
مضامین
50 بلین ڈالر کا خواب
…………محمد صابر ………….
18 مئ 2015 کی صبح 6 بجے نیو یارک ٹائمز کے اخبار کے تحقیقاتی صحافی ڈیلکن واش کی جانب سے نیویارک ٹائمز میں ایک رپورٹ شائع ہوتی ہے ۔ جس کے مطابق پاکستانی مشہور و معروف آئی۔ٹی کمپنی axact جوکہ کمپنی کے مطابق بین الاقوامی سطح پر سوفٹ وئیر بناتا ہے اور صارفین کو فروخت کرتا ہے ، اور اس کے علاوہ ( آن لائن لرننگ جیساکہ سیول انجنئرنگ ، نرسنگ ، اور خاص کر گھر بیٹھے نہایت کم ڈالرز میں سرٹیفیکیٹز بھی دیتا ہے )
نیو یارک ٹائمز کے رپورٹر نے ایک اور الزام بھی لگایا کہ کمپنی کا ایک خاص طریقہ کار یہ بھی ہے کہ US سیکٹریری جون کیری کے دستخط شدہ سرٹیفیکیٹز Students کو ارسال کرتا ہے۔
یہ خبر نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے کے صرف 3 گھنٹے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار صاحب بغیر کسی ثبوت کے ایف آئی اے کو حکم صادر فرماتے ہیں۔ ایف ائی اے کراچی اور اسلام آباد میں واقع axact کے دفاتر ، ملازموں اور کمپیوٹرز کو اپنی تحویل میں لیتا ہے ۔
ایک اور پراجیکٹ جو کہ axact ہی کا سلسلہ تھا بول نٹ ورک کا قیام تکمیل کے قریب تھا کہ اچانکہ جعلی ڈگری اسکنڈل کا نام دے کر axact اور bol کے گرد گھیرا تنگ کردیا جاتا ہے ۔ آگے جاتے ہیں اور مزید دلچسپ بات وہ یہ کہ معمولی تفتیش کے بعد ایف آئی اے دعوہ کرتی ہے کہ axact کے آفس سے جعلی ڈگری اور Student کارڈز برآمد ہوۓ ہیں ۔ آزادئ صحافت کے اصول و آداب کو پاٶں تلے روند کر اب تک صرف ایک رپورٹ کو بنیاد بناکر جوکہ کسی دوسرے ملک کے اخبار میں شائع ہوتی ہے axact کے Ceo اور دیگر عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر کاٹ کر انہیں جیل بھیج دیا جاتا ہے ۔
کمپنی کے Ceo شعیب شیخ فیصل آباد میں پیدا ہوۓ ۔ اعلی تعلیم کراچی کے معروف انسٹیٹیوٹ IBA سے حاصل کیا ۔ 1997ء میں شعیب شیخ آئی۔ٹی کمپنی کی بنیاد رکھتا ہے ۔شعیب شیخ Microsoft کے بانی بل گیٹس سے کافی متاثر تھے ۔ اس نے صرف ایک کمرے میں اپنی کمپنی کی بنیاد رکھی ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آئی۔ٹی کی دنیا کا بادشاہ بن گیا ۔ بہت ہی قلیل مدت میں axact کو دنیا میں متعارف کروایا ۔ آئی۔ٹی کی دنیا میں میں دولت و شہرت کمانے کے بعد شعیب شیخ کے دل میں میڈیا ہاٶس کا خیال آیا ۔ جس کو حقیقت کا رنگ دینے کےلیے خواب دیکھا جس کی زندہ مثال آج بول نٹ ورک کی صورت میں آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے ۔
آئی۔ٹی کمپنی axact کی مقبولیت اور بہت کم عرصے میں اس کی ترقی دیکھ کر خاص کر جو زرمبادلہ axact کے ذريعے پاکستان آئی ان سب عوامل کی سبب جب اندرون اور بیرون ملک حاسدین کی نظر axact پر پڑی اندر ہی اندر axact اور bol کے خلاف کہچڑی پکتی رہی، چند پاکستانی میڈیا ہاٶسسز کو بول کی برتری کے خدشات لاحق ہوۓ ۔ 2013 ء سے ہی axact اور bol کے خلاف مختلف سازشی فارمولے اپناۓ گئے جوکہ بالآخر 18 مئی 2015 ء کو نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں خطرناک صورت حال میں پیش کیے گئے ۔
بول نٹ ورک کے آفس ، اسٹوڈیو اور ملک بھر میں دفترات کو سیل کردیا گیا ۔ نامی گرامی صحافی جوکہ بول کی عوامی مقبولیت کے وجہ سے اس جانب رواں دواں تھے بیج راستے سے واپسی اختیار کر لیے ۔ اس تناظر میں لگ تو ایسے رہا تھا کہ گویا axact اور bol کو جبرا قید مشقت کی سزا دی جارہی ہو بغیر کسی ثبوت کے وہ بھی صرف ایک غیر ملکی اخبار کی رپورٹ پر ۔
شعیب شیخ اور اس کی ٹیم کی راۓ سنے بغیر یک طرفہ طور پر بغیر کسی جرم کے ایک محب دطن پاکستانی کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے ۔ شیعیب شیخ کا خواب تھا کہ آئی۔ٹی کے شعبے میں 50 بلین ڈالر پاکستان لاٶنگا ۔ ایک کروڑ بچوں کو پڑھاٶں گا ، بے روزگاری ختم کروں گا۔ یہ شخص خود بل گیٹس جتنا دولت مند بننا تو نہیں چاہ رہا تھا البتہ ہاں پاکستان کو ایک دولت مند ملک ضرور بنانا چاہتا تھا ۔
چند مخصوص گروہیں میں نام لینا نہیں چاہتا پاکستان میں بھارتی آقاٶں کو خوش کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں ۔ جن کا ایجندا بس پاکستان کو کمزور سیکولر اور غیر مستحکم کرنا ہے ۔ یہی گروہ axact اور bol کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوئی کیونکہ آئی۔ٹی کی دنیا میں درآمدات میں ایک جانا پہچانا نام بنگلور بھی ہے اور آئی۔ٹی کی مد میں زرمبادلہ یا تو بنگلور جانی تھی یا کراچی ، ہمارا مقابلہ ڈائریکٹ بنگلور کے ساتھ تھا ۔ ہمارے ملک کے axact اور bol پر جو کاری ضرب لگائی گئی ہے اس میں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں کے بھی ہاتھ ہیں ۔
آج بول تو آزار ہوگیا ہے مگر axact کی رفتار میں خلل ہے ۔ وہ جس رفتار سے انداز سے چل پڑا تھا اسے بیچ راہ روک دیا گیا اسے کام کرنے نہیں دیا گیا ۔ جو زرمبادلہ پاکستان axact کی بدولت حاصل کرتا آرہا تھا ۔ آج اس سے محروم ہو چکا ہے ۔ اگر بول کو بولنے دیا گیا تو اس بات میں شک نہیں کہ axact اور بول پاکستان کو بہت کچھ دے سکتیں ہیں ۔
بل گیٹس Microsoft کا بانی دنیا کا امیر ترین آدمی بن سکتا ہے اور مارک Facebook کا بانی دنیا کا امیر ترین نوجوان بن سکتا ہے؟
تو کیا ایک پاکستانی axact کے ذريعے امیر ترین شخص نہیں بن سکتا ہے ؟
آج معمولی سا آئی۔ٹی پروفشنل اور سافٹ وئیر انجینئر آن لائن لاکھوں ڈالر کما سکتا ہے تو آخر شعیب شیخ کیوں نہیں ۔واقعی میں 50 بلین ڈالر کا خواب اتنا مہنگا بھی نہیں جتنا ہم سمجھتیں ہیں ۔
