
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے
اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے ہیں کیس کو کسی صورت التواء کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا اور سماعت روزانہ صبح9 سے ایک بجے تک ہوگی ،کوئی بھی چیز بغیر سنے نہیں جانے دی جائے گی ، کیس کے ہر فریق کو سنا جائے گا ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کے وکیل کو طلب کرتے ہوئے نئے سوالات اٹھا دیئے۔ بتایا جائے نواز شریف پنجاب کے وزیرخزانہ کب بنے ؟ نواز شریف وزیراعظم کب بنے ؟ نواز شریف دوسری بار وزیراعظم کب بنے ؟ نواز شریف ملک بدر کب کیے گئے ؟ بتایا جائے نواز شریف 1980 سے 1997 تک کاروبار اور سرکاری عہدہ رکھتے تھے ،ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وزیر اعظم نے عوامی عہدے کا غلط استعمال تو نہیں کیا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ نے ازسر نو پاناما کیس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی، سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ججز اور عدلیہ کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے،عمران خان کے احتجاج سے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے، آف شور کمنپیاں تو جہانگیر ترین اور رحمان ملک کی بھی ہیں، اس لئے عدالت سے درخواست ہے کہ تمام افراد کے خلاف تحقیقات کی جائے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے۔ بنچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ معاملے کی سماعت کے لیے نیا بنچ بنایا گیا جو تمام دستاویزات کاجائزہ لے گا، کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریں گے اور کسی کوالتواء نہیں ملے گا۔تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل کے آغاز پر کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے نئے بنچ پر کوئی اعتراض نہیں۔ جس پر جسٹس عظمت نے ریمارکس دیئے کہ بنچ پر اعتراض نہیں تو میڈیا پر بیان بازی سے گریز کریں۔ نعیم بخاری نے کہا کہ میں نے نئے بنچ سے متعلق میڈیا پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے دلائل دیتے ہوئے وزیراعظم کی 4 اپریل کی تقریر کا حوالہ دیا، نعیم بخاری کا کہناتھا کہ نواز شریف نے غلط بیانی کی، وہ صادق اور امین نہیں رہے، نااہل قرار دیا جائے، وزیر اعظم ٹیکس چوری کے مرتکب ہوئے ہیں، عدالت ایف بی آر کو ٹیکس ریکوری کا حکم دے۔نعیم بخاری نے دلائل میں مزید کہا کہ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ جدہ اسٹیل مل کی فروخت سے لندن میں فلیٹس لیے، شریف خاندان کی دبئی میں سرمایہ کاری بے نامی تھی، مریم نواز آج بھی اپنے والد کے زیر کفالت ہیں،آئی سی آئی جے کی دستاویزات کو ابھی تک چیلنج نہیں کیا گیا۔نعیم بخاری نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہے،عدالت چیئرمین نیب کوتاخیرکے باوجود ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کرنے کا کہے۔جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ چیئرمین نیب اپنا جواب جمع کراچکے ہیں۔ چیئرمین نیب کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ دلائل کے دوران نعیم بخاری نے وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں تقریر کا متن پڑھ کر سنایا اور کہا کہ نواز شریف نے تقریر میں کہا کہ جدہ سٹیل مل کی فروخت سے لندن فلیٹس لئے
