محمد صابر

39 اسلامی ممالک کا کمانڈر انچیف 

۔  ۔ ۔ ۔ ۔ محمد صابر گولدور چترال ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
6 جنوری بروز جمعہ وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی ویسے پر بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کےلیے سعودی عرب کی قیادت میں 39 اسلامی ممالک کے اتحاد کا کمانڈر انچیف سابق (ر) آرمی چیف جناب راحیل شریف کو منتخب کر لیا گیا ہے ۔ اس سے قبل مختلف قسم کی آرا سامنے آرہی تھی کہ عسکری اور سیول قیادت اس حوالے سے مختلف سوچ رکھتے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ اہسا کچھ بھی نہیں ہے راحیل شریف حکومت کی اجازت سے ہی سعودی عرب گئے ہیں ۔ دونوں طرف کی قیادت میں اسلامی اتحاد کے حوالے سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اس اتحاد کو متنازع بنانے کےلیے اسے طرح طرح کے نام بھی دئیے گئے مگر حقیقت میں اس اتحاد کا بننا دہشتگردی کے علاوه کسی خاص مسلک اور گروہ کے خلاف قطعنا نہیں ہے ۔ ادھر سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں سابق آرمی چیف جناب راحیل شریف موجود ہیں ، جہاں ان کے ساتھ معاملات حتمی  معاملات طے پا چکے ہیں ۔  سعودی عرب کے نوجوان نڈر باصلاحیت وزیر دفاع محمد بن سلمان نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے اسلامی اتحاد پر زور دیا اس سلسلے میں نیٹو کے طرز پر جسے ( شمالی اوقیانوسی اتحاد، اوقیانوسی اتحاد یا مغربی اتحاد بھی کہا جاتا ہے ) ایک اسلامی اتحاد کا خواب دیکھنا شروع کیا ، جس کو بہت قلیل مدت میں عملی شکل بھی دے دیا ۔ اس اتحاد میں رکن ممالک کی تعداد شروع میں 34 تھی جو کہ آگے چل کر 39 ہو چکی ہے ۔ اس اتحاد کی سب سے اہم بات جو کہ اب تک بہت کم افرد کو  معلوم ہے ۔ جو کہ پاکستانی سابق آرمی چیف کی اس اتحاد کی سربراہی کرنا ہے ۔ سابق آرمی چیف کے اس اتحاد کی سربراہی کے کافی مثبت اثرات مرتب ہونگے خصوصا پاک سعودی عرب تعلقات پر جو پاکستان بننے کے بعد سے اب تک مثالی چلے آرہے ہیں ۔ سابق آرمی چیف کی صلاحیتوں سے ملکی اور بیرون ملک سبھی واقف ہیں ، ملک میں جاری دہشتگردی پر قابو پانا ، ملکی سرحدات کی حفاظت ، ایل او سی پر دشمن کو سخت سے سخت جواب دینا ، کراچی شہر کی زندگی کو معمول پر لانا ، بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کو قومی دارے میں واپس لانا اور  نیشنل ایکشن پلان ضرب عضب وغیرہ  ۔
ان خصوصیات کی بنا پر راحیل شریف کو اسلامی اتحاد کی نہایت اہم ذمہ داری سومپی گئی ہے ۔ اس اتحاد کی تشکیل نو اس کو صحیح سمت آگے لیکر جانا تربیت اور مقاصد کی حصول تک اس کی باریک بینی سے مشاہدہ و نگرانی کرنا وغیرہ شامل ہیں  ۔
ادھر ایران بھی اس ساری صورت حال کا قریب سے مشاہدہ کر رہا ہے ۔ کیونکہ گزشتہ سال سعودی عرب نے سعودی شیعہ عالم شیخ النمر کو ریاست کے خلاف بغاوت کی بنا پر پھنسی دی تھی ۔ جس کے رد عمل میں ایران میں واقع سعودی سفارت خانے کو ایرانی ملیشیا کے افراد نے نظر آتش کیا تھا ۔ جس کی وجہ سے سعودی عرب ایران تعلقات خراپ چلے آرہے ہیں ، جس سے گزشتہ سال ایرانی عازمین حج حج کی سعادت سے بھی محروم رہے ۔ اس پیش نظر میں سابق آرمی چیف کی بطور تقرری  کمانڈر انچیف اسلامی اتحاد ایران کےلیے کسی بھی سرپرائز سے کم نہیں ۔ ایرانی لوبنگ گروپ  نے اس عمل کو فرقہ اور مسلکی بنیاد پر اچھالنے اور اس عمل کو رکوانے کےلیے پاکستان کے اندر اور باہر کافی کام کیا ، مگر بے سود ثابت ہوا جو کہ آج بھی جاری ہے ۔ اس حوالے سے چند معتبر پاکستانی اخبارات نے بھی ذمہ دارانہ صحافت کی بجائے  غلط بیانی سے کام لیا اور پاکستان کی اس اہم اسلامی اتحاد میں شمولیت کو مشکوک بنا دیا تھا ۔ پاکستان میں موجود ایک مخصوص طبقہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون پاک سعودی عرب کے درمیان آگے بڑھے اس کی روکتھام کےلیے ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ آپ کو یقیناً یاد ہوگا کہ پارلیمنٹ کے اندر بھی اس مسئلے کو گھسیٹا گیا تھا ۔ بہر حال ان سب رکاوٹوں اور سازشوں کے باوجود بالآخر پاکستان اس اتحاد کا حصہ بھی بن گیا اور اس اتحاد کی کمانڈ کےلیے بھی پاکستانی آفیسر کو ہی چنا گیا جو کہ ساری دنیا اور بلخصوص اسلامی دنیا میں پاکستان کےلیے فخر کی بات ہے ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى