
مضامین
داد بیداد ۔۔۔۔۔اساتذہ کی بھرتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صوبائی حکومت اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے مرغزر صوابی میں سکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے اس عزم کا اعلان کیا ہے کہ 2017ء کے دوران این ٹی ایس کے ذریعے صوبے میں 50 ہزار اساتذہ بھرتی کئے جائینگے گویا 50 ہزار تربیت یافتہ اساتذہ کو رو ز گار مل جائے گا یہ بہت بڑا قدم ہے اگریہ کام ضلع کی تعلیمی حکام اور صوبے کی نظامت تعلیما ت ،صوبائی پبلک سروس کمیشن اور صوبائی ٹیسٹنگ اتھارٹی (EETA) کے ذریعے کی جاتی تو عوام کو اس کا حقیقی فائدہ ہوتا پنجاب کی نجی کمپنی این ٹی ایس کے ذریعے کمر شل بنیادوں پر بھرتی کا مسئلہ اب تک متنا زعہ چلا آرہا ہے 2018 ء کے بعد جس پارٹی کی بھی حکومت آئی ۔این ٹی ایس کو خیبر پختونخوا میں قدم رکھنے نہیں دے گی ہو سکتا ہے50 ہزار اساتذہ کی بھرتی صوبے کے اندر این ٹی ایس کا آخری کا روبار ہو زیرو انوسٹمنٹ کے ساتھ شروع کیا گیا این ٹی ایس ساڑھے تین سالوں میں ٹیلی نار اور یو فون سے بڑا کا روباری ادارہ بن چکا ہے 50 ہزار اساتذہ کی بھرتی میں حاضر سروس اساتذہ بھی امتحان دینگے طریقہ واردات یہ ہے کہ ایک امیدوار 5سکولوں کے لئے فارم بھرے گا اور ڈیڑھ ہزار روپے جمع کرے گا فارم کے ساتھ تعلیمی اسناد جمع نہیں کی جائیگی اُمید وار مذکورہ پوسٹ کے لئے اہل ہے یا نہیں اس کو فارم جمع کرنا ہے پیسے جمع کرنے ہیں اگر 50 ہزار پوسٹوں کے لئے 20لاکھ اُمیدواروں نے ڈیڑھ ہزار روپے فی کس جمع کئے تو مذکور ہ کاروباری ادارے کے پاس راولپنڈی میں 3 ارب روپے جمع کئے جائینگے ٹیسٹوں پر 2 کروڑ روپے خرچ ہونگے اور کمپنی کو دوا رب 98 کروڑ روپے کا خالص منافع ملے گا ٹیسٹ دینے والوں میں نصف اُمید وار یعنی 10 لاکھ بندے حاضر سروس اساتذہ اور استانیاں ہونگی ایک چوتھائی یعنی 5لاکھ بندے تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے درخواست دینے کے اہل نہیں ہونگی اس کی جانچ پڑتا ل ٹیسٹ کے بعد ہوگی رزلٹ آنے کے بعد محکمہ تعلیم کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ٹیسٹوں میں حاصل کر دہ نمبر وں کو میرٹ میں جگہ دیتا ہے یا نہیں اس طرح یہ بے معنی مشق سال بھر جاری رہے گا صوبائی پبلک سروس کمیشن میں فارم جمع کرنے پر معمولی خرچہ آتا ہے تعلیمی اسناد کی چانچ پڑ تال کرنے کے بعد امیدوار کو ٹیسٹ کے لئے بلایا جا تا ہے اس طرح EETA میں بھی پہلے تعلیمی اسناد کی چھان بین ہوتی ہے اس کے بعد اُمید واروں کو ٹیسٹ کیلئے بلایا جاتا ہے اساتذہ کی بھرتی کا اختیار محکمہ تعلیم کے حکام کے پاس تھا اُس وقت بھی تعلیمی اسناد کو جانچنے کے بعد اُمید وار کو ٹیسٹ کیلئے بلایا جاتا تھا حاضر سروس لوگ ایک ہی پوسٹ ،ایک ہی گریڈ کے لئے دوبار ہ درخواست اور ٹیسٹ نہیں دے سکتے تھے مر د اُمید وار کے ٹیسٹ پر سفر کا خرچہ کم از کم چھہ ہزار روپے اور خاتون کے ساتھ محرم مرد کے سفر کا خرچہ کم از کم 12 ہزار روپے آتا ہے اس قدر مشقت ،اذیت کے بعد اُمیدوار کو بتا یا جاتا ہے کہ اس پوسٹ پر حاضر سروس استاد کو دوبارہ بھرتی کیا گیا یا تمہاری اسناد میں کمی تھی حاضر سروس کو اسی پوسٹ اور اسی گریڈ کے لئے دوبارہ ٹیسٹ دینے پر کس طرح مجبور کیا جاتا ہے ؟ یہ الگ کہانی ہے قصہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ این ٹی ایس کے ذریعے آنے والے اساتذہ کو قریبی سکول میں اُسی پوسٹ پر اُسی گریڈ میں تبدیل ہونے کے لئے دوبارہ ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا اگر اُس نے دوبارہ ٹیسٹ پاس نہیں کیا تو قریبی سکول میں تبدیلی نہیں ہوسکیگی اُمیدوار وں کی تعداد کو بڑھا کر ریونیومیں اضافہ کرنے کا یہ سیدھا سادہ طریقہ دریافت کیا گیا ہے ریونیوبڑھانے کا دوسرا طریقہ یہ کے تعلیمی اسناد کو چیک کئے بغیر ٹیسٹ لے لو ۔پولیس بھرتی کے لئے قد ،چھاتی ،اور جسمانی فٹنس کو چیک کے بغیر فارم بھرو پیسے داخل کرو ٹیسٹ دیدو بعد میں تمہیں بتایا جائے گا کہ تمہارا قد چھوٹا ہے چھاتی کی چوڑائی مطلوبہ معیار سے کم ہے یہ ایک شیطانی چکر ہے جس میں غریب لوگ تین سالوں سے گرفتار ہیں 22 آسامیوں کے لئے 3600 امیدوراوں کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے ایک ضلع سے 6 ہزار امیدوار 15سوروپے فی کس داخل کر کے ٹیسٹ دیتے ہیں راولپنڈی کی کمپنی کو سوات ،بنوںیا چترال سے 90لاکھ روپے کا ریونیوملتا ہے ٹیسٹ پر 3 لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں 87 لاکھ روپے کمپنی کا خالص منافع ہے جو پنڈی کے بینک میں جاتا ہے صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر وہ شخصیت ہیں جنہوں نے گاؤ ں گاؤں جا کر پارٹی کا پرچم لہرایا ہے پالیسی بنانے والے کی ادارے کی سربراہی آپ کے پاس ہے اگر چترال ،شانگلہ اور سوات کے عوام سے آپ دور ہیں کم از کم صوابی اور مرغزر کے عوام کی خاطر صوبائی اسمبلی میں پالیسی بنا کر تین کاموں میں سے ایک کام کریں اساتذہ کی بھرتی کا کام پبلک سروس کمیشن اور EETA کو دیدیں اگر اس میں کوئی روکاوٹ ہیں تو یہ کام متعلقہ محکمے کو دیدیں اگر یہ بھی ناممکن ہے تو پھر پنجاب سے آنے والی نجی کمپنی کے اختیار ات محدود کریں متعلقہ محکمہ درخواستوں کی جانچ پرتا ل کرے حاضرسروس لوگوں کو اسی گریڈ اور اسی پوسٹ کے لئے دوبارہ درخواست دینے سے روکے جن کے تعلیمی کوائف مکمل نہ ہوں ان کے کاغذات مسترد کرے صرف ایسے امیدواروں کو فارم اور بینک چالان ایشو کریں جو ٹیسٹ کے بعد ملازمت کے اہلیت رکھتے ہوں اسطرح این ٹی ایس کی آمدنی میں 80 فیصد کمی ہوگی مگر اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ صوبے کے غریب عوام این ٹی ایس کی اذیت سے بچ جائینگے گے شکسپیر کے ایک ڈرامے کا خوبصورت ڈائیلاگ اب مقولہ بن چکا ہے ڈائیلاگ میں اداکار کہتا ہے ’’اگر چہ یہ پاگل پن ہے اس میں سلیقہ ضرور ہے ‘‘ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ این ٹی ایس کے پاگل پن میں سلیقہ بھی نہیں ہے
