
’’شرارتیں‘‘
صالح ولی آزاد چترال
بچپنے کی کیا کہیے ، سچ پوچھئے تو فیل بے ہنگام ،سنجیدگی کم ار شرارت پن زیادہ ۔۔۔بعض شرارتیں ایسی تھیں ۔۔جنھیں اب بھی دھرانے کو جی چاہتا ہے ۔۔مگر اکثر ان میں۔۔اللہ رے توبہ،اب بھی کان پکڑتا ہوں توبہ توبہ ۔۔خوف آتا ہے مجھے ۔۔آج بھی کانوں میں مجھے وہی آواز بار بار سنائی دیتی ہے’’پھینکو مجیب۔۔پھینکو پھینکو ۔۔ارے یار پھینکو گول خالی ہے ۔۔تم ہٹو میں کک لگا تا ہوں‘‘
یہ اس زمانے کی بات ہے ۔جب ہم چھٹی میں پڑھا کرتے تھے ۔۔اس وقت جہان آبادی کم تھی۔ کہیں اس سے زیادہ مدرسے نیاب تھے ۔کہیں کسی گاؤں میں خوش قسمتی سے پرائمیری سکول میسر تھا ۔تو مڈل تک پڑھنے کے لئے دور دور سے لڑکے ہمارے یہاں آیا کرتے تھے ۔۔
میرا ایک پھوپھی زاد بھائی تھا کمازار ۔۔۔اچھا بھلا نام ،ہنس مکھ تو تھا ہی مگر پرلے درجے کا شرارتی ۔۔ہفتے میں ایک بار جمعؑ ہ کی چھٹی پر گھر جایا کرتا تھا ۔۔باقی ایام وہ ہماری فیملی کے مستقل رکن تھے ۔۔اس کی شرارتوں سے میں کئی بار ابو سے مارکھایاِ ، کیا کروں ۔۔پھوپھی زاد اپنی جگہ مگر ایک قسم اکا مہمان بھی تو تھا ۔لہذا اس کی شرارتوں کو میں اپنے ہی سر تھونپ دیتا۔۔یونہی سزا مجھ کو ملتی۔۔ خیر دن گزرتے گئے،
ساتھ مل بیٹھنا، کھانا، اکھٹے سکول جانا، کھیلنا کودنا اور ساتھ سونا جاگنا ایک ایسا معمول بن گیا تھا کہ میں اس کی جدائی پل بھر کو بھی گوارا
نہیں کرتا تھا۔ جہاں تک شرارت کی بات تھی ، میں بھی اس سے کچھ کم نہ تھا۔اگر وہ رستم تھا تو میں سہراب، کبھی وہ ہار مانتا اور کبھی میں، مگر
رنز ریٹ کی اوسط سے مجموعی طور پر کامیابی ہمیشہ اس کا مقدر بن جاتی۔۔ کیونکہ تھپڑ میرے منہ کے زیور تھے اورخالی تنبیہ اس کے گلے کا ہار۔
ایک دن ہم ساتھ سو رہے تھے ، شرارت جو سوجھی مجھے، میں نے دانستہ نیند میں بڑبڑایا ،جیسا کہ عام طور پر بعض حضرات نیند میں گھبرا کے
اٹھتے ہیں اور طرح طرح کی باتیں کیا کرتے ہیں۔۔
میں نے کہ …؛؛ ارے شاہد، ادھر ادھر …ارے یار جلدی کرو…یقینی گول ہو جائے گا…چلو سامنے سے ہٹو…یہ کہہ کر میں نے جان بوجھ کر
اس کی کمر پر جو شارٹ ماری ، وہ درد سے کراہنے لگا.. حالانکہ وہ میرے بڑبڑاتے ہی نیند سے بیدار ہوا تھا ، مگرمیری شارٹ سے خود کو نہ بچا سکا۔
؛؛ بسم اللہ کہہ کر آدمی کو سونا چاہئے۔۔کیا ہو گیا ہے تمھیں… ہمارا تو بیڑا ہی غرق دیا تو نے؛؛ یہ کہہ کر اس نے کروٹ بدلی، میں نے اپنی ہنسی پر
بہر حال قابو پا لیا۔۔۔
یوں یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا رہا…… ایک دن ابو سے شکایت کی اور کہا کہ اسے میرے بستر پر مت سونے دینا ،۔۔رات نیند میں گھبرا کے
میری کمر توڑ دی ہے۔ ہر روز فٹ بال کھیلتا ہے۔۔ مگر اسی شام ہم پھر ایک ساتھ سوئے، مجھے کیا معلوم کہ وہ ان تمام شرارتوں کا بدلہ صرف
ایک ہی خوبصورت اور زوردار شارٹ سے لینا چاہتا تھا ۔۔.. حالانکہ میرے ٹائم ٹیبل میں آج آرام کا دن تھا،اس لئے سارا دن اچھلتا
کودتا بچہ بستر پر پڑتے ہی نیند کی ملائم آ غوش میں چلا گیا۔ آدھی رات گزر چکی تھی، اچانک میں نے بہکی بہکی آ وازیں سنی…… وہی فٹ بال
کا میچ، وہی بای پھینکنے کی آرزو ؛؛؛ ادھر ادھر…ارے یار،جلدی کرو… ہٹو میں کک لگاتا ہوں….میں نے سب کچھ جان رکھا تھا مگر اس سے پہلے میں اپنے آپ کو بچا لیتا. میری دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ ہائے رے شامت…..روؤں تو کیسے، آواز دوں تو کسے؟ اپنے کئے کا علاج کہاں
سے ڈھونڈھوں…….کراہتے کراہتے شب ڈھلی اور سحر اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ نمودار ہوئی اس کے بعد کیا ہوا ، یہ سوال ڈسپنسری
والوں سے پوچھئے۔
