
مسلمہ حقیقت
……………تحریر: اقبال حیات ؔ آف برغذی …………….
حالیہ کچھ دنوں کے دوران رونما ہونے والے دو اہم واقعات اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا کی بے ثباتی کے ایسے فطا ہر ہیں جو اس دارفانی کی طرف رغبت کی حقیقت کا پول کھولنے کیلئے کافی ہیں۔ اور ان واقعات سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ
جگہ دل لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ء ہے تما شا نہیں ہے
مذکورہ واقعات میں پہلا واقعہ ہماری قابل فخر مسلح افواج کے عظیم سپہ سالار کی طرف سے اپنی یاد گار خدمات کی انجام دہی کے بعد اس معتبر عہدے کی کمان اور رواہتی چھڑی اپنے ماتحت اسلا م کے دوسرے قابل قدر سپوت کے حوالے کرنے کا منظر تھا۔ یہ منظر سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ ائے انسان اس فانی دنیا میں کسی حیثیت کو بھی دوام نہیں
کوئی آتا ہے کوئی جا تا ہے محفل کا ہے رنگ وہی
ساقی کی نوازش جاری ہے مہمان بدلتے رہتے ہیں
دوسرا واقعہ حویلیان کی پہاڑ سے ٹکرانے والے مسافر جہاز کی صورت میں چترال کے باسیوں پر بیتنے والا وہ دلخراش سانحہ ہے جسے بھلانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔ مختلف خیالوں ، ارمانوں اور آرزوؤں کے حامل مختلف منزلوں کی طرف جانے والے سینتالیس افراد کی سانسیں ایک ساتھ رکھ گئیں ۔ خواہشات دنیا اور ارمانوں سے مچلتے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوئیں خوبصورت کپڑوں سے مزین باوقار وجود جل کر راکھ ہوگئے اور رشتے ناتوں کے بارے میں فکر وخیال سے بے نیاز ہوگئے۔ اس سانحے کا شکار ہونے والے جن دلگداز حالات سے دوچار ہوئے وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناقابل فراموش ہیں۔ اور ساتھ ساتھ مختلف خاندانوں پر بیتنے ولی آزمائشوں سے انسانی احساسات کی دنیا ہیجانی کیفیت سے دوچار ہوگئی ۔ ہر دل غمزدہ ہر زبان پر افسوس اور ہر آنکھ اشکبار ہوگئی اور جانے والوں کی ایصال ثواب کیلئے ہر کسی کے ہاتھ بارگاہ ایز دلی میں اٹھنے لگے۔ یقیناً اجڑے ہوئے ایک خاندان کی اکلوتی پسماندہ بیٹی کی ذہنی کیفیت کا سوچ کر ہاتھ کا خود بخود دل کو سنبھالنے سینے کی طر اٹھنا ایم فیل کی ڈگری لینے کے لئے جانے والی دختر چترال کے دل میں مچلنے والے ارمانوں کے تصور سے بے ساختہ زبان سے آہ نکلنا اور ویرانوں کو ہمار ے طرف لئے پارکوں میں تبدیل کرنے والے ڈپٹی کمشنر کا سوچ کر اپنا سر پیٹنا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہر جانے والے کی معاشرتی کردار کے خلا کو پر کرنا مشکل ہے۔
بحر حال ان تمام دلی کیفیات کو سامنے رکھکر اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ اگر ہم موت کو بھول بھی جائیں تو پھر دنیا کی ہر چیزپیغام فنا دے رہی ہوتی ہے۔ سورج روز طلوع ہوتا ہے۔ اور غروب ہوتے وقت یہ پیغام دے جاتا ہے۔کہ ائے انسان ایک دن تیری زندگی کا سورج بھی ڈوب جائے گا۔ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا ہے کہ ہر آدمی اپنے اہل خانہ کے ساتھ صبح کرتا ہے اور موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہوتی ہے۔ اسی طرح حضرت علی کرم اللہ وجہو فرماتے ہیں کہ انسان خوبصورت لباس زیب تن کئے ٹھاٹ کے ساتھ بازار سے گزریگا اور اسے احساس نہ ہوگا کہ اس کا کفن بھی کسی دکان میں رکھا ہوا ہوگا۔
زندگی کیا ہے تھر کتا ہوا ایک ننھا سا دیا
ایک ہی جھونکا جسے آ کے بجا دیتا ہے
یا سرِ مژ گان غم کا تھر کتا ہوا ایک آنسو
پلک جھپکنا جسے مٹی میں ملا دیتا ہے
اس لئے اسلام کا تصور یہ ہے کہ عقلمند انسان وہ ہے جو موت سے پہلے موت کی تیار ی کرے ۔ جس طرح نوح علیہ السلام نوسو پچاس سالوں کی طویل زندگی گزارنے کے بعد جب فرشتہ اجل کا سامنا کرتے ہیں تو اس وقت ان کے بدن کا آدھ حصہ کمرے کے اندر اور آدھا باہر تھا۔ فرشتہء اجل کا طویل زندگی کے باوجود رہائشی مکان کو کشادہ نہ بنانے کا سبب پوچھنے پر فرماتے ہیں کہ آپ کے آج آنے اور کل آنے کے تصور نے گھر کو کشادہ کرنے کی مہلت نہ دی۔
