
رموز شاد۔۔۔ قاری نصیر الدین المعروف( حفیظ استاد )
………………تحریر۔۔ارشاداللہ شاد۔۔بکرآباد چترال
’’بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا‘‘
قاری نصیرالدین المعروف( حفیظ استاد) ان عظیم شخصیتوں میں سے ایک تھے کہ جب وہ شخصیت اٹھ جائے تو پھر اس کی نظیر دوبارہ دنیامیں کم پائی جاتی ہے، اور جو خلا اس کے جانے سے پیدا ہوتا ہے، وہ بمشکل پُر ہو سکے۔ایک طرح عجیب بھی تھے اس دور کے انسان تو تھے ہی نہیں ، نہ معلوم کس دور کے تھے؟
26دسمبر 2016ء کو حقیقی اور دائمی نعمتوں کو لینے کیلئے رب کے حضور پیش ہو گیا ، چنانچہ رب نے خوب نوازا ہوگا۔ اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائیں۔ اس درویش صفت انسان کے تمام پہلو قید تحریر میں لانا مجھ جیسے طالبعلم کے بس کی بات نہیں ، تاہم ان کی زندگی و شخصیت کے نمایاں پہلو اجاگرکرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
موصوف کی فقیرانہ زندگی ، درویشانہ صفات، عاجزانہ گفتگو کو تعبیر کرنے کیلئے درجنوں عنوانا ت قائم کئے جا سکتے ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک ان کے زندگی کے جس گوشے کو سب سے زیادہ اولین ترجیح کے طورپر سامنے لایا جانا چاہئے۔ وہ ہے ان کی خلوت نشینی، عاجزی، فقیری، نرم خو اور درویشانہ صفات ہیں۔ موصوف کی زندگی میں اتباع سنت کا انتہاء درجہ اہتمام تھا۔ اپنے دن کو جناب محمد رسول ﷺ کے مبارک، منور، معطر و مشک بار الفاظ کی تعلیم و تدریس میں صرف کرنے کے ساتھ ساتھ وہ عملی طور پر بھی اتباع سنت کا ایک چلتا پھرتا نمونہ تھے ۔ لوگ انھیں دیکھ کر کسی بھی عمل میں سنت طریقے کو پہچانا کرتے تھے۔موصوف کے اٹھ جانے سے علم و عمل، ورع و تقویٰ، سادگی و قناعت،تواضع و انکساری، للھیٰت، اخلاص و ایثار اور خشیت و انابت کے کامل نمونے نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوگئے ہیں۔ وہ بلا شبہ نمونہ فقر، مرقع درویشی، اور ابروئے اہل علم تھے۔ علم کی پیاس بجھانے کیلئے وہ دہلی تک پہنچ گئے ، وہاں سے علم حاصل کرنے کے بعد دورہ حدیث کی تکمیل کراچی سے مکمل کی۔ موصوف کی زبان سے ادا ہونے والا ایک ایک لفظ درد دل کا غماز ہوتاتھا ۔ ان کی زبان حق ترجمان سے جو لفظ نکلتا تھا دل و دماغ میں پیوست ہو جاتاتھا۔ زبان و بیان میں کوثر تسنیم کی آمیزش تھی ، تقریر سادہ مگر پر تاثیرہوتی… بولتے ایسے گویا موتی رولتے… گفتگو اتنی دلچسپ تھی کہ ہر سامعین عش عش کرکے اٹھتے تھے… صحابہ کرامؓ کی حکایات بیان کرتے کرتے اس پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی.. آواز بیٹھ جاتی…. زبان جواب دے جاتی…. سینہ تھک جاتا…. مگر جذب و کیف کے عالم میں دینی پیغام دیئے جاتا… . حکایت دل سناتا جاتا…. قصہ پارینہ دہرائے جاتا…. آواز کی خستگی میں ایک عجیب دل کشی ہوتی … معلوم ہوتا کہ سینے میں ایک لاوا ہے جو ابل ابل کر باہر نکل رہا ہے… ایک آتش فشاں پہاڑ ہے جو پھوٹ رہا ہے… ایک بحر متلاطم ہے جو غفلت و لادینی کے خس و خاشاک کو بہا لے جانا چاہتا ہے ۔ اللہ کا یہ فقیر بندہ شب و روز تڑپتا رہا… بلکتا رہا…. آہ و بکا کر تا رہا…. اسے نہ شادیوں کی مجلسوں میں شرکت کی فرصت ہے نہ خوش گپیوں کیلئے وقت، نہ منصب و عہدہ کی خواہش ہے… نہ جلب سیم و زر کی ہوس… اسے تو بس ایک ہی فکر ہے دماغ اسی فکر میں غلطاں… زبان پر اسی کا ذکر و بیان اور آنکھیں اسی کیلئے وقف گریاں….وہ شہر شہر ، قریہ قریہ، بستی بستی، کو بہ کو اسی فکر اور درد کیلئے دیوانہ وار پھرتا۔ اس کی عادتوں میں سے ایک عادت یہ بھی تھی کہ موصوف کبھی بھی پانچ وقت کانماز اپنے محلے کی مسجد میں نہیں پڑھی۔ فجر کی نماز اگر وہاں پڑھی تو ظہر کیلئے کسی دوسری مسجد اور عصر کیلئے کسی اور مسجد، مغرب کیلئے بھی دوسری مسجد، اسی طرح عشاء کی نماز کیلئے بھی کسی دوسری مسجد کا رخ کیا کرتے تھے۔ وہ اکثر ہمارے مسجد میں آتے تھے جو ان کے گھر سے ایک کلومیٹر مسافت پر واقع ہے ۔ ہم آپس میں بیٹھتے تو گھنٹوں میں بیٹھے رہتے اور مختلف النوع موضوعات پر گپ شپ ہوتی تھی ، اس طرح ہم محو گفتگو رہتے تھے۔
موصوف صاحب کم گو، خاموش طبع ، اور اوقات کی قدر کرنے والے مشہور تھے۔ علمی انہماک کیلئے قناعت کی صفت لازمی ہوتی ہے ورنہ دنیا کی حرص آدمی کو علمی و عملی مشاغل سے ہٹا دیتی ہے۔ چنانچہ موصوف صاحب کو قناعت کی صفت سے وافر حصہ ملا ہوا تھا۔ موصوف کا خاص وصف جس کی وجہ سے وہ دیگر ہم عصروں سے ممتاز نظر آتے تھے ، وہ ان کی انکساری ، تواضع اور عاجزی تھی۔ بڑے نرم خو اور اخلاق حمیدہ کے مالک تھے، ہر ایک کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ ملتے تھے، ٹھہر ٹھہر کر نرم لہجے سے بات کرتے تھے، سادہ فقیرانہ لباس زیب تن کرتے تھے۔ موصوف زاہد و عابد اور شب زندہ دار تھے ۔ نماز میں کھڑے ہوتے تو یوں لگتا جیسے دنیا و مافیھا سے بے خبر ہیں۔ نماز کامل توجہ سے پڑھتے تھے، جاہ و دنیا طلبی کی ذرا بھر خواہش آپ میں نہ تھی ۔ ہر لمحہ سوچ و فکر کی وادیوں میں بھٹکتے رہتے تھے۔ ان میں خلوت نشینی ، ذکر الہی اور تلاوت قرآن کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ موصوف اس دور کے انسان تھے جس میں ہم سب جی رہے ہیں۔ لیکن ان میں ایک درد تھا جو اس دور میں خال خال لوگوں میں ہے ۔ علماء کرام کی کہکشان کا یہ جگمگاتا ستارہ ہمیں یتیم چھوڑ کر عالم آخرت کو سدھار گیا ہے۔ ان کا مسکراتاہوا چہرہ تصور میں آتا ہے تو دماغ شل ہو جاتا ہے ، سوچنے کی صلاحیتیں مسلوب ہوجا تی ہے۔
’’تمھاری یاد آتے ہی نکل پڑتے ہے دو آنسو
یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا‘‘
اوپر جو کچھ ہم نے آپ کے سوز دروں اور درد دل کی بابت کہا یہ محض دلکش لفاظی و تخیلاتی بات نہیں ۔ واقعات اور حالات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ افلاس و قحط الرجال کے اس دور میں انگلیوں پر گنی جانے والی ایسی شخصیات جو اپنے علم و عمل ، زہد و تقویٰ، خلوت نشینی کی بناء پر پورے عالم اسلام میں محبوب و محترم ہے۔ لیکن اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کی رحلت سے چترال کے دینی حلقے ایک مشفق، استاد، ایک مربی و شیخ، اور پیکر علم و عمل ہستی سے محروم ہوگئے۔ آپ کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پُر نہیں کیا جا سکے گا۔
موصوف کی درویشانہ زندگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ان کا فیض صدیوں جاری و ساری رہے گا۔ مرحوم کی نماز جنازہ ان کے آبائی گاؤں بکرآباد اچینگول میں ادا کی گئی۔ وفات کی خبریں سن کر علاقے بھر کے ان کے تلامذہ ، علماء و طلباء، مذہبی و سیاسی قائدین پہنچ گئے۔ جنازے میں لوگوں کا جم غفیر تھا ۔ کسی عہدے و منصب اور نام وری کے بغیر ان کے جنازے میں کثیر تعداد میں لوگوں کی شرکت اس امر کی غماز تھی کہ وہ لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو خلد بریں میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا کریں اور ان کی مرقد پر اپنے انوار کی بارش برسائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آمین
