ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحرا ……….سول سروس کا بڑا پرچہ

…………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ………

Advertisements

اخبارات میں خبر لگی ہے کہ خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن نے سول سروس کے بڑے پرچے میں گھپلے کئے پہلے سے غلط نمبر دینے اور منظور نظر لوگوں کو پاس کر نے کا گھپلا ہوتا آیا ہے مو جودہ گھپلا سوالات کے پرچے میں ہوا ہے تفصیلات کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے پورے عملے میں ایک بھی میٹرک پاس آدمی نہیں تھا جو 2016 ء کے امتحان کا پرچہ کسی تعلیم یافتہ افیسر یا پروفیسر کی مدد سے بنا تا ان پڑھ بابو نے 2010 کا پرچہ اُٹھایا اس کے دس والے صفر کو کالے قلم سے چھ بنا دیا 2016 ء کا سال آگیا اندر پر چے میں این ڈبلیو ایف پی کا ذکر تھا اُس کو کالی سیاہی سے مٹایا گیا باقی پرچہ جوں کاتوں فوٹوکاپی کیا گیا یہاں تک کہ ماحولیات کا جو معاہدہ 2012 میں ختم ہوا اس کے بارے میں پرانا سوال آیا ہے کہ معاہد ہ کب ختم ہوگا جو اولمپک گیمز جون 2016 میں منعقد ہوئے ان کے بارے میں 29 دسمبر 2016 کے امتحان میں سوال آیا ہے کہ 2016 کے اولمپک مقابلے کس شہر میں منعقد ہونگے ظاہر ہے2010 میں اس سوال کا جو ازبنتا تھا کسی پڑھے لکھے افسر یا پروفیسر یا استاد نے سوالنامہ ترتیب دیا تھا اُس کے فرشتوں کو بھی علم نہیں تھا کہ ان پڑھ بابو یہی پر چہ 29 دسمبر 2016 کو امیدواروں کے سامنے رکھے گا مشہور مقولہ ہے کہ چور چور ی کی وجہ سے نہیں پکڑا جاتا اپنی بے و قوفی کی وجہ سے پکڑا جا تا ہے 2014-15 میں مقابلے کے امتحانات کا نتیجہ آیا انٹرویو کے مراحل مکمل ہوئے تو پتہ لگا کہ جن امید واروں نے تحریری امتحان میں 70 فیصد سے زیادہ نمبر لئے تھے ان کو انٹر ویو میں 40 فیصد سے کم دئے گئے وجہ یہ تھی کہ کمیشن کے ممبروں کو تین اضلاع کے 49 اُمیدواروں کی فہرست دی گئی تھی ان کو 80 فیصد سے زیادہ نمبر دے کر پاس کرنا تھا چنا نچہ نتیجہ وہی ہواایگریکلچریونیورسٹی میں انگریزی کا لیکچر ر تحریری امتحان میں 78 فیصد نمبر لینے کے باوجود ،اپنی برٹش ایکسینٹ کی انگریزی اور مسحور کن شخصیت سے انٹر ویو پینل کو متا ثر نہ کر سکا کیونکہ اُس کا ڈو میسائل غلط تھا وہ پسندیدہ ضلع کا باشندہ نہیں تھا اُس کی مادری زبان وہ نہیں تھی جو کہ ہونی چاہئے تھی اور کمیشن کو دی گئی فہرست میں مطلوب تھی ایسے 49 اُمیدوارمایوس ہوئے کمیشن نے ان کی جگہ تین پسندیدہ اضلاع کے امید وار وں کو انٹر ویو کے بل بوتے پر کامیا ب قرار دیا 2015 کے انٹرویو ز کمیشن کے معاملے میں سیاسی مداخلت کی بدترین مثال ثابت ہوئے جبکہ 2016 میں مقابلے کا امتحان ہی مذاق ثابت ہو چکا ہے کمیشن کا چیرمین ،سکرٹری اورڈائریکٹر امتحانات اگر کسی پڑھے لکھے آدمی سے پرچہ بنوانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو ایسے لوگوں سے پرچوں کی مارکنگ ،ٹیبولیشن اور نتائج مرتب کرنے میں بہتر قابلیت ،صلاحیت اور دیانت داری کی اُمید کس طرح رکھی جا سکتی ہے علمی اور صحافتی حلقوں میں اس حوالے سے دو باتیں گردش کر رہی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ حکومت نے پنجاب کی این ٹی ایس نامی نجی کمپنی کو صوبے میں سارے امتحانا ت کی اجارہ داری دینے کیلئے پبلک سروس کمیشن کو 3سالوں میں توڑ پھوڑ کر بر باد کر دیا ہے کاروباری مفادات کے لئے سرکاری ادارے کو تباہ کر دیا گیا ہے تازہ ترین انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ پبلک سروس کمیشن کا کوئی معیار اور اعتبار نہیں رہا دوسری بات جو گردش کررہی ہے وہ نظر یہ سازش سے تعلق رکھتی ہے سازش پر یقین رکھنے والے حلقے کہتے ہیں کہ کمیشن کے متعلقہ شعبے نے ایک تجربہ کار پروفیسر کا سوالنامہ منظور کیا تھا کمیشن کو بد نام کر نے کے لئے سازشی عنا صر نے جان بوجھ کر 2010 کا پرانا پرچہ معمولی مرمت کے بعد فوٹو کاپی کر کے تقسیم کیا یہ کمیشن کے چیئر مین اور سکرٹری کے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے انتظامی اور قانونی امور کا وسیع تجربہ رکھنے والے مبصرین کہتے ہیں کہ پہلی بات درست ہے حکومت نے پرائیویٹ کمپنی کو کاروبار دینے کیلئے کمیشن کو برباد کر کے رکھ دیا ہے 2014-15 کے انٹر ویوز میں من پسند اضلاع کے منظور نظر امیدواروں کو 80فیصد سے زیادہ نمبر دے کر تحریری امتحان میں بہتر کار کر دگی دکھانے والوں پر فوقیت دینے کا حربہ بھی کمیشن کے اندر توڑ پھوڑ ،اقربا پروری اور کرپشن کا شا خسانہ تھا صوبائی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر اورپی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کو اس کا نوٹس لینا چاہئے نیز کو ر کمانڈر پشاور لفٹننٹ جنر ل نذیر احمدبٹ اور گورنر کے پی کے اقبا ل ظفر جھگڑا بھی معاملے کی تحقیقات کا حکم دے سکتے ہیں مذکورہ پر چہ یقیناًمنسوخ ہونا چاہئے کمیشن کے چیئر مین سے لیکر سکرٹری اورڈائریکٹر امتحانات تک سب کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہئے اورکمیشن کی مکمل اور ہالنگ ہونی چاہئے ۔تاکہ کمیشن کے امتحانی نظام اور انٹرو یو کی شفافیت پر عوام کا اعتماد ایک بار پھر بحال ہوسکے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى