ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا …پارلیمنٹ ہاوس میں چوہے

…………ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی ؔ ….

Advertisements

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خبرآگئی ہے کہ اسلام اباد کے پوش علاقے میں واقع پارلیمنٹ ہاوس میں جنگلی چوہے گھس آتے ہیں جو ن سے دسمبر تک چھ مہینوں میں 430 چوہوں کو جہنم رسید کیا گیا ہے اور یہ کام ایک ٹھیکہ دار ایک چوہے کو مارنے کے لئے 900 روپے وصول کرتا ہے اور بل کی ادائیگی کے وقت پتہ لگتا ہے کہ کتنے چوہے مارے گئے جون 2016 ء میں خیبر پختونخوا کے دارلحکومت پشاور میں بھی چوہے نکل آئے تھے یہاں بھی پیسے دیکر چوہے مارے جا رہے تھے یہا ں تک کہ 25 ہزار روپے تک کی رقم ایک چوہے کو مارنے پر لگائی گئی پھر بھی چوہے ختم نہ ہوئے وطن عزیز کی دیہاتی اور شہری زندگی میں عوامی علم اور روایتی دستور کے تحت چوہا ایسا جانور ہے جس کو چور کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے قدیم زمانے کی ریاستی انتظامیہ کے اندر غلے کے گوداموں کی نگرانی کرنے والوں کو چوہوں کے نام الاونس ملتا تھا ایک من غلے میں آدھ سیر چوہے کے نام مہیا کیا جاتا تھا اس طرح گودام کا نگران اضافی فائدہ حاصل کرتا تھا سرکاری کھاتے میں لکھا جاتا تھا ’’تبام موش ‘‘اس کا انگریزی متبادل ’’ان دی نیم آف ریٹس ‘‘آتا تھا مقامی لوگ اپنی مادری زبان میں اس کا نام رکھتے تھے اگر کوئی ڈنڈی مارتا یا بے ایمانی کرتا تو کہتے تھے کہ کہ چوہے کے نام پرعیش کر رہا ہے پارلیمنٹ ہاوس کا ٹھیکہ دار بھی چوہے کے نام پر عیش کر رہا ہوگا یہا ں سنجیدہ سوا ل یہ ہے کہ اسلام اباد میں بڑے بڑے ہوٹل ہیں بڑی بڑی مارکیٹیں ہیں ایوان صدر ہے وزیر اعظم ہاوس ہے سپریم کورٹ ہے سکرٹریٹ ہے آخر تمام جگہوں کو چھوڑ کر چوہوں نے پارلمینٹ ہاوس کا رخ کس وجہ سے کیا ؟مجھے تو یہ چوہے کسی علامتی ناول کے کردار وں کی طرح نظر آتے ہیں ان کی تعداد بھی اراکین پارلیمنٹ کی تعداد سے قریب تر معلوم ہوتی ہے مجھے کافی گڑبڑ نظر آتی ہے جمہوریت کے خلاف یہ گہری سازش بھی ہوسکتی ہے ان چوہوں کی وجہ سے جمہوریت کا پانسہ پلٹ بھی سکتاہے ابھی عینی شاہدین کی شہادتیں منظر عام پر نہیں آئیں پارلیمنٹ ہاوس میں چوہے مارنے والے ٹھیکہ دار اور اس کے کارکنوں کو کن کن مشکلات کا سامناہوگا تاہم چشم تصور سے اس کا نظارہ کیا جا سکتا ہے اگر ٹھیکہ دار صاحب ذوق بندہ ہے تو اس نے فوجی اصطلاحا ت کی نقل اتارتے ہوئے چوہے مارمہم کو ’’اپریشن ڈے لائٹ ‘‘یا ’’اپریشن مڈنا ئٹ ‘‘کا نام دیا ہوگا وہ اس مہم کو ’’اپریشن ٹائٹل سٹارم ‘‘یا اپریشن جمہور ‘‘کا نام بھی دے سکتا ہے اگر چوہوں کے استحقاق کو مجروح کرنے کا خدشہ نہ ہوتا تو ہم اس مہم کو ’’اپریشن پوآئنت آف آرڈر ‘‘کا نام دینے کی تجویز بھی دے سکتے تھے مگر چوہوں کا استحقاق مجروہو سکتا ہے آپ اس مہم کو کسی بھی نام سے پکار یں چشم تصور سے نظارہ کریں ایک چوہا سپیکر کے چیمبر میں دیکھا گیا ہے ٹھیکہ دار نے ایک ٹارگیٹ کلر کو اس کے پیچھے لگا دیا ہے مگر چوہا ہاتھ نہیں آرہا بڑی تگ و دو کے بعد سپیکر کے چیمبر سے نکل وی کا نشان بناتے ہوئے لیڈر آف دی ہاوس کے چیمبر میں گھس گیا ہے ٹارگٹ کلر اپنے قاتل کو جُل دے کر یو ٹرن لیتا ہے اور ایک بار پھر وی کا نشان بنا کر لیڈر آف دی اپوزیشن کے چیمبر کی طرف رُخ کر تا ہے اور وہاں پناہ لیتا ہے ٹھیکہ دار دوڑے ،دوڑے سپیکر کے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے کہ لیڈر آف دی اپوزیشن نے دہشت گرد کو پناہ دی ہے اس کے پاس ’’سیف ہیون ہے ‘‘سپیکر کہتا ہے وزیر داخلہ کے پاس جاؤ،وزیر داخلہ کہتا ہے میں کل پارلمینٹ کے اندر اس پر بیان دونگا اتنے میں خبرآئی ہے کہ سنا ئیپرز (Snipers) نے شبخون مارا۔ لیڈر آف دی اپوززیشن کے چیمبر میں چوہے کو مارا گیا اب بل وصول کرنے کیلئے اس کا جسد خاکی باہر لایا جارہا ہے تا کہ سند رہے اور بوقت وصولی کام آئے اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ چوہوں نے پارلیمنٹ ہاوس میں کئی ٹھیکہ داروں کے لئے روزگار پیدا کیا ہے کراچی سے بھاگنے والے ٹارگیٹ کلر اب پارلیمنٹ ہاوس کی چوہے مار مہم میں اپنی مہارت دکھا سکتے یں پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی ویسے بہت سے دوستوں کا خیال ہے کہ ٹھیکہ دار کی جگہ بی مانو یعنی ایک بلّی کی خدمت حاصل کی جائیں تو چوہوں کا صفایا ہو سکتا تھا مگر ان دوستوں کو حالات کا پورا علم نہیں پارلیمنٹ ہاوس کے چوہے معمولی چو ہے نہیں ہیں بلّی شیر کی خالہ ہے او ر یہ شیر کے بچے ہیں ان کا مقابلہ بلی کے بس کی بات نہیں جس طرح انٹی کرپشن کی ناکامی کے بعد نیب کو میدان میں اتارا گیا اسی طرح بلی نے ہتھیار ڈال دیئے تو ٹھیکہ دار او ر اس کے ٹارگیٹ کلروں کو حرکت میں لایا گیا ہے ایک مشہور و معروف ٹارگیٹ کلر کا کہنا ہے کہ چوہوں نے پارلیمنٹ ہاوس کے اپنی روایتی کالونی قائم کی ہے اس کالونی میں وہ اراکین پارلیمنٹ کی نقل اتار تے ہیں ٹارگیٹ کلر کہتا ہے کہ میں تین چوہوں کو اسحاق ڈار کے نقل اتارتے وقت گولی ماردی ،ایک چوہے ایسی حالت میں گولی ماری جب وہ جمشید دستی کی نقل اتار رہا تھا ٹارگیٹ کلر کا بیان ہے کہ دو چوہے اب تک ہاتھ نہیں لگے ایک وہ چو ہا جو شیخ رشید کی نقل اتار تا ہے وہ ہاتھ نہیں آیا دوسرا وہ چوہا جو چوہدری نثار علی خان کی نقل اتارتا ہے وہ کسی بھی طرح نشانے پر نہیں آتا میں ٹارگیٹ کلر سے کہا ایسے چوہے ڈھونڈو جو وزیراعظم محمد نواز شریف اور ان کے کٹر مخالف عمران خان کی نقل اتارتے ہوں ٹارگیٹ کلر نے کہا چوہے ٹی وی نہیں دیکھتے پارلیمنٹ کے اندر آنے والے ممبروں کی نقل اتارتے ہیں وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے کٹر مخالف عمران خان پارلیمنٹ میں اپنا چہرہ نہیں دکھا ئے اس لئے ایسا کوئی چوہا نہیں ملا جو ان کی نقل اتارتا ہو خبروں میں بتایا گیا ہے کہ پارلمینٹ ہاو س کو چوہوں سے پاک کرنے کے لئے ایک پارٹی کو 6 لاکھ روپے کا ٹھیکہ ملا ہے گویا اس اہم ترین عمارت میں 670 کے قریب چوہے پائے جاتے ہیں یاد رہے یہ ان چوہوں کی نسل سے تعلق نہیں رکھتے جن کو پارلمینٹ ہاوس سے نکالنے کے لئے بارباز جی ایچ کیو اور ٹرپل ون بریگیڈ کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں 2016 کے دوران پشاور اور اسلام آباد پر چوہوں کی یلغار سے کئی نتا ئج اخذ کئے جا سکتے ہیں سردست ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا پارلیمنٹ ہاو س کے اندر گھسے ہوئے چوہوں سے ہماری جمہوریت ،ہمارے آئین اور ہمارے پیارے ملک کو بچائے ۔
یا رب زمانہ مجھ کو مٹایا ہے کس لئے
لوح جہاں پر حرف مکر ر نہیں ہوں میں

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى