
صدا بصحرا ……خانہ شماری اور مردم شماری
…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ………..
عدالت عظمیٰ کے حکم سے ملک میں مردم شماری کا کام مارچ 2017 میں ہونے والا ہے مر دم شماری کے لئے پہلے مر حلے میں خانہ شماری کا آغاز کیا جائیگا خانہ شماری بنیادی کام ہے اس کام سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مر دم شماری کس طرح ہوگی اور ا س کا طریقہ کا رکیا ہوگا ؟اس وقت ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجو کیشن خیبر پختونخوا کی طرف سے جو خانہ شماری ہورہی ہے اس کے لئے شمار کنندہ کو ٹریننگ دینے کا کوئی انتظام نہیں ہوا کوئی مینو ئل تقسیم نہیں کیا گیا شمار کنندہ ،سپر وائزر اور کمشنر تک کے فرائض اور ذمہ داریوں کا تعین نہیں ہوا شمار کنندگان کو خطوط ،پیغامات بر وقت نہیں بھیجے گئے ایک سہانی صبح کو سکول کا چوکیدار یا چپڑاسی استاد کے گھر پرد ستک دے کر کہتا ہے خانہ شماری کیلئے آجاؤ بڑے افیسروں کا یہ خیا ل ہے کہ ہر سکول کا استاد پیدائشی طور پر شمار کنندہ ہے اس کو مینویل کی ضرورت نہیں خط اور پیغام کی ضرورت نہیں تربیت کی ضرورت نہیں ،نگرانی کی ضرورت نہیں ، خانہ شماری ہے ارام سے ہو جائے گا ، پھر مردم شماری کا مرحلہ آئے گا تو دیکھا جائے گا وہ بھی اسی طرح کسی مینویل او رتربیت کے بغیر ہو جائے گا کم از کم خیبر پختونخوا ، ملاکنڈ ڈویژن اور چترال جیسے پہاڑی اضلاع میں مردم شماری یا خانہ شماری کے لئے تربیتی پروگرام ، اور نٹیشن اور پائیلٹ ٹیسٹنگ کی کیا ضرورت ہے ؟محکمہ تعلیم کے اس غیر پیشہ وررانہ طرز حکمرانی او رغیر پیشہ ورانہ طریقہ کار کی وجہ سے یو نیسف (UNISEF) اور دیگر عالمی ادارے حکومت سے نالاں ہیں جس عالمی ادارے کا سروے آتا ہے وہ حکومت پاکستان پر اعتماد نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے حکومت کے غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کی وجہ سے عالمی ادارے ہماری حکومت کی سینسس رپورٹ کو بھی سنجید ہ نہیں لیتے اگر چہ موجودہ خانہ شماری کا مقصدمعلوم نہیں مگر خانہ شماری جب بھی ہوتی ہے اس کا مقصد صرف گھر وں کی تعداد معلوم کرنا نہیں ہوتا خانہ شماری میں سائنسی خطوط پر گھر وں کی درجہ بند ی ہوتی ہے ہر درجہ کو کمپیوٹر کا کوڈ دیا جاتا ہے رہائشی گھر کا الگ کوڈ ہوتا ہے دکان ، گیر اج ، دفتر ،مویشیوں کے باڑ وغیر ہ کا الگ کوڈ ہوتا ہے حجر ہ ، مہمان خانہ ، مسجد ، پن چکی وغیر ہ کا الگ الگ کوڈ ہوتا ہے کلاسیفی کیشن اور کوڈ کے ساتھ خانہ شماری ایک پیچید ہ تکنیکی اور فنی کام ہے یہ کلاس روم میں درس و تدریس سے مختلف ہے اس کا تعلق دفتری امور، کمپیوٹر کی مہارت او ردفتر ی طریقہ کار میں سائنسی درجہ بند ی کے ساتھ ہے اس کے لئے ہر محکمے میں مینجمنٹ انفارمیشن سروس (MIS) کا الگ شعبہ قائم کیا گیا ہے جہاں مخصوص فن کے تربیت یافتہ لوگ کام کرتے ہیں ۔اور معلومات کا باقاعدہ ذخیر ہ یا ڈیٹا بیس تیار کرتے ہیں کسی سکول کا استاد راتوں رات ڈیٹا بیس کا ماہر نہیں ہوتا اس کو مینویل ، اورنٹیشن اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے بزرگ استا لا ساتذہ معین الدین خٹک فرماتے ہیں شیخ سعدی ؒ کا قول درست نہیں
خشت اول چوں نہد معمار کج
تاثر یا می رود دیوار کج
آپ یوچھیں کیوں درست نہیں شیخ سعدی ؒ بہت بڑے شاعر اور عالم تھے ان کی بات کیو نکر غلط ہوسکتی ہے ؟ جواب میں اپنے ایک استاد کا قول نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شیخ سعدی ؒ شاعر اور عالم تھے مگر معمار نہیں تھے اس لئے پھسل گئے معمار اگر پہلی انیٹ ٹیڑھی رکھے گا تو دیوار ہی کھڑی نہیں ہوگی وہ اوج ثر یا تک ٹیڑھی ہو کر کس طرح جاسکتی ہے؟ اس لئے شیخ سعدی ؒ کا مصرعہ ثانی یوں ہو نا چاہیے تھا ’’تاثر یا نہ رود دیوار کج ‘‘ ٹیڑھی دیوار کبھی اوپر نہیں جاسکتی قومی اسمبلی اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹیوں نے موجودہ مردم شماری میں تمام مذاہب اور تمام مادری زبانوں کے لئے کوڈ مقرر کر نے کی پالیسی دی ہے اس پر قانون سازی ہوئی ہے او ر عدالتی حکم پر 2017 کی مردم شماری میں مذہب اور مادری زبان کا باقاعدہ کوڈ دید یا گیا ہے خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی ہر مادری زبان کا الگ کوڈ ہوگا گویا 1998 کی دستا ویز میں 5 زبانوں کے بعد وغیر ہ وغیر ہ کی جگہ اب 57 مادری زبانوں کے لئے الگ الگ کوڈ دئیے جائینگے پشاور شہر ، مینگو رہ شہر ، ڈیر ہ اسماعیل خان ، ایبٹ اباد اور بنون میں’’وغیر ہ وغیر ہ‘‘ سے کام نہیں بنے گا ضلع سوات کے کالام ، بحرین ،اوشو اور مٹلتان میں7 مادری زبانوں کا اندارج ہوگا چترال میں 14 مادری زبانوں کا اندارج ہوگا پشاور شہر میں 23 مادری زبانوں کے کوڈ استعمال میںآئینگے جس طرح بغیر تربیت ، بغیر اپو انیٹمنٹ لیٹر اور بغیر مینویل یا اور ینٹیشن کے محکمہ تعلیم کی طرف سے 17 سال سے کم عمر بچوں اور بچیوں کی سکول سے باہر رہنے والی ابادی کو معلوم کر نے کیلئے خانہ شماری شروع کی گئی ہے اگر اسی طرح بغیر کسی تیاری کے چھٹی مردم شماری شروع کی گئی تو یہ ’’ جگ ہنسا ئی ‘‘ ہوگی خودفریبی ہوگی ، مردم شماری نہیں ہوگی اندازہ یہ ہے کہ محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کی طرح شما ریات ڈویژن کی صلاحیت اور اہلیت بھی بہت محد ود ہے اب بھی وقت ہے ملک میں اچھی یو نیورسٹیاں موجود ہیں LUMS ہے IBA ہے ، NUST ہے COMSAT ہے NDU ہے بحریہ اور فضائیہ یونیورسٹیاں ہیں قومی ، صوبائی اور ڈویژن کی سطح پر مایہ نا ز یونیوسٹیوں کے تجر بہ کار پروفیسر وں کی خدمات حاصل کر کے شما ریات ڈویژن کی اہلیت اور استعداد کو بہتر بنا یا جا سکتاہے اور مردم شماری کے کام کو سائنسی خطوط پر پیشہ ورانہ تقاضوں کے مطابق انجام دیا جاسکتا ہے شمار کنندہ گان سے لیکر سپر وائزر اور سینسس کمشنر تک ہر ایک کو ٹریننگ کی ضرورت ہے ٹریننگ ، اور ینٹیشن اور مینویل کے بغیر کا م نہیں ہوسکتا خانہ شماری کے ذمہ دار افیسر سے پوچھا گیا کہ شمار کنند ہ گان کو اپو ا نیٹمنٹ لیٹر کیوں نہیں دئیے گئے ؟ جواب یہ تھا کہ لیٹر ہاتھ آنے کے بعد یہ لوگ معاوضہ مانگتے ہیں او رعدالتوں تک جاتے ہیں اس وژن کے ساتھ کوئی افیسر یا کوئی ادارہ ملک میں خانہ شماری طلبا ء شماری اور مردم شماری کرائے گا تو اس کا مثبت نتیجہ کبھی نہیںآئے گا ۔ایلیمنٹری اینڈ سکینڈری ایجوکیشن کی موجودہ خانہ شماری اور طلبا ء شماری بھونڈے انداز میں کی جا رہی ہے اسکا پروفارما پیشہ ورانہ طریقے سے نہیں بنایا گیا ۔اس کے لئے وقت بہت کم دیا گیا عملہ کی تر بیت نہیں کی گئی اور ڈیٹا جمع کرنے کا سائنسی طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو بھی پڑھا لکھا شہری اس طرح کے سروے کو دیکھتا ہے وہ محکمہ تعلیم کی غلط منصوبہ بندی پر افسو س کرتا ہے اس طرح کے سروے سے جو ڈیٹا آئے گا وہ یقیناًنا قص ہو گا ۔اس پر خشت اول چون نہد معمار کچ صادق آتا ہے۔
