
پاک سعودی عرب تعلقات
………..محمد صابر گولدور چترال……….
کسی بھی ملک کےلیے بین الاقوامی تعلقات اور دوستیاں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اچھے بُرے وقتوں میں یہی تعلقات اور دوستیاں کارآمد ہوتی ہیں ـ بین الاقوامی سطح پر بعضی ممالک کے تعلقات صرف لین دین اور تجارت کی حد تک ہوتے ہیں ، تو کچھ ممالک کے ملکی مفادات کی بنا پر لیکن کچھ تعلقات ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی جڑین نہایت مضبوط گہرے ہوتے ہیں اسلامی اخوت سے بھر پور ، ایمانی اور روحانی جذبے سے سرشار ہوتے ہیں جہاں کی عوام ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ـ جیسا کہ پاک سعودی عرب تعلقات جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ـ
پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کلمئہ طیبہ لا الہ الا الله محمد الرسول الله اور اسلام کے نام پر بنا ہے ـ جس کے آئین میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ اس ملک کا دستور قرآن و سنت پر مبنی ہوگا جہاں الله کی حاکمیت ہوگی ـ پاکستان کے وجود میں آتے ہی عرب و عجم سب کی نظریں پاکستان پر جم گئی وجہ صرف اور صرف اس ملک کا کلمئہ اور اسلام کے نام پر بننا تھا ـ
سعودی عرب وہ مقدس سرزمین ہے جہاں تمام مسلمانوں کا قبلہ حرمین شریفین واقع ہیں اور نبی آخرالزماں محمد عربی ﷺ جہاں پیدا ہوئے دین اسلام کا جہاں سے ظہور ہوا ـ یہ وہی اسلامی مرکز ہے جو ہر سال روئے زمین میں بسنے والے مسلمانوں کی حج اور عمرے کی میزبانی کرتا ہے ـ
دنیا کی تاریخ میں کئی ممالک کے تعلقات خراب ہوئے دوستیاں دشمنیوں میں بدل گئی ـ بہت سارے رشتے ٹوٹے اور نفرتوں نے جنم لیا ، مگر پاک سعودی عرب تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اب تک یہ تعلق و رشتہ قائم و دائم ہے ـ دشمنوں نے ہر حربہ ازمایا ان دو ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرنے کےلیے ، مگر کچھ بھی ہاتھ نہ آیا اس عظیم اور بے مثال دوستی کی دیوار کو کوئی گرا نہ سکا ـ
دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں پاکستان ” اسلام کا قلعہ ” کے نام سے پہنچانا جاتا ہے دنیا بھر میں جہاں کہی مسلمان مظلموں کےلیے آواز بلند ہوتی ہے پس پردہ پاکستان اور پاکستانی عوام ہی کی کوششیں اور جدوجہد کارفرما ہوتی ہے ـ جیسا کہ مظلوم کشمیری ، فلسطینی ، افغانی اور چچنین عوام کےلیے آواز حق بلند کرنا ـ اس آواز کے سنگ ایک اور نام ” سعودی عرب ” جو کہ پاکستان کی حمایت کےلیے شانہ بہ شانہ کھڑا نظر آتا ہے ـ یہ ملک آپ کو کسی بھی بین الاقوامی فورم پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرتا نظر آئے گا ـ ماضی میں جب بھارت نے 65 ٕ میں اپنی شر انگیزی سے پاکستان پر جنگ مسلط کی تب وہ واحد ملک سعودی عرب ہی تھا ، جس نے بھارت کے خلاف پاکستان کی بھر پور مدد کی اس کے علاوہ 71 ٕ میں پھر 89 ٕ کے افغان وار میں پاکستان سعودی عرب اور امریکہ تینوں روس کے خلاف اتحادی تھے ـ اسی وجہ سے روس کے کئی ٹکڑوں ہوئے اور مزید اسلامی ریاستیں معرض وجود میں آئی ـ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے ـ جب اسرائیل اور بھارت کے جنگی طیارے کہوٹہ میں واقع ہمارے ایٹمی پلان کو تباہ کرنے چلے تھے سعودی انٹلیجینس اداروں نے ہی پاکستان کو آگاہ کیا تھا ـ سعودی عرب نے ہمیشہ سے پاکستان کی ہر ممکن تعاون اور اعانت کی ہے ایک مسلم برادر ملک وفادار دوست اور ایمانی و روحانی رشتے کی حیثیت سے اور یہ عمل آج بھی جاری ہے ـ جب 98 ٕ میں پاکستان نے عالمی دباؤ کے باوجود ایٹمی دھماکے کیے ـ تو اس وقت امریکہ ، روس ، فرانس ، جاپان سمیت کئی عالمی طاقتوں نے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگا دی ـ اس وقت پاکستان شدید دباؤ کا شکار تھا ـ ایسے وقت میں سعودی عرب ایک بڑے اتحادی کے طور پر سامنے آیا اور پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا ـ ہزاروں بیرل تیل مفت میں پاکستان کو فراہم کیا گیا ـ پاکستانی فوج کو سخت حالات میں مکمل تاون کی یقین دہانی کرائی گئی ـ پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والوں کو سخت الفاظ میں جواب دیا گیا ان کی حوصلہ شکنی کی گئی ـ پچھلے سال 2015 میں جب سعودی عرب کے بادشاہ شاہ عبد الله ؒ وفات پا گئے اور ان کی جگہ ان کے بھائی شاہ سلمان بادشاہ نامزد ہوئے تو یمن کے اندر خانہ جنگی شروع ہوچکی تھی ـ سعودی بادشاہ کو مملکت کےلیے درپیش خطرات کا اندازہ ہو چکا تھا ـ سعودی سرحدات بھی اس خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکے تھے ـ تب سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے درخواست کی گئی کہ پاکستان اپنے فوجی دستے سعودی عرب بھیجے ، تاکہ پاکستانی فوج حرمین شریفین کی حفاظت کے ساتھ ملک میں جاری خانہ جنگی کی کیفیت پر بھی قابو پالے ، مگر بد قسمتی سے اس درخواست کو پاکستانی پارلیمنٹ میں خوب اچھالا گیا ـ اس مسئلے پر سیاست کی گئی اور آخر میں کافی چھیڑ چھاڑ کے بعد فوجی دستے سعودی عرب بھیجنے کے عمل کو نا منظور قرار دے دیا گیا ـ پاکستانی پارلیمنٹ کے اس مشترکہ فیصلے سے پاک سعودی عرب تعلقات کو شدید دھچکا لگا ـ سعودی حکومت اور عوام کو اس فیصلے کا بالکل بھی یقین نہیں آرہا تھا ـ جب بات ان تک پہنچی تو حکومت اور عوام میں کافی مایوسی اور نا امیدی پائی گئی ـ پاکستانی حکومت کے غلط فیصلے کے باوجود سعودی حکومت اور عوام نے امید کا دامن نہیں چھوڑا اور اپنے تعلقات پاکستان کے ساتھ بحال رکھے ـ اس واقعے کے چند ہی مہینوں بعد سعودی بادشاہ نے ایک تاریخی اعلان کرکے تمام اسلامی ممالک کے دل جیت لیے ـ پہلی دفعہ نیٹو کی طرز پر اسلامی کولیشن کی تجویز سامنے آئی ـ کل رکن اسلامی ممالک کی تعداد 34 ہے اس کولیشن کو اس وقت مزید تقویت ملی جب پاکستان نے باضابطہ طور پر اس میں شمولیت کا اعلان کیا ـ یمن وار کے اندر امریکی چینل فوکس نیوز کے میزبان نے جب سابق سی آئی اے آفیسر سے سوال کیا کہ :-
کیا سعودی عرب کے پاس ایٹم بم ہے ؟
سابق سی آئی اے آفیسر نے کیا ہی شاندار اور دلچسپ جواب داغ دیا سن کر مجھ سمیت سب کے ہوش اُڑ گئے ـ
جواب میں ان کا کہنا تھا کہ :-
کیا ہم بھول گئے پاکستان کو ایٹم بم بنانے کےلیے اپنے پاؤں پر کھڑا کس نے کیا کس نے پاکستان کو پیسے دئیے اٹم بم بنانے کےلیے ؟
جی ہاں ـ ـ ـ!
سعودی عرب نے ـ ـ ـ!
واقعی میں سابق سی آئی اے آفیسر کی بات دل کو ہلا دینے والی اور دلچسپ تھی اس ایک واقعے سے آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ہمارے تعلقات کس قدر حقیقی اور گہرے ہیں ـ چین پاکستان کا دوست ملک ہے جہاں پر سعودی عرب اور امریکہ کے پرانے تعلقات تھے انہوں نے دم توڑ دیا ـ حال ہی میں سعودی عرب نے بھی چین کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیا ہے ـ پاک سعودی عرب تعلقات کی تاریخ پرانی ہے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے عہدہ سنبالنے کے بعد جو سب سے پہلا غیر ملکی دورہ کیا ہے وہ سعودی عرب ہی کا ہے اس سے اور بڑی بات کیا ہوسکتی ہے ـ آج جبکہ بہت سے لوگ سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی کو حسد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اول فول بکتے ہیں اور کچھ ہاتھ نہیں آتا تو وہابی نا جانے کیا کچھ کہتے رہتے ہیں ـ ہمیں چاہیے کہ ان کی باتوں کی پرواہ نہ کرے اور اپنے دوستوں دشمنوں کو پہچانے پاک سعودی عرب دوستی اور رشتے کے اس سفر کو مزید دوام بخشے ـ اہل عرب سے ہمارا رشتہ ایمان کا ہے ہم جس دن ایک ہو جائینگے سارا جہاں ہمارا ہوگا ـ
چین و عرب ہمارا ، ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم ، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
