
داد بیداد……….دفتری نظام کی اور ہالنگ
………….ڈاکٹر عنایت اﷲفیضی……………
خبر آگئی ہے کہ بلوچستان کے سکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی پر 40 ارب روپے غبن کا کیس ثابت ہونے کے بعد نیب کے ساتھ 2 ارب کے عوض ملزم کی رہائی کی بات چیت چل رہی ہے عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم سے 40ارب روپے کا پورا حساب لیا جائے نیب کے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے قومی خزانے میں 2 ارب روپے جمع ہونگے جبکہ 40ارب روپے کی ریکوئری کا مقدمہ 40سالوں تک چلے گا آخر میں ملزم باعزت بری ہو کر گھر جائے گا قومی خزانے میں ایک پائی نہیں آئیگی۔ مشتاق رئیسائی کے گھر پر چھاپہ مار کر اربوں روپے کی نقد کرنسی اور سونے جو اہرات برآمدکیے گئے تھے بظاہر نیب کا موقف غلط نظر آتا ہے۔38ارب روپے ملزم کو دے کر 2ارب روپے پر کیوں کر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے دفتری نظام اور دفتری طریقہ کار کے مطابق ملزم پر 40سال مقدمہ چلے گا۔آخر میں نتیجہ صفر ہوگا 2ارب روپے بھی ہاتھ نہیں آئینگے پشتو میں کہتے ہیں نہ چرگ نہ چر گوڑی، نیب کا یہ قانون ، پلی بارگین، کہلاتا ہے۔ جس کی رو سے ملزم اپنی رضامندی سے لوٹے ہوتے مال کا کچھ حصہ ادا کر کے باقی کو ہضم کر لیتا ہے۔ اس قانون پر سوالات اُٹھائے جاتے ہیں۔ تاہم مشتاق رئیسائی کیس میں نیب کے وکیل نے نئی بحث چھیڑی ہے یہ ہمارے ملک کے دفتری نظام کا نوحہ ہے دفتری نظام کی فرسودگی کا ما تم ہے۔ جس کا کوئی بھی کل پرزہ درست نہیں کوئی بھی کل پرزہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت سے نالاں ہو کر گزشتہ3سالوں میں 25غیر ملکی اداروں نے اپنے دفاتر بند کئے ۔ اور اپنا فنڈ پنجاب یا سندھ منتقل کیا ۔ بعض نے افعانستان کو بھی خیبرپختونخوا سے بہتر قرار دیا۔ وہاں سسٹم موجود ہے۔ یہاں سسٹم برباد ہو چکا ہے بلوچستان کا بھی یہی حال ہے۔ دفتری نظام برباد ہو چکا ہے۔ اس لیے خزانے کا سکرٹری 40ارب روپے کا غبن کرتا ہے۔ 2ارب روپے واپس کر کے 38ارب کی حق حلال کمائی کو ہضم کر نا چاہتا ہے۔ ملزم اگر سیاست میں آیا تو یقیناًصوبے کا وزیر اعلیٰ بنے گا ۔ نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری سول سروس کے نامور افیسر ہیں ان کو ملک کے فرسودہ اور ناکارہ دفتری نظام کا حا ل معلوم ہے۔ 3بڑی مثالیں قابل غور ہیں۔2015 کے زلزلوں اور سیلاب کے بعد یورپی یونین ،یو ایس ایڈ، جائیکا، ایس ڈی سی، جی آئی زی اور دیگر امداد دینے والی ایجنسیوں نے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 3 ارب ڈالر کا فنڈ دیدیا۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے قواعد کے مطابق این او سی جاری کرنے میں 14 مہینے لگائے۔ کسی بھی سکیم کے لیے این او سی جاری نہ ہو سکا اور 3ارب ڈالر کا فنڈ واپس کیا گیا۔ جون 2015 میں ٹوٹے ہوئے پُل ، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور آبنوشی یا آبپاشی کی سکیمیں 18 مہینے گزرنے کے باوجود اُسی طرح برباد حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔ ایمرجنسی اور ہنگامی حالات میں این اہ سی کا پُرزہ 10 منٹ میں تیار ہونے کی جگہ 14مہینوں میں بھی تیار نہیں ہوتا۔ اسلام آباد کے پاک سکر ٹریٹ کا حال پشاور کے سول سکر ٹریٹ سے مختلف نہیں۔ ایک بڑی یونیورسٹی کے حوالے سے اہم سرکاری خط یکم ستمبر 2016 کو وزیر اعظم کے سکرٹریٹ میں پہنچا۔ 26اکتوبر کو یہ خط کیپٹل ایڈ منسٹریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیژن کو بھیجا گیا۔ خط کے ساتھ اس دفتر کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ 16 دسمبر 2016 کو مذکورہ دفتر نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے تعلق رکھنے والا خط ایلمینٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کو ارسال کر دیا۔ اور15 دنوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر کے خط کی کاپی وزیراعظم سکرٹریٹ کو بھیجدی۔ یوں 3 ماہ گزرنے کے بعد اہم خط ایک غلط پتے پر غیر متعلقہ افیسر کو بھیجدیا گیا۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یا دیو کے معاملے میں اس طرح کی اوٹ پٹانگ دفتری کاروائی ہوئی۔ حویلیاں کے قریب پی ائی اے کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے کی تحقیقات کے لیے اس طرح کی بے مقصد خط و کتابت ہوئی جس کا کوئی مقصد نہیں۔2015کے سیلاب کے بعد ضلع چترال کے اندر وبائی امراض کی روک تھام کے لئے میڈیسن کی مد میں وفاقی حکومت نے این ڈی ایم اے کے ذریعے ایک کروڑ ستر لاکھ روپے جاری کئے ۔ ڈیڑ ھ سال گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت نے فنڈ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ وبائی امراض گزرگئے۔ آغاخان ہیلتھ سروس اور فوکس نے خدمت کی۔ ہاشو فاونڈیشن نے کام کیا ۔ فیف فاونڈیشن نے کام کیا۔ جن کو بچنا تھا ۔ وہ بچ گئے۔ جن کی قسمت میں موت لکھی تھی وہ مر گئے۔ ہمارا دفتری طریقہ کار کسی کے کام نہیں آیا ۔ ایک کروڑستر لاکھ روپے میں کسی مریض یا مریضہ ، بچہ یا بچی کو پیراسٹامول کی ایگ گولی یا نمکول کی ایک شیشی بھی نہ ملی۔ یہ دفتری نظام کے ناکارہ ہونے کی دلیل ہے۔
مشتاق رئیسائی غبن کیس میں نیب کا وکیل اگر 2ارب روپے کے عوض 38ارب روپے ملزم کو بخشنا چاہتا ہے۔ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دفتری نظام میں غبن شدہ رقم کی ایک پائی بھی واپس لینا ممکن نہیں یہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ اس نظام کو مکمل اور ہال کی ضرورت ہے۔ مختارمسعود، روئیداد خان ، سید مظہر علی شاہ،سعید مہدی، ڈاکٹر صفدر محمود ،اوریا مقبول جان اور بشیرحسین طاہر جیسے بڑے پایے کے بیوروکریٹ ابھی زندہ ہیں۔ ان کی عمر کے لوگوں کو پتہ ہے کہ 1960،1970 اور1980 کے عشروں کا دفتری نظام کیسا تھا؟ دُور جانے کی ضرورت نہیں۔ جنرل مشرف کے دور میں بھی دفتری نظام برباد نہیں ہوا تھا ۔ بھٹو شہید ہر شہری کے خط کا جواب اپنے دستخط سے دیتے تھے ان کے خطوط محفوظ ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے دفتر سے ایک ہفتے کے اندر خط کا درست جواب آجاتا تھا۔ اس سے پتہ چلتا تھا کہ دفتروں میں کچھ نہ کچھ ہو رہا ہے۔ اب دفتری نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے ۔ اس کے مکمل اورہالنگ کی ضرورت ہے۔ اور ہالنگ کے لیے پھر بھٹو یا مشرف جیسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ نیب کا وکیل سچ کہتا ہے بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، 40ارب روپے غبن کے ملزم سے دو ارب روپے لے لو ورنہ وہ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔
