
صدا بصحرا ………بھارت کے ایٹمی اثاثے
…………….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …………
چار خبریں ایک ساتھ اخبارات کی زینت بن گئیں پہلی خبر یہ کہ امریکہ نے مزید ایٹمی ہتھیار بنانے کا اعلان کیا ہے روس کے پاس 1700 اور امریکہ کے پاس 1400 ایٹمی بموں کا ذخیرہ ہے اب امریکہ اپنے ذحیرے کو 2100 تک پہنچاناچاہتا ہے دوسری خبر یہ ہے امریکہ نے ایک سال کے اندر مشرق و سطی ،افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کو 40 ارب ڈالر کے ہتھیار فروخت کئے ہتھیار کی تجارت میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے اور یہ اعزاز گذشہ 38 سالوں سے امریکہ کے پاس ہے افغان خانہ جنگی کے آغاز پر امریکہ کے ہتھیاروں کی مارکیٹ نے پہلی اڑان بھری تھی یہ 1978 کا واقعہ ہے تیسری خبر یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی سات کا روباری کمپنیوں پر پابندی لگائی ہے ان کمپنیوں پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کا تعلق پاکستان کی دفاعی صنعت کے ساتھ ہے اور یہ کمپنیاں ہتھیار بنانے میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں چوتھی خبر بہت دلچسپ ہے خبر میں بتا یا گیا کہ ممبئی پولیس نے ساڑھے 8 کلو گرام یورینیم برآمد کر کے دو بھارتی باشندوں کو گرفتا ر کیا ہے دونوں کا تعلق بھارت کی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ہے یہ لوگ یو رینم کو 3 کروڑ روپے فی کلو کے حساب سے بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے والے تھے ملزموں نے اعتراف کر لیا ہے کہ وہ گذشتہ 10 سالوں سے یہ کاروبار کر رہے ہیں اس خبر نے بھارت کے ایٹمی پروگرام کی حفاظت کے انتظام کو سوالیہ نشان بنایا دیا ہے ساتھ ساتھ اس کا پس منظر بھی خاصا دلچسپ ہے پش منظر یہ ہے کہ ہندو بنیا عالمی سطح پر صیہونی سودخور کا پکا یار ہے دونوں کو پیسہ بنانے اور پیسہ بچانے کا فن آتا ہے دونوں کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ پیسہ بناؤ چاہئے جس طریقے سے بھی ہو چاہئے جو ذرائع بھی استعمال کر و اس وجہ سے امریکہ اور بھارت کے درمیان دو بڑے معاہدے ہوئے ہیں ایک معاہد کے تحت امریکہ نے بھارت کو 5 ایٹمی پلانٹوں کے لئے افزو دہ یورینم فراہم کرنے کا سلسلہ 2010 سے شروع کیا ہے اور یہی وہ یورینم ہے جو بلیک مارکیٹ میں 3 کروڑ روپے فی کلو کے حساب سے بکتا ہے گویا امریکہ کی کمپنیاں ہندو سینا کے کندھے پر بندوق رکھ کر فائر کر تی ہیں اپنا افزودہ یورینم بر استہ بھارت ،شما لی کوریا کے ایٹمی پلانٹوں کو منہ مانگے داموں مہیا کر کے پیسہ کماتی ہیں یہ وہ کھیل ہے جو عراق ایران جنگ کے دوران 1980 سے 1988 تک کھیلا گیا تھا امریکہ عراق کو اعلانیہ اسلحہ فروخت کر تا تھا جبکہ ایران کو تیسرے فریق کے ذریعے اسلحہ بھیجتا تھا اس میں کمائی ذیادہ ہوتی تھی اوجڑی کیمپ کی بمباری کا سانحہ اس حوالے سے ہماری تاریخ کا سیاہ ترین واقعہ ہے امریکی کا نگر یس کی خارجہ کمیٹی اور سی آئی اے حکام کے درمیان چلنے والی چپقلش میں روالپنڈی اور اسلام آباد کے ڈھائی ہزار شہری شہید ،5 ہزار معذور اور 3 ہزار لاپتہ ہوئے اگر خدا نا خواستہ ممبئی کی جگہ کرا چی یا گوادر میں 100 گرام یورینم پکڑا جاتا تو پاکستان کو دھمکیاں ملتیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سوالات اُٹھائے جاتے پاکستان کے خلاف بین لاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو حرکت میں لایا جاتا انسیکشن ٹیم بھیجی جاتی لیکن یہ ممی کا واقعہ ہے ممبئی بھارت کا شہر ہے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے بھارت کو ایٹمی ہتھیار وں کے سلسلے میں کھلی چھٹی دے رکھی ہے وہ نیو کلیرگروپ کی ممبر بھی بن سکتی ہے وہ نیو کلیر وار ہیڈ اور میزائل بھی فروخت کر سکتا ہے بلیک مارکیٹ میں یورینیم فروخت کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں جہاں بھارت اور امریکہ کا ذکر آتا ہے وہاں بین لا قوامی قوانین کا دائرہ ختم ہو جاتا ہے اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل اور ایٹمی توانائی کی بین لا قوامی ایجنسی بھی چوہدری کی پنچایت ہے چوہدری کو رپورٹ دی گئی کہ کمہار کے بیٹے نے بھینس کو چرالیا کمہار کے بیٹے کو بلایا گیا اُس نے کہا یہ جھوٹا الزام ہے اُس شخص کو بلاؤ جس نے الزام لگا یا چوہدری خود سرپنچ تھا اُس نے کہا تم کمہار کے بیٹے ہو یا نہیں اُس نے کہا میں کمہار کا بیٹا ہوں چوہدری نے کہا تمہارا دادا کمہار تھا یا نہیں اُس نے کہا کمہار تھا چوہدری نے کہا پھر کسی ثبوت کی کیا ضرورت ہے ؟جرم ثابت ہوا کمہار کے بیٹے کو سزادو بین لا قوامی پنجایت میں بھارت چوہدری کا بیٹا ہے جبکہ پاکستان کمہار کاوالد ہے اس لئے بھارت کیلئے وہی جھوٹ کام کرتی ہے جو اسرئیل کو دی گئی پاکستان کے اختلاف قوانین ایسے حرکت میں آتے ہیں جیسے یہ قوانین صرف پاکستان کے خلاف بتا ئے گئے ہوں ممبئی میں 25 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا یورینیم بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے کا واقعہ یہ ظاہر کر تا ہے بھارت میں ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کا کوئی سسٹم نہیں ہے اس لئے عالمی برادری کو بھارت پر پابندیاں لگانی چاہئے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور انصاف ہو تا ہوا نظر آئے۔
