ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

داد بیداد ……….سب جو ڈیس اور سو موٹو

…………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ ………..
انگریز ی کی جو تراکیب اوراصطلاحات اردو میں عام طور پر استعمال ہوتی آ رہی ہیں ان میں ’’ سب جو ڈِس‘‘ کی اصطلا ح بھی ہے سو موٹوکی تر کیب بھی ہے جب کوئی مقدمہ زیر سماعت ہو اُس مقد مے پر اخبار ، ریڈیو یا ٹیلی وژن پر بحث کی اجازت نہیں دی جاتی اس کو سب جو ڈیس کہا جاتا ہے اور شجر ممنوعہ قرار دیا جاتا ہے اگر قانون کے خلاف کو ئی کام بار بار دہرایا جارہا ہو اس کام کو عدالت میں رِٹ پٹیشن یا کسی درخواست کی صورت میں لانے والا کوئی نہ ہو تو عدالت کسی کے آنے کا انتظار نہیں کرتی ہے خود اس کا نوٹس لیتی ہے اور ازخود کاروائی کرتی ہے اس کو سومو ٹو کہا جاتا ہے Sub-judice اور Suo moto کی تراکیب اردو میں ایک عرصے سے مستعمل ہیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اس معاملے میں بہت حساس تھے مو جودہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے عہدے کا حلف اُٹھا نے کے بعد جو مختصر گفتگو کی تھی اُس میں انہوں نے کہاتھا کہ عدالتیں رائے عامہ کے دباؤ میں نہیں آئینگی کسی کو فیصلہ املا ء کرانے کی اجازت نہیں دیینگی اس وقت عدالتوں میں زیر غور زیر تصفیہ تما م مقدمات پر میڈیا میں بحث ہورہی ہے ٹیلی وژن والے تو ججوں کو فیصلے املاء کراتے ہیں اس طرف نہ کوئی شہری عدالت کی توجہ مبذول کر اتا ہے نہ عدالت خود نوٹس لیتی ہے سب جو ڈیس کو مذاق بنایا گیا ہے سومو ٹو کے پیچھے اب گمشدگی کا اشتہار چھپوانے کی ضرورت پڑگئی ہے زوال اور پستی کی حدیہ ہے کہ عدالتی فریق اپنے وکیل کو لیکر ٹیلی وژن پر آکر دو ،دو گھنٹے اپنا مو قف ججوں کو سناتا ہے مخالف فریق کو گالیاں دیتا ہے اور اس کا نام آزادی صحافت رکھا جا رہا ہے گویا آزادی کا وہ مفہوم عنقا ہوگیا جو ایک مشہور مقولے سے شروع ہوتا تھا ’’تمہاری آزادی کی حد میری ناک تک ہے جہاں میری نا ک شروع ہوتی ہے وہاں تمہاری آزادی ختم ہوتی ہے ‘‘اب عدلیہ کو آئین کے تنا ظر میں اس بات کا تعین کرنا پڑے گا کہ عدالت کی ناک کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ کیا برطانیہ ،بھارت ،امریکہ ،روس اور چین کے ٹیلی وژن اور اخبارات یا ریڈیو چینل کسی زیر تصفیہ مقدمے کے ایک فریق کا مو قف بار بار پیش کر کے رائے عامہ بتا سکتے ہیں ؟کیا دنیا کے کسی ملک میں عدالتی مقدمے کے فریق کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ ریڈیو ،ٹیلی وژن یا اخبارات کے ذریعے مخالف فریق کو گالی دیدے اور جج کو فیصلہ املاء کرائے ؟ یقیناًدنیا کی عدالتی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملے گی بر طانیہ ،کنیڈا ،چین اور بھارت میں جب تک ایک فریق کو اپیل کا حق حاصل ہو تب تک فیصلہ شدہ مقدمے پر بھی میڈیا میں بحث نہیں ہوسکتی یہ قانون کا اٹل اصول ہے اس سے کوئی انحراف نہیں کر سکتا کسی ایک مقدمے کا نام لئے بغیر ،مقدمے کے فریق کا نام لئے بغیر ،قانون ،اصول اور قواعد و ضوابط کو زیر بحث لایا جا سکتا ہے قانون اس کی اجازت دیتا ہے مگر یہ دور ’’کمر شلزم ‘‘کا دور ہے سیکولرازم اور سو شلزم کی طرح کمر شل ازم بھی ایک نظریہ ہے اس نظرے کے تحت ہر وہ چیز قانون میں جائز ہے جو پیسہ لا تی ہو ،منا فع دیتی ہو اگر عدالت میں زیر تصفیہ مقدمے کا فریق وقت خرید تا ہے تو اس کو مہینے میں 60 گھنٹے فروخت کرنا کوئی جرم نہیں اخبار کے دو چار کالم اس کو فروخت کرنا کوئی برائی نہیں وہ ملک کا آزاد شہری ہے میڈیا ایک دوکان ہے وہ دوکان سے کچھ بھی خرید سکتا ہے دوکان کے مالک کو پیسہ چاہئے منافع چاہئے اس پر اشتہار کا لیبل لگانا بھی ضروری نہیں یہ قانون کا تقاضا ہے مگر دوکان معاملات میں قانون کا عمل دخل کوئی بھی سیٹھ ،ساہوکار اور بنیا نہیں مانتا میڈیا ما لکان کا یہ موقف کسی دلیل پر مبنی نہیں ہے مگر اس موقف کے پیچھے پیسہ ہے دولت ہے جس کا جا دو سر چڑھ کر بو لتا ہے سپریم کورٹ کو مثال قائم کرنے کے لئے پچھلے دو ماہ کے ٹیلی وژن پروگراموں ،ریڈیو پروگراموں اور اخبارات کی فائلوں کا ریکارڈ منگوا کر دیکھنا ہوگا کہ 60 دنوں کے اندر اور عدالت عظمی کے سامنے زیر تصفیہ مقدمات کے کتنے فریق میڈیا پر آئے ہر فریق نے کیا کہا اور اس کا رائے عامہ پر کیا اثر ہوا ؟ عدلیہ کو کس طرح فیصلہ ا ملا ء کر وایا گیا اور قانون کی کیسی تشریح کی گئی ؟ کیا ’’سب جو ڈیس ‘‘مقدمے کے سلسلے میں یہ سب جائز تھا اگر جائز تھا تو پھر عدالت کی ضرورت نہیں میڈیا ہا وسز کے مالکان اپنی ما رکیٹ کو دیکھ کرکسی فریق کے حق میں فیصلہ دے دیں بار اور بینج کو بھی اس پر غور کرنا چاہئے چیف جسٹس کو اپنے وعدے کے مطابق اس پر سومو ٹو ایکشن لینا چاہئے آگر آزادی نعمت ہے تو قانون ایک ضرورت ہے قانون کی قربانی دیکر آزادی لینا خو د کشی ہوگی ۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى