
رموز قلم۔۔’’ جہیز کے خلاف بھی عالمی دن منایا جائے‘‘۔
…………..۔ تحریر۔۔صوبیہ کامران۔۔ بکرآباد چترال………………
دنیامیں کوئی بھی معاشرہ سو فیصد برائیوں سے مبرا نہیں ہو سکتا، ہر جگہ کوئی نہ کوئی الجھن اور کوئی مشکل ضرور ہوتی ہے جو معاشرے پر منفی اثر ڈالتی ہے ، لیکن با شعور اور متمدن قوموں کے ہاں ایسی برائیوں کی حوصلہ شکنی اور ان کی اصلاح کی فکر بھی باقاعدہ سنجیدگی سے ہوتی ہے اور وہ اس سے نمنٹے کیلئے اپنی انتہائی محنت صرف کرتے ہیں۔ اگر چہ آج کی دنیا میں متمدن سمجھی جانے والی اقوام تہذیب و تمدن ، آسمانی ہدایات اور وحی کی رہنمائی سے یکسر محروم ہیں اور اسی وجہ سے ان میں اخلاقی ، انسانی اقدار اور شرم و حیا جیسے متاع انسانی اوصاف نا پید ہوگئے ہیں اور ان کی نظر صرف مادی ضروریات پر اٹک گئی ہے لیکن وہ جس چیز کو اپنے حق میں مضر اور اپنے معاشرے کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اپنے صلاحیتوں کا بھر پور استعمال کرتے ہیں اور جس چیز کو اپنے معاشرے میں عام کرنا چاہتے ہیں اس کو پھیلانے میں سنجیدگی سے محنت کرتے ہیں ۔چند دیگر معاشرتی مسائل ایسے ہیں جن میں مبتلا لوگوں کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے ان میں سے ایک موذی قسم کی رسم ’’ جہیز ‘‘ ہے۔ اس رسم کی قباحت ، شناعت اور لعنت ہونے میں کسی کو شبہ نہیں حتیٰ کہ وہ لوگ جو اس رسم کا طوق گلے میں ڈالے رسوا اور خوار ہیں وہ بھی اس حقیقت کو جانتے اور مانتے ہیں کہ یہ ایک خطرناک ناسور ہے جس نے لڑکیوں کی زندگی کو ایک وبال بنادیا ہے لیکن کسی طرح اس کو چھوڑ دینے کی ہمت نہیں ہو پاتی۔۔۔۔۔ ہزاروں لڑکیاں ’’ ہاتھ پیلے ‘‘ ہونے کے انتظار میں مانگ سفید کر دیتی ہیں اور ہزاروں ایسی ہیں کہ جو اپنی ابتدائی عمر کے کتنے سال کڑھائی، سلائی کی نذر کردیتی ہیں تاکہ وہ اپنے ہونے والے ’’ با غیرت‘‘ شوہر کا گھر آباد کرسکیں۔ حد یہ ہے کہ وہ نہ صرف اس بے حس شوہر کیلئے پہننے اوڑھنے کا سامان فراہم کرتی ہیں بلکہ اس کے والدین اور رشتہ داروں کیلئے لباس تک کا انتظام کرنا ان پر لازم ہے ، اگر وہ اس طرح نہیں کریں گے تو زندگی بھر طعنے سنیں گی اور ذلیل ہوا کریں گی ۔ یہ تفصیل میں کسی ساتھی سے سن کر سکتہ میں آگیا کہ کیا مردوں کی غیرت اور مردانگی اس حد تک مر گئی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لائے ہوئے بستر پر آنکھیں جھکا کر سوتے ہیں ، اسی کے لائے ہوئے برتنوں میں کھاتے ہیں ، اس کو ذرا بھی غیرت اور مردانگی کے خلاف نہیں سمجھتے، افسوس صد افسوس ہے لیکن یہ حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔۔۔ جہیز کے خلاف اصلاح احوال کی کوشش کرنے والے بہت کچھ کہتے اور محنت کرتے ہیں لیکن یہ لعنت بری طرح بعض برادریوں کی گردن میں پڑی ہوئی ہے۔ ادھر حکومت جو قانوناََ اور اخلاقاََ اصلاح معاشرہ کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ قانون اور اخلاق کی نایابی کی وجہ سے اس طرف توجہ دینے سے قاصر ہے ۔ حکومت اگر جہیز کے خلاف اتنی مہم چلائے جتنی خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف چلاتی ہے تو اس سے واضح بہتری آسکتی ہے ، مگر چونکہ ذہنی طور پر یہاں کے حکمرانوں اور اونچے طبقات کے لوگوں میں ذہنی غلامی اور محکومی کی روایت چلی ہوئی ہے ، اس لئے خاندانی منصوبہ بندی تو ان کے ہا ں ضروری ہے کہ یہی آقاؤں کا حکم ہے ، جہیز کے بارے میں گوروں کا کوئی آرڈر نہیں اور نہ ہی اس کے ہونے نہ ہونے کے ساتھ ان کا کوئی مفاد وابستہ ہے اس لئے اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ چوراہوں پر ایسے ایسے بورڈ لگے نظر آتے ہیں ، جن پر دو بچوں کی تصویر ہوتی ہے اور لکھا ہوتا ہے ۔ ’’ دو ہی بچے ۔۔۔۔۔ سب سے اچھے‘‘ ، ۔۔’’ چھوٹا خاندان ۔۔۔۔۔ زندگی آسان‘‘۔ یا اور ۔۔۔۔ اب مزید نہیں وغیرہ۔ اخبارات میں دانشوروں سے خاندانی منصوبہ بندی کے حق میں کالم لکھوائے جاتے ہیں ، دلائل دئے جاتے ہیں اور اس پر خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ اب تو خاندانی منصوبہ بندی کا عالمی دن بھی بڑے زور و شور سے منایا جانے لگاہے، اور دو ہی بچوں پر اکتفا کرنے پر زور دیتی ہے۔ کاش کبھی جہیز کے خلاف بھی کوئی عالمی دن منایا جائے اور کاش! ان لڑکیوں کو اور انہیں ابھار کر سڑکوں پر لانے والوں کو اس رسم بد کے خلاف بھی دو بول بر سر عام کہنے اور احتجاج کرنے کی توفیق ہو۔
