مضامین

داد بیداد …………تعلیمی پالیسی کا نیا تجر بہ

………….ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی …………

یہ 2012 ء کا ذکر ہے تحریک انصاف پاکستان کے چےئر مین عمران خان نے مختلف شعبوں میں انقلابی اصلاحات لاکر سسٹم کی اصلاح کر نے کے لئے ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کئے ہر شعبے کے لئے ٹاسک فورس نے سفارشات مرتب کیں بلدیات کے بارے میںیہ سفارش کی گئی تھی کہ اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کر کے ویلج کونسل کو بااختیار بنا یا جائے 2015 ء میں بلدیاتی الیکشن ہوئے 2017 ء میں سرکاری پالیسی یہ بن گئی ہے کہ ضلع ناظم کو بھی اختیارات مت دو ٹاسک فورس نے جوسفا ر ش کی تھی کام اُس کے بالکل برعکس ہوا آج مایوس طبقات میں نا ظمین اور کونسلر سب سے زیادہ مایوس دکھائی دیتے ہیں انرجی کے شعبے میں سفارش کی گئی تھی کہ بجلی کی پیدا وار پن بجلی گھروں کے ذریعے بڑھائی جائیگی 2014 میں 9 بڑے منصوبوں پر کام روک دیا گیا اس کی جگہ 50 کے وی اور 100 کے وی منصوبے تجویز کئے گئے جن کی مد د سے صرف بلب جلا یا جاسکتا ہے ان میں سے بھی نصف منصوبے 2018 تک مکمل نہیں ہونگے 2018 میں الیکشن ہونگے تو نئی حکومت پھر بڑے منصوبوں پر کام شروع کرے گی سب سے دلچسپ معاملہ تعلیمی پالیسی کے بارے میں ٹاسک فورس کی سفارشات کا سامنے آیا ہے ٹاسک فورس کی 83 سفارشات میں دو باتیں اہم تھیں پہلی بات یہ تھی تعلیمی سہولتیں عوام کو ان کے گھر کے دہلیز پر فراہم کر کے شرح تعلیم کو 100 فیصد تک بڑھا یا جائے دوسری اہم سفارش یہ تھی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں معیار کی سطح بڑھا نے کے لئے فیکلٹی ڈیو لپمنٹ کا جامع پروگرام لایا جائے کالجوں میں ایم اور پی ایج ڈی اساتذہ لا کر معیار کو بین لا قوامی سطح کے برابر لایا جائے 2017 میں ٹاسک فورس کی سفارشات کو ایک طرف رکھ کر جو پالیسی لائی گئی ہے اُس میں ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے کی اصلاح کے لئے پرائمری ، مڈل اور ہائی سکولوں کی آدھی تعداد کو کم کر نے کا حکم دیا گیا ہے اعلی ٰ تعلیم کے شعبے میں سرکای کالجوں کا سلسلہ ختم کر کے تمام کالج عمارتوں کے ساتھ نجی شعبے کو دینے کا پروگرام بنا یا گیا ہے مالی سال 2017-18 میں اس پرعمل درآمد ہوگا نجی شعبہ بورڈ آف گورنرز کے ذریعے کالجوں کو چلائے گا فیکلٹی ڈیو لپمنٹ کوایک طرف رکھ دیجئے2018 کے بعد کوئی فیکلٹی ہی نہیں ہوگی سیٹھ ساہوکار آئے گا اور کالج کو چلائے گا کالج کے لئے مخصوص بجٹ بھی سیٹھ ساہوکار کوملے گا دونوں نئے تجر بے ہیں اگر گذشتہ 20 سالوں کی پالیسیوں کا جا ئرہ لیا جائے تو چار باتیں سامنے آتی ہیں 1997 میں حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ شرح خواندگی میں اضافے کے لئے پر ائمری سکولوں کی تعداد بڑھائی جائے 2007 میں پالیسی یہ تھی کہ مکتب سکولوں کو بھی پرائمری سکول کا درجہ دید یا جائے 2007 میں سکولوں کے اندر طلبہ اور طالبات کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا تھا 2007 میں طالبات کو سکولوں میں داخلہ کی تر غیب دینے کے لئے ماہانہ 200 روپے وظیفہ دینے کی پالیسی لائی گئی طلبہ ا ور طالبات کو مفت کتابیں دی گئیں اس کے نتیجے میں طلبہ اور طالبات دونوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا 2009 میں سکولوں کے اضافی کمروں اور اضافی عملہ کی ضرورت پڑی حکومت نے دونوں کی منظوری دی اضافے کمرے تعمیر ہوئے اور ریشنلائز یشن کر کے سکولوں کو اضافی عملہ بھی دید یا گیا کالجوں میں چار سالہ ڈگری پروگرام شروع کرایا گیا ،مسلم لیگ (ن)، جنرل مشرف ، ایم ایم اے ، پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ادوار کی اس ترقی کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت نے نومبر 2016 میں دو اعلا میے جاری کئے جون 2017 سے ان پر عمل ہونے والا ہے پہلے اعلا میے کے تحت ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسروں سے رپورٹ مانگی گئی ہے کہ فروری 2017 تک ہر ضلع کے اندر سکولوں کی نصف تعداد کو بند کر نے کے لئے قریبی سکولوں کے نام رپورٹ کی صورت میں فراہم کئے جائیں تاکہ طلبہ اور طالبات کو قریبی سکولوں میں کھپایاجائے دوسرے اعلا میے کے تحت ہائیر ایجو کیشن ڈیپارٹمنٹ سے رپورٹ مانگی گئی ہے کہ کالجوں کی نجکاری کے لئے اعدادو شمار فراہم کئے جائیں تاکہ جون 2017 تک حکومت کالجوں کے انتظام سے خود کو سبکدوش کر لے خیبر پختونخوا کے اندر عمران خان کے مداحوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکنوں کو عمران خان ، اسد قیصر جہانگیر ترین شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کے لئے ایک بریفینگ کا اہتمام کر نا چاہیے بریفینگ میں نقشوں کی مد د سے پی ٹی آئی کی قیادت کو بتا یا جائے کہ ضلع لکی مروت ، کرک ، تورغر ، شانگلہ ، بونیر اور چترال کے 355 سکولوں کو بند کیا گیا تو سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے غریب اور نادار بچے بچیاں 15یا 20 کلو میٹر دور جاکر تعلیم حاصل نہیں کرسکینگی اگر صرف ضلع چترال کے 38 سکولوں کو بند کیا گیا تو 1800 طلبہ اور طالبات تعلیم سے محروم ہوجائینگی اسوقت پرائمری سکول ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے مڈل سکول 4کلو میٹر کے فاصلے پر ہے جبکہ ہائی سکول کم سے کم 6 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے پہاڑی او ردیہاتی علاقوں میں بچے ، بچیاں پیدل سکول جاتی ہیں قابل غور بات یہ کہ 2012 میں طلبہ اور طالبات کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پیش نظر عملہ اور انفر اسٹرکچر میں اضافہ کیا گیا تھا 4 سکولوں میں ایسی کونسی تبدیلی آئی کہ صوبے کے دیہاتی اور پہاڑی علاقوں میں دو دو سکولوں کو آپس میں ضم یا merge کر نے کی ضرورت پیش آئی ؟ اگر بریفینگ دی گئی تو عمران خان ضرور اس پرسوال اُٹھا ئینگے عمران خان کے مد احوں کا خیال ہے کہ لکھا پڑھا پنجاب کے مقابلے میں ان پڑھ اور ناخواند ہ خیبر پختونخوا کا تصور پی ٹی آئی کے خلاف گہری سازش ہے سکولوں کو بند کر کے اور کالجوں کو نجی تحویل میں دیکر غریب عوام کو تعلیم سے محروم کیا جارہا ہے پی ٹی آئی کی تعلیمی پالیسی کا نیا تجربہ پارٹی اور حکومت دونوں کے خلاف اپو زیشن کو زبردست دلائل فراہم کر یگی اور اگلے انتخابات میں اس کے اثرات پارٹی کے لئے تباہ کن ثابت ہونگے ساغر صدیقی کی مشہور نظم ہے ’’ مست نظر جو گی ‘‘ ساغر صدیقی کہتا ہے
دے کوئی جواب آخر کچھ میرے سوالوں کا
تدبیر کے آشفتہ مجروح غزالوں کا
بے چیں امنگوں کا بے باک خیالوں کا
ہم درد کے ماروں کی کیا یوں ہی بسر ہوگی
او مست نظر جوگی

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔