
صدابصحرا …….علم دُشمنی کے نمونے
…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ ………….
حکومت نے ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کا انتظام غیر متعلقہ سیاسی کا رندوں کے ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ واحد فیصلہ ہے جس پر عمران خان اور وزیر اعظم نواز شریف آپس میں متفق ہیں صوبائی حکومت نے بڑے ہسپتالوں میں باہر سے سیاسی بھرتیاں کر کے ڈاکٹروں کو انتظامی امور سے فارغ کر دیا وفاقی حکومت نے ہا ئیر ایجو کیشن کمیشن کے ذریعے قواعد و ضوابط میں تبدیلی لا کر یونیورسٹیوں کے انتظامی معاملات سیاسی کارکنوں اور منظور نظر کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں میں دینے پر غور کر رہی ہے اس راہ میں واحد رکاوٹ یہ قانون تھا کہ وائس چانسلر کی قابلیت پی ایچ ڈی ہونی چاہئے اُس کو کم از کم 25 سال تدریسی تجربے کے ساتھ 200 تحقیقی مقالات کے ساتھ علمی مقام کا حامل ہونا چاہئے اب ہائیر ایجو کیشن کمیشن قواعد میں نرمی کر کے اس شرط کو ختم کر رہی ہے تاکہ کسی بھی سیاسی کارکن کو لاکر یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا جا سکے قانون کی مو جودگی میں بھی حکومت ایسے کام کر تی تھی مگر اُس وقت اساتذہ میں سیاسی کارکن ڈھونڈنا پڑتا تھا پاکستان انسٹیٹو ٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (PIDE) جنرل مشرف کے دور میں آئی بی اے اور لمز کے برابر اعلیٰ تعلیم کا ادارہ بن چکا تھا صدر رزداری نے اس کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیاسی بنیادوں پر ایک ایسے شخص کواُس کاوائس چانسلر بنا یا جو تعلیم کو یہو دیوں اور عیسائیوں کی سا زش قرار دیتا ہے اکنا مکس میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کو وقت ، عمر اور وسائل کا ضیا ع قرار دیتا ہے فیکلٹی کی میٹنگ اور طلبہ ، طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم نے اس شعبے کا غلط انتخاب کیا یہ مسلمانوں کے خلاف کفار کا حر بہ ہے ڈھائی سالوں میں PIDE کو اتنا نقصان پہنچا یا گیا ہے کہ اگلی حکومت 20 سالوں میں بھی نقصان کا ازالہ نہیں کر سکے گی ایک ہی سیاسی تقر ری نے 15 سالوں میں حاصل کی گئی شہرت کو برباد کر کے رکھ دیا جس یو نیورسٹی میں سیاسی بند ہ آئے گا اپنے مخصوص نظر یات کو تھو پنے کی کو شش کر یگا اُس یو نیورسٹی کا معیار گر جائے گا شہرت کو دھبہ لگ جائے گا اس طرح کی سوچ اور اس طرح کے اقدامات کو علم دشمنی کے سوا کوئی اور نام نہیں دیا جاسکتا یہ صریحاً علم دشمنی ہے سیاستدان چاہے مسلم لیگ (ن) کا ہو یا پی ٹی آئی کا ہوا دونوں نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ قدم اُٹھا یا ہے دونوں سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے سوچا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے لئے تعلیم اور تجربے کی کوئی شرط نہیں گورنر وزیراعلیٰ بننے کے لئے علم اور تجر بے کی کوئی شرط نہیں کابینہ کا وزیر بننے کے لئے تعلیمی قابلیت اور تجر بے کی کوئی شرط نہیں کوئی قاعدہ ،کوئی ضابطہ کوئی قانون نہیں تو ہسپتال کا چیف ایگزیکٹیو اور یونیورسٹی کا سربراہ بننے کے لئے اتنے شرائط ، قواعد اور ضوابط کیوں رکھے جائیں فراز نے غزل کے ایک شعر میں قواعد کی نرمی کا یوں مذاق اُڑیا ہے
نہ تو خدا نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی نے مل کر یہ اصول ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں پر ازما نا شروع کیا ہے ہسپتالوں کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے اب یونیورسٹیوں کی باری ہے مسلم لیگ (ن) کرکٹ پراس اصول کا تجر بہ کیا ہے کرکٹ کا کام غیر متعلقہ سیاسی لوگوں کے حوالے کر کے انٹر نیشنل کرکٹ کو پاکستان سے نکال دیا اور کھلاڑیوں کو بد ظن کر کے کرکٹ بورڈ کو زوال کی انتہائی پست سطح پر لے آئی اب کرکٹ بورڈ آئی سی سی کے سامنے فنڈ نگ کے لئے ہاتھ پھیلا ئے ہوئے ہے مشرف کے دور میں پاکستان کرکٹ بورڈ آئی سی سی کو فنڈ نگ کر نے کی پوزیشن میں تھا جس طرح خیبر پختونخوا کے سینئر ڈاکٹر وں نے دلبر داشتہ ہو کر ملک سے باہر جانا شروع کر دیا ہے اس طرح سرکاری یونیورسٹیوں کے سینئر پروفیسر بھی غیر متعلقہ شخص کی ماتحتی میں کام کر نے پر ملک چھوڑنے کو ترجیح دینگے سیاسی بنیادوں پر ہسپتال کا انتظام سنبھالنے والا غیر متعلقہ شخص کیا سمجھتا ہے کہ ’’ لیپر وسکوپک پروسیجر‘‘ کیا ہوتا ہے ؟ اس طرح سیاسی وابستگی کو بنیاد بنا کر یونیورسٹی کا انتظام سنبھالنے والا غیر متعلقہ آدمی کیا سمجھے گا کہ ’’ ریمپکیٹ فیکٹر پیپر‘‘ کس چڑیا کو کہتے ہیں ؟ ہمارے سیاستدانوں نے سٹیل ملز کو کھا یا ، واپڈا کو کھا یا ریلوے کو کھا یا ، پی آئی اے کو ہضم کیا اب ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں اگر اس مقصد میں یہ لوگ کامیاب ہو گئے تو یہ ملک اور قوم کو بد قسمتی ہوگئی اور المیہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف کی کوئی آواز نہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بھی حزب اختلاف صرف ہلڑ بازی کررہی ہے اصل مسائل اور بنیادی غلطیوں پر حکومت کی گر فت نہیں قائمہ کمیٹیوں کو خاموش کر دیا گیا ہے اسمبلیوں میں سوالات ، ضمنی سوالات التو ا کی تحریکوں اور نکتہ ہائے اعترا ض کی کوئی باز گشت سُنائی نہیں دیتی صوبائی اسمبلی میں مولانا لطف الرحمن نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اپنی موجود گی کا احساس نہیں دلا یا قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کی کارگردگی صفر رہی پی پی پی نے فرنیڈلی اپوزیشن کا کردار نبھا یا اس لئے قومی اسمبلی اداروں خصوصاً ہسپتالوں اور یونیورسٹیوں کے معاملات میں حکمران جماعتوں کی سیاسی مداخلت انتہا کو پہنچ گئی اب ہڑتالیں ہونگی ، عدالتوں میں مقدمے میں جائینگے تب کہیں جا کر قومی ادارے حکومت کی علم دشمنی کے اثرات سے محفوظ ہوجائینگے ورنہ بہتری کی کوئی اُمید نہیں ۔
