ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دا د بیداد …..39 ممالک کی اسلامی فوج

………………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی ؔ …………..
پاکستان کے سابق آرمی چیف اور ضرب عضب کے ہیرو جنرل راحیل شریف کو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 39 ممالک کی اسلامی فوج کا پہلا کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا ہے نئی بین لاقوامی فورس ،اقوام متحدہ امن مشن اور نیٹو اتحاد کے فوجی دستوں کی طرح جنگ زدہ اسلامی ممالک میں فرائض انجام دے گی اس فوج کا قیام اسلامی ملکوں کی تنظیم کو یورپی یو نین کی طرح ایک فوج ،ایک پارلیمنٹ ،ایک کرنسی کی راہ پر ڈالنے میں مدد گار ثابت ہوگا فوج کے بانی سربراہ کا پاکستانی جرنیل ہونا پاکستان کے لئے اعزاز اور اسلامی ممالک کے اتحاد کے لئے نیک شگون ہے گذشتہ سال سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیر نے اسلامی اتحاد کی فوج تیار کرنے کا عندہ دیا تو اس میں 34ممالک شامل ہوئے تھے 5 نئے ممالک کے ساتھ اب یہ تعداد 39 ہوگئی ہے وقت گزرنے کے ساتھ مزید اسلامی ممالک اتحاد میں شامل ہو جائینگے اور مسلم ممالک اپنے فرقہ ورانہ اختلافات کے ساتھ قوم ،قبیلہ اور نسل پرستی پر مبنی دشمنی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے تو ماضی میں اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی میں شامل 57 ممالک اس فوجی اتحاد کا حصہ بن سکتے ہیں رباط (مراکش )اور لاہور(پاکستان)میں منعقد ہونے والی سربراہ کانفرنس میں 57 اسلامی ممالک فرقہ ورانہ اختلافات اور نسل پرستی پر مبنی دشمنی کے بغیر مکمل بھائی چارہ اور ہم آہنگی کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور اپنے عالمی دشمنوں کو ایک کلمہ ،ایک خُدا ،ایک رسول ،ایک کتاب اور ایک امّت کا ناقابل تسخیر پیغام دیا تھا جنوری 2016 میں عالمی حالات 1974 سے بہت مختلف ہیں چند حقائق اور چند تضادات ہیں سب سے حقیقت یہ کہ 1978 سے 2016 تک اسلامی دنیا کو بہت زوال آیا ہے 1978 ء میں امریکی فو ج نے سول کپڑوں میں افغانستان کے اندر اپنا کام شروع کیا جنوری 2016 ء میں جو اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں ان کی رو سے 30 سالہ جنگ میں 10 لاکھ افغانی مارے گئے 3 لاکھ پاکستانی مارے گئے 8 ہزار عرب ،چچن ،ازبک ،تاجک اور دیکر قومیتوں کے لوگ مارے گئے 4 ہزار روسی اور د و ہزار 247 امریکی قتل ہوئے امریکہ اور روس کی لڑائی میں سب سے کم جانی نقصان امریکہ اور روس کا ہوا جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی مسلمانوں کو اب بھی مارا جارہا ہے عراق اور لیبیا میں ایسا ہی ہوا شام اور یمن میں ایسا ہی ہورہا ہے عراق اور ایران کی 8 سالہ جنگ میں یہی کچھ ہوا جنرل راحیل شریف اس جنگ کے عینی شاہد ہیں اور تجربہ کار کمانڈر رہ چکے ہیں ایک اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان ممالک اپنے دفاع کے لئے غیر مسلم طاقتوں کے آگے ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہیں افغانستان اور شام نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا تھا سعودی عرب امارات ،بحرین اور اردن نے امریکہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ کر کے امریکی فوج کو اڈے اور چھاونیاں فراہم کی ہوئی ہیں ایک دشمن سے مدد لیکر دوسرے دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جاسکتا ہے ؟اس طرح کئی تضادات ہیں جو مسلم ممالک اور اسلامی دنیا کے سامنے ہیں ایک تضاد یہ ہے کہ اسلامی دنیا نے مصر ،شام ،عراق ،لیبیا اور افغانستان میں باہر سے فوج لاکر بیرونی حملہ آوروں کے ذریعے حکمرانوں کا تختہ الٹ کر حکومت کو تبدیل کرنے کا تجربہ کیا ہے کل اگر یہی تجربہ قطر ،سعودی عرب ،اردن ،بحرین ،کویت اور متحدہ عرب امارات میں دہرایا گیا تو اس کی مخالفت کی جائیگی کیونکہ یہ اصول کی بات نہیں اصول یہ ہے ملک کے عوام اپنی طاقت سے حکمران کو تبدیل کر سکتے ہیں باہر سے آنے والی طاقت کو یہ اختیار حاصل نہیں تیونس اور مصر میں عوامی طاقت سے حکومتیں تبدیل ہوئی تھیں تیونس میں تبدیلی کا میاب ہوئی مصر میں بیرونی مداخلت سے محمد مر سی کو معزول کر کے فوجی جرنیل کو صدر بنا یا گیا یہ کھلا تضاد ہے شام میں اس پر عمل ہورہا ہے 18 ممالک کی فوجیں اندر آکر شام کے صدر بشار لاسد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں عوام کو نسلی تعصب اور فرقہ ورانہ دشمنی کو بنیاد پر بغا وت کے لئے تیا ر کررہی ہیں اسلحہ دے کر خانہ جنگی کر ارہی ہیں اگر اس اصول کو تسلیم کیا گیا تو ایک سال یا دو سال بعد کسی بھی اسلامی ملک کے حکمران کے خلاف اس طرح کا بیرونی حملہ ہو سکتا ہے ایک تضاد یہ بھی ہے کہ 39 ممالک کی اسلامی فوج میں اُن طاقتوں کو شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی جو اسرائیل کے مقابلے میں سینہ سپرہوکر چو مکھی لڑائی لڑرہی ہیں حزب للہ اور فلسطینی اتھارٹی اس اتحاد سے باہر ہیں ایران بھی اس اتحاد میں شامل نہیں تاریخ شاہد ہے عبا سی خلاف کواُس وقت زوال آیا جب عرب شہزادوں نے تر ک جرنیلوں کے خلاف بغاوت کا حکم بلند کیا ہندو ستان میں مغلیہ سلطنت کو اس وقت زوال آیا جب صوفیا کے مسلک کو خارج از اسلام قرارد ے کر داراشکوہ اور ان کے مسلک سے تعلق رکھنے والوں کو چُن چُن کر قتل کیا گیا مگر تاریخ کا سب بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتا جنرل راحیل شریف کو ایک ایسے فوج کی اولین سپہ سالاری سونپ دی گئی ہے جس کے ذمے جنگ سے زیادہ سفارت کاری کا کام آتا ہے اس کو جنگ کی سفارت کاری کہیں یا سفارت کاری کی جنگ کا نام دیں سب سے بڑا ٹاسک یہ ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے ساتھ حماس اور جزب اللہ جیسی اہم تنطیموں کو اس اتحادی فوج کے دائرے میں لایا جا ئے تاکہ دشمنوں کو 1974 کی طرح ایک بار پھر مسلمانوں کے متحد ہونے کا تاثر ملے مسلمانوں کو اتحاد کا پیغام ملے ۔یہ افغانیم ،و نہ ترک و تاتاریم ،چمن زادیم وا ز یک شاخساریم
تمیز رنگ و بوبرما حرام است ، کہ ما پروردہ یک نو بہار یم
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى