
’’ایک حادثہ‘‘
…………عمیرہ خان ۔۔۔طالب علم سال دوئم جی جی ڈگری کالج…………
تین بجکر پچاس منٹ کو جہاز کی اڑان ۔۔چار بجکر چودہ منٹ کو جہاز میں خرابی ۔۔پھر کریش ۔۔۔ایک زوردار دھماکہ ۔۔۔پھر فضا سوگوار ۔۔۔کہتے ہیں کہ زندگی غموں اور خوشیوں کے درمیان میں لٹکا ہوا پنڈولم ہے ۔۔جو کبھی بھی کسی بھی طرف حرکت کر سکتی ہے ۔۔کبھی غموں کی حدود پار کرتی ہے ۔۔تو کبھی خوشیوں کے دائرے میں داخل ہوتی ہے ۔۔جب انسان خوش ہوتا ہے تو خود کو بھول جاتا ہے ۔۔مگر جب غم اس کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تب وہ دنیا بھول جاتا ہے ۔۔اسی طرح یہ زندگی گزر جاتی ہے ۔۔مگر اس کے اختتام کے ساتھ اس کا ایک اور مرحلہ شروع ہوتا ہے جہاں داخل ہونے کے بعد اس کی یادیں ساتھ رہتی ہیں اور بس ۔۔یہ بھی کچھ ایسا ہی حادثہ ہے ۔۔۳بجکر ۵۰ منٹ کو وہ مسافر جہاز میں داخل ہوئے ۔۔سب خوش تھے کوئی اپنے مقصد کے حصول کی خاطر سفر پر گامزن تھا ۔۔کوئی وعدے نبھانے جا رہا تھا ۔۔کوئی بچھڑنے والوں کو ملانے جارہا تھا ۔۔کوئی رب کو منانے جا رہا تھا ۔۔کسی کے دل میں خدمت خلق کا جذبہ تھا ۔۔تو کسی کے دل میں شہادت کی تڑپ تھی ۔۔۔مگر ۔۔ایک ایسا لمحہ بھی آیا کہ جس نے ان کے سارے خواب چکنا چور کر دیئے ۔۔اور ان کی داستان ادھوری ہی رہ گئی ۔۔
پا کستان کے مایہء ناز نعت خوان جنید جمشید جو راہ خدا سے واپس گھر لوٹ رہے تھے ۔۔راہ خدا میں ہی خدا سے جا ملا ۔۔گلو کاری سے نعت خوانی ۔۔ایک عہد کا خاتمہ ہوا ۔۔۔چترال کو پسماندہ تصور کیا جاتا ہے ۔اللہ نے ایک ایسے انسان کو بھیجا کہ اس نے اس کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا ۔۔وہ انسان نما فرشتہ تھے ۔۔وہ قابل احترام ،باہمت اور رحم دل سر اسامہ احمد وڑائچ تھے ۔۔انھوں نے چترال کے لئے بہت کام کیا ۔۔ان کے چترال آنے کے بعد بہت تیزی سے کام کیا ۔۔سب سے پہلے انھو ں نے سڑکوں کو کشادہ کیے ۔جو کسی ڈی سی نے بھی نہیں کیا تھا ۔۔جو ایک چیلنج سے کم نہ تھا ۔انھوں نے اپنی ہمت سے کرکے دیکھایا ۔۔انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا ۔۔چترال کے عوام کے لئے ان کی سیاحت کے لئے پارک بنایا ۔۔اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہی تھی کہ انھوں نے چترالی طلبا ء کے لئے ایک اکیڈیمی کھولی ۔۔اس اکیڈیمی کو کھولنے کی وجہ یہی تھی کہ چترال شہر ہی میں ان کو ایک پلیٹ فارم ملے تاکہ وہ اپنے کیریر بنا سکیں ۔۔اور یہاں سے مختلف امتحانات کے لئے تیاری کر سکیں ۔۔انھوں نے اس اکیڈیمی کا افتتاح چیف سیکرٹری سے کرا یا ۔۔ڈی سی صاحب ہفتے میں ایک دو دفعہ اس اکیڈیمی کا دورہ کرتے تھے ۔کلاس میں بیٹھتے تھے اور خودکلاس لیتے تھے ۔۔وہ بغیر کسی پروٹوکول کے آتے تھے ۔۔کلاس میں ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے اور آخیر میں ہمارے ساتھ کلاس لیتے تھے ۔۔ہم سے اساتذہ کے بارے میں پوچھتے تھے ۔۔تین دسمبر کو آئے اکیڈیمی میں ہمارے ساتھ کلاس لیا اور چلے گئے ۔۔پھر ہمیشہ کے لئے واپس نہیں آیا ۔۔ایک سٹوڈنٹ ہونے کے ناتے صرف یہی کہوں گی کہ ’’وہ شریف تھے اور یقیناًوہ بہت شریف تھے ‘‘۔۔۔وہ بہت ہی نرم دل اور خوش مزاج انسان تھے ۔۔وہ اتنے عظیم انسان تھے کہ اس جیسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں مگر میں نہیں سمجھتی کہ اس کا نعم البدل کوئی ہو سکتا ہے۔۔انھوں نے چترال کے لئے بہت کام کیا ۔۔مگر اس کے باوجود اس نے چترال کے لئے جو خواب دیکھا تھا ۔۔اس کو شرمند ہ تعبیر کرنے سے پہلے ہی وہ ایسی نیند سو گئے کہ پھر نہ اٹھ سکے گا ۔۔میں کیا کہوں اس کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ۔۔اور جو الفاط میں استعمال کر رہی ہوں وہ میرا ساتھ نہیں دے رہے ۔۔بس ان کی یاد میں میری آنکھیں نم ہیں ۔۔لب پر آہ و زاریاں ہیں۔۔چترال کے لئے اتنا بڑا نقصان ہے کہ کسی بھی صورت پورا نہیں ہوسکتا ۔۔ہم نے اپنا محسن کھو دیا ۔۔
تم سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے وہ گئے
پھر جو بھی در ملا اسی در کے ہوگئے
اس بدقسمت جہاز مین ۴۷ افراد سوار تھے ۔وہ سب اپنے پیاروں کو داغ مفارقت دے گئے ۔۔اس کا نام زندگی ہے مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرا نہیں کرتے ۔۔مگر زندگی کی خوبصورتیاں انکے ساتھ جاتی ہیں ۔۔میں ان جان نثار پائلٹوں کو سلام پیش کرتی ہوں جنھوں نے اپنی جانیں دے دی ۔۔اللہ سب کو ایسی ناگہانی موت سے اپنی پناہ میں رکھے ۔۔۔امین ۔۔
