تازہ ترین

روحوں کی پرواز ہوا میں

 ……………… تحریر: فراز خان فراز   چرون………….

Advertisements

کسی کو کیا معلوم تھا  کہ آج  موت کا فرشتہ  آسمان پر اپنی ذمہ داری ادا  کرنے میں مصروف عمل ہے  اور اس وجہ سےیہ سفر   شاید ادھورا رہ جائے ۔اگر دیکھا جائے تو سفر کا وقت بھی     اتنا موزون نہ تھا  کیونکہ غروب افتاب کا وقت قریب تھااور ساتھ ساتھ  فلک پر کالے بادل  خفاخفا دکھا ئی دے  رہے تھے کیونکہ اس دیس میں  ان کے سامنے کئی خاندنوں کےخوشبودار پھول ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرجھانے والے تھے۔ایسے بے ضرر اور علم دوست جوانوں کی جدائی پر  بادل تو کیا ملک الموت فرشتہ بھی  خفا ہوا ہوگا ۔کیونکہ ہوا ہی میں ہمیشہ ہمیشہ رخصت  ہونے والےانسانی جانوں کے ساتھ دنیا والوں کی زیادہ یادیں وابستہ تھیں ۔ان   اہل و عیال میں خصوصا ماں باپ ،بیوی اورمعصوم بچے۔ یہ سب کے سب ان  کے سایہ شفقت میں  آنے والے روشن لمحات کے منتظرتھے ۔ ہنستے مسکراتےوہ چہرے  آج ہماری نظروں سے اوجھل ہیں اور صرف ان کی یادیں ہمارے ذہنوں میں گردش کر رہی ہیں اور جدھر بھی جاتے اداسی ہی اداسی ۔ایک ہی جگہ تین کرسیوںکو   خالی دیکھتے ہوئے دل افسردہ ہوجاتاہے اور محمدخان کی عاجزانہ طبعیت  دل کو پارہ پارہ  کردیتا ہے۔ اکبر کی ہشاش بشاش انداز اورعمراخان  کی خاموش عادت خواب کی زینت بنی ہے  جبکہ دوسری جانب  سلمان کی شاہانہ مزاج  دنیا کی لذت  سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا خیال دل میں آویزان کردیتا ہے ساتھ ساتھ  شہزادہ فرحت کی اپنی پیاری بیٹی کو اپنے باہوں میں لیے ایک ساتھ موت  کا نظارہ کرنااورتمام رخصت ہونے والے ہمارے دیس کےباشعور باشندے جس میں ڈپٹی کمشنر کی   چترال کے لیے کیے گئے کم وقت میں بے پناہ خدمات  اب  صرف  تعریف  کی دنیا میں  محدود ہو کر رہ جانااور جنیدجمشید  کی  صرف آواز یادوں لیے باقی رہ جانا ندامت کے انسو بہانے کے سوا اورکیا چارہ۔ہم نے تو آپ کی جدائی  کی رسم تو ادا کردی مگر  آپ کی خوبصورت  یادیں ہم ہمیشہ اپنے پاس رکھیں گے اور جب بھی ضرورت پڑے دنیا والوں کے سامنے پیش کریں گےاورآپ کی دائمی سکھ کے لیے دعا کرتے رہیں گے۔اللہ آپ کا دائمی سفر پورا کرنے دے   کیونکہ موت سے کوئی نہیں بچ سکتا  ۔موت کا انتظار تو ہر کوئی کر رہاہے۔ اگر ایسا ہے تو  ان عزیز جانوں کاہم سے جدا کرنےکاقصور  وار ہوا  میں جل کر راکھ  ہونے والاجہاز  ہر گز نہیں  بلکہ  حکم خدا کا مقرر کردہ  موت ہے ۔آپ نے تو موت کا مزہ چکھ لیا ہے اور ہمیں بھی ایک نہ ایک دن موت کا مزہ چکھنا پڑے گا ۔ قالوانا للہ  واناالیہ راجعوں

                     لازم تھا کہ دیکھو  میرا رستہ کوئی دن اور

تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاوں

ماناکہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

 

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى