
صدابصحرا ……..قرآن کی تعلیم اور علماء کرام کی خدمات
………ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ ……..
جمعیتہ العلمائے اسلام کے خلاف پاکستان تحریک انصاف نے دوسری کامیاب سیاسی حکمت عمل اختیار کر لی ہے۔ اخبارات میں خبر آئی ہے کہ قرآن پاک کو لازمی مضمون کا درجہ دیا جا رہا ہے۔اول سے پنچم تک قرآن ناظرہ ، تجوید لازمی ہوگی۔ چھٹی جماعت سے میٹرک تک قرآن کا ترجمہ لازمی ہوگا۔ اس کام کے لئے 16ہزار قراء، 8ہزار قاریات ،20ہزار علماء اور 10ہزار عالمات کو فروری سے اپریل 2017ء تک بھرتی کرکے سکولوں میں بھیجا جائے گا۔ اس طرح کم وبیش 50ہزار قراء، قاریات، علماء ، عالمات کو سرکاری سکولوں میں روزگار ملے گا۔ اتنی ہی تعداد میں دینی علوم کے فارغ التحصیل علماء ، عالمات،قراء ، قاریات اور حفاظ کرام نجی سکولوں میں روز گار حاصل کرئینگے۔ یہ کام متحدہ مجلس عمل کی حکومت میں نہیں ہواتھا اس سے پہلے تحریک انصاف کی حکومت نے عربک ٹیچرز اور معلم دینیات کی آسامیوں کو اپ گریڈکرکے علماء کو سکیل 16میں گزیٹیڈ پوسٹ دے کر جے یو آئی پر باقاعدہ برتری حاصل کر لی تھی یہ دوسرا قدم ہے جس کے ذریعے جے یو آئی کی سیاست کو مات دینے کی کوشش کی گئی ہے اس فیصلے کا ایک اور مثبت پہلو یہ ہے کہ اس فیصلے کے تحت قرآن پڑھانے والے اساتذہ کی بھرتی کا کام این ٹی ایس کے ذریعے نہیں ہوسکتا ۔ اس عمل کے لئے محکمہ تعلیم کے اندر موجود بھرتی کے پرانے نظام کو فعال کرنا پڑے گا عربی ٹیچر اور قاری پوسٹ کے لئے این ٹی ایس والے گوجرانوالہ سے جو پرچہ لاتے ہیں وہ اکاونٹنٹ کے امتحان کا پرچہ ہوتا ہے اور اکاونٹنٹ یا جونیئر کلرک کے لئے جو پرچہ لاہور یا فیصل آباد سے منگوایا جاتا ہے اس میں انڈو پاک کی تاریخ ، مغل سلطنت ، سراج الدولہ اور سلطان ٹیپو کے بارے میں سوالات دیئے جاتے ہیں اگر محکمانہ ٹیسٹ کے ذریعے قراء، قاریات، علماء اور عالمات کی بھرتی کا عمل شروع ہوا تو یہ بہت بڑا کام ہوگا کسی اذیت ، کوفت اور تکلیف کے بغیر با عزت طریقے سے اساتذہ کی بھرتی ہو جائیگی اس حوالے سے پی ٹی آئی کے کردار پر اُٹھنے والے سوالات ختم ہوجائینگے اگلے الیکشن میں جے یو آئی کا سامنا ہوگا تو 50ہزار علماء اساتذہ پی ٹی آئی کی پُشت پر کھڑے ہونگے یہ بات قابل ذکر ہے کہ 1990تک خیبر پختونخوا کے اضلاع سوات ، دیر اور چترال میں ہر پرائمری سکول کے اندر قرآن ناظرہ لازمی مضمون تھا۔ معلم دینیات کی پوسٹ ہوتی تھی معلم استاذ ہوا کرتا تھا میر افضل خان وزیر اعلیٰ بنے تو ورلڈ بینک کا پرائمری سکول اور نصاب سے متعلق پراجیکٹ لایا گیاورلڈ بینک کے کنسلٹنٹ نے کہا یہ کیا ہے؟ ان کو بتایا گیا کہ قرآن پڑھانے کا انتظام ہے۔ کنسلٹنٹ نے کہا اس کو ختم کرنا ہوگا میر افضل خان نے اعلان کیا کہ آئندہ سے کسی پرائمری سکول میں قرآن پڑھانے کی پوسٹ نہیں ہوگی گورا ماموں ناراض ہوتا ہے چنانچہ گورا ماموں کو خوش کرنے کے لئے معلم دینیات کی پوسٹوں کو ختم کردیا گیا ورلڈ بینک کا پروگرام ختم ہونے کے بعد یہ بات منظر عام پر آئی کہ اس پراجیکٹ میں اربوں ڈالر غبن کر دیئے تھے 8سالوں تک مقدمات چلتے رہے لوگ پکڑے گئے پھر مک مکا کر کے چھوڑ دئیے گئے قرآن پاک کو اول سے پنچم تک پرائمری سکولوں میں ناظرہ کی حد تک اور جماعت ششم سے دہم تک ہائی اور مڈل سکولوں میں ترجمہ کی حد تک لازمی مضمون قرار دینا انقلابی قدم ہے اس کے لئے اساتذہ کی بھرتی سے مدارس کے فارغ التحصیل طلباء اور طالبات کو با عزت روزگار ملے گا اور دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا عمل بھی آگے بڑھے گا حکومت کو اس فیصلے پر عمل دارآمد میں جلدی کرنی چاہئییہ حکومت کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور سرخروئی کا باعث بنے گا اور دنیا میں حکومت کی بہت بڑی سیاسی فتح ہوگی کہ جو کام متحدہ مجلس عمل کی حکومت سے نہ ہوسکا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے نہ ہوسکا اے این پی کی حکومت سے نہ ہوسکاوہ کام پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کر دکھایا عموماً دیکھا جاتا ہے کہ حکومت اچھے فیصلے کرتی ہے مگر عملدرآمد میں تاخیر کی وجہ سے اُن فیصلوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتایکساں نظام تعلیم کا فیصلہ کیا گیا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا پولیس ریفارمز کے ذریعے تھانوں کا کلچر تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا قرآن پاک کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ بہت اچھا فیصلہ ہے مستحسن اقدام ہے اس پر فوری عمل درآمد ہونا چاہئے تاکہ پی ٹی آئی حکومت کے کھاتے میں کوئی اچھا کام بھی لکھا جا سکے۔
