاد کا نام بھی ہے
دیا ہے خلق کو بھی تا اُسے نظرنہ لگے
بنا ہے عیش تجمل حسین خان کیلئے
اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں نے پانامہ لیکس کو پانامہ گیٹ بنا دیا اور مسلم لیگ (ن)کی قیادت کو اقتدار سے الگ کر کے روالپنڈی والوں کوحکومت میں لانے کی تیاریاں شروع کر دیں خوش فہمیوں کے سہارے زندہ رہنے والے لوگوں نے شیر وانیاں سلوا کر وزارتوں کا حلف لینے کی تیاری شروع کرد ی ایک سابق وزیر کی نئی شیروانی کے لئے جاپان سے کپڑا منگوایا گیا مگر کھود اپہاڑ نکلا چو ہا پانامہ لیکس کے ٹو کر لے سے سانپ باہر نہیں آیا بانسری بجانے والا بانسریاں بجاتے رہے ڈگڑگی بجانے والے ڈگڑ گی بجاتے تھک گئے سانپ نے باہر نہیں آنا تھا باہر نہیں آیا تبدیلی کے لئے جان دینے والے عوام کے ساتھ بڑا مذاق ہوا عوام نے خیبر پختونخوا سے پنجاب پولیس کے مقابلے میں سینہ تان کر دریا ئے سندھ کا پُل عبور کیا اٹک پار کئے اسلام اباد پہنچے اور اسلام اباد کو بند کر کے شیروانی والوں کی جگہ وردی والوں کو اقتدرا میں لانے کا آخری پروگرام ترتیب دیا ابھی وہسل بجنے میں چند گھنٹے باقی تھے کہ خیبر پختونخومیں تبدیلی آگئی ،عدالت عظمیٰ نے پانامہ لیکس پر کمیشن بنانے کا حکم جاری کیا اور خیبر پختونخواکے عوام نے اسلام اباد جاکر یوم تشکر منا یا یاد رہے پنجاب کے عوام نے اسلام اباد بند کر نے کا بائیکاٹ کیا اور یوم تشکر سے خود کو دور ہی رکھا دونوں خیبر پختونخوا کے تھے اور ’’سولو‘‘شو تھے تین دن پہلے عدالت میں کمیشن بنانے کا ذکر آیا تو خیبر پختونخوا والوں نے کہا ہم کمیشن کو نہیں مانتے 15 دسمبر کو قومی اسمبلی میں پانامہ لیکس پر پارلیمانی کمیشن بنانے کا بل آیا تو کریڈٹ کا جھگڑا شروع ہوا پاکستان پیپلز پارٹی کہتی ہے کہ کریڈٹ ہم لینگے مسلم لیگ (ن)کہتی ہے کہ کریڈٹ ہماری قیادت کو جاتا ہے جمعیۃ العلمائے اسلام کہتی ہے کہ کریڈٹ ہم کو ملنا چاہئے پاکستان تحریک انصاف چاہتی ہے کہ کریڈٹ اس کو ملے جماعت اسلامی کہتی ہے کہ عدالت کا دروازہ ہم نے کھٹکھٹایا کریڈٹ ہم کو جاتا چاہئے عوام حیران ہیں کیا ہوا تھا ؟ کیا ہوا ہے ؟ یہ لوگ کس چیز کا کریڈٹ لے رہے ہیں ایک ان پڑھ دیہاتی کا بیٹا منطق پڑھ رہا ہے ایک دن ناشتہ رکرتے ہوئے باپ نے پوچھا بیٹا تمہار ا علم کیا ہے ؟یہ کس چیز کا علم ہے ؟ بیٹے نے کہا یہ عقلی دلائل کا علم ہے،باپ نے کہا وہ کیا ہوتا ہے بیٹے نے کہا عالم مثال کی باتیں ہوتی ہیں باپ نے کہا عالم مثال کیا ہے بیٹے نے کہا عالم مثال میں کائنات کی ہر چیز اپنی مثل کے ساتھ موجود ہوتی ہے جیسے ہمارے سامنے دو انڈے ہیں اسی طرح کے دوانڈے عالم مثال میں بھی موجود ہے درحقیقت دو نہیں چار ہیں باپ نے سامنے رکھے ہوئے دو انڈے کھا لئے اور بیٹے سے کہا وہ جو عالم مثال میں دو انڈے ہیں وہ دونوں تمہارے ہوئے ،جیتے رہو اور خوش رہو پانامہ لیکس کا انجام بھی عالم مثال کے دو انڈوں کی طرح ہوگا منطق پڑھنے والوں کے ہاتھ میں کچھ نہیں آئے گا اس لئے وہ کریڈت لینے کے چکر میں ہیں مگر سر دست یہ نہیں معلوم کہ کریڈٹ لینے کو کریڈٹ کس کو جائے گا ،مرزا غالب کا زمانہ یاد آرہاہے قلعہ معلی کے حالات میں اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر انہوں نے کہا تھا
باز یچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
