مضامین

داد بیداد ……..سیاست میں بانجھ پن

…………..ڈاکٹر عنایت للہ فیضی ؔ……….
ملکی سیاست بانجھ پن کا شکا رہے گذشتہ 20 سالوں کے اخبارات کی فائلیں کھنگال کر دیکھیں آج کل کی سیاسی لیڈروں کی تقریریں اور ان کے بیا نات پڑھ لیں کسی بڑی سیاسی ریلی یا کسی بڑے سیاسی جلسے میں لیڈروں کی تقریریں سن لیں ایک ہی میموری کارڈ ہے وہی چِپ (Chip) ہے وہی کیسٹ ہے جو باربار سنائی جارہی ہے ایک ریلی یا جلسے پر اوسطاً80 لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے بعض پارٹیوں کے ایسے بھی جلسے ہوتے ہیں جن کا خرچہ ڈیڑھ سے دو کروڑ روپے تک ہوتا ہے اگر ایک لیڈر نے فروری 2016 والی تقریر جنوری 2017 میں چالیسویں با ر کرنی ہے تو اس کے لئے اتنے خرچے کی کیا ضرورت ہے اور یہ خرچہ کہاں سے آتا ہے مرحوم مولانا کو ثر نیازی سے سیاست کے ساتھ ساتھ علم و ادب اور فن خطابت میں بھی اعلیٰ مقام رکھتے تھے بھٹو شہید کی کا بینہ میں وزیر اطلا عات تھے انہوں نے صبح 10 بجے را ولپنڈی میں ایک جلسے سے خطا ب کیا شام کے چار بجے ایبٹ آباد میں ان کا خطاب تھا ابیٹ آباد سے اخباری نمائندے نے اپنے اخبار کو ٹیلی پرنٹر کے ذریعے جو خبر بھجوائی اس میں جلسے کے مقا م اور شرکا ء کا ذکر کرنے کے بعد لکھا ’’باقی وزیر صاحب کی پنڈی والی تقریر ‘‘یہ خبر ڈیسک سے گزر کر کا تب کے پاس گئی کا تب سے سب ایڈیٹر کے پاس گئی اس کی سرخی بنی اور اخبار میں لگ گئی آخری جملہ یہی تھا ’’باقی وزیر صاحب کی پنڈی والی تقریر ‘‘اگلے روز یہ لطیفہ ہر جگہ زیر بحث آیا بھٹو شہید نے بھی اس کا لطف اُٹھایا مولانا کو ثر نیازی نے اخباری نمائندے کو چائے پر بلایا اور تحائف دے کر رخصت کیا وہ تو جون ایلیا کے بقول’’پایہ شنا س فن ‘‘تھا اگر کوئی دوسرا ہوتا تو اخباری نمائندے کو سلاخواں کے پیچھے بھیج دیتا کہ تمہیں ما بدولت کے شان میں اس طرح کی گستاخی کی جراء ت کیسی ہوئی ایک سینئر صحافی کا خیال ہے کہ اس وقت پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا آگیا ہے سو شل میڈیا آگیا ہے جلسوں پر اور ریلیوں پر پیسہ ضائع کرنے کے بجائے میڈیا کی وساطت سے رابطہ عوام مہم چلائی جائے توا س کا اچھا اثر ہوگا چین ،روس اور جا پا ن میں جلسے ،جلسوں اور ریلیاں نہیں ہوتیں برطانیہ ،فرانس ،جرمنی ،سپین اور اٹلی کے شہروں میں 4 سال یا 5 سال بعدا یک آدھ جلسہ ہوتا ہے یا ریلی نکالی جاتی ہے برطانیہ کے ہائیڈ پارک میں لوگوں کو بیٹھے بٹھا ئے سامعین مل جاتے ہیں مگر سو شل میڈیا نے ہائیڈ پارک کی رونق کو بھی چھین لیا ہے جو گھر میں بیٹھ کر ایک لاکھ سامعین تک پہنچائی جاتی ہے اس کے لئے چل کر ہائید پارک تک جانے کی کیا ضرورت ہے پہلے ایسے ہوتا تھا کہ کوئی نئی بات ،کوئی سنسنی خیز انکشاف کرنے کے لئے جلسہ ہوتا تھا جلسے میں نئی بات ہوتی تھی نیا انکشاف ہوتا تھا لوگ عش عش کر اُٹھتے تھے بھٹو شہید ہر جلسے میں نئی بات کرتے تھے نیا شو شا چھوڑتے تھے نیا انکشاف کرتے تھے مفتی محمود ،ولی خان اور غلا م غوث ہزاروی کی ہا ں نئی نئی باتیں سننے کو ملتی تھیں قاضی حسین احمد اور نو ابزادہ نصر اللہ خان اپنی سیاسی تقریروں میں ادبی رنگ بھر دیتے تھے علامہ اقبال ،مولانا روم ،شیخ سعد شیرازی ،حافظ شیرازی اور دیگر اکا برین شعراء کے کلام سے خوشہ چینی کر کے جلسے کو گر ماتے تھے آج کل سیا ست کا کوچہ فن خطابت کے ماہرین سے خالی ہوگیا ہے لے دے کر ہمارے پاس فرزند راولپنڈی شیخ رشید احمد رہ گیا تھا اُس کی پارٹی میں سامعین نہیں ملتے اس لئے کبھی موٹر پر اور کبھی بائیک پر پکڑ کے تحریک انصاف کے جلسوں میں جاتے ہیں وہاں 3 منٹ سے زیادہ تقریر کریں تو ہوٹنگ شروع ہو جاتی ہے اعلا ن کرتے ہیں کہ 5 منٹ سے زیادہ نہیں بولوں گا پھر ہوٹنگ بند نہیں ہوتی تو شریف فیملی پر دو حروف بھیج کر سٹیج سے اتر جاتے ہیں پنجا ب کا خادم اعلیٰ صاحب کا مقررین میں اعلیٰ مقام ہے حبیب جالب کے اشعار سناتے ہیں سامنے والے مائیک گر ادیتے ہیں مگر کوئی نئی بات نہیں کہتے ایک جذباتی صحافی کا کہنا ہے کہ وہ ہر بار نئی بات کہتے ہیں ایک جلسے میں اگر 3 مہینوں میں لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کریں تو دوسرے جلسے میں تین مہینے کی جگہ 90 دن کہہ دیتے ہیں میرے اس جذباتی صحافی دوست کو عمران خان کی تقریر وں میں بھی جدّ ت نظر آتی ہے بہاولپور کے جلسے میں مخالفین کو ’’چور‘‘کہیں تو قصور میں جلسہ کر کے چور کی جگہ ’’ڈاکو ‘‘کہتے ہیں ہمارے دوست اور کہنہ مشق صحافی حیات اللہ گر زی کا خیال ہے کہ وہ نیا اخبار نکالینگے اورخبر نگاری کی نئی روایت قائم کرینگے ہر سیاستدان کی خبر کے ساتھ ڈیٹ لائن ہوگی سیاستدان کا نام ہوگا ’’انہوں نے کہا ‘‘لکھا جائے گا آگے ایک جملہ ہوگا ’’وہی پرانا بیان ‘‘اخبار میں جدت پیدا کرنے کے لئے پرانا بیان کی جگہ سابقہ بیان ،سابقہ تقریر ،پرانی تقریر ،پرانا موقف وغیرہ کے نئے نئے جملے لگائے جائینگے اخبار بیچنے کے لئے تین کالمی اور چار کالمی سرخیوں کے ساتھ سیاستدانوں کی تصویر یں لگائی جائینگی ملکی سیاست کے بانجھ پن کو دیکھ کر اہل نظر سوچتے ہیں تو کوئی اچھنبا نہیں لگتا مختار مسعود کی کتا ب آواز دوست 1970 ؁ء کے عشرے میں پہلی بار شائع ہوئی کتا ب کا دوسرا باب آٹو گراف ختم کرتے ہوئے مختار مسعود نے جو کچھ لکھا اس کا خلاصہ یہ ہے میں نے آٹو گراف البم کو بند کیا والد صاحب نے نصیحت کی تھی ہر ایرے غیرے کے لئے آٹو گراف نہ کھولو اب ملک بانجھ پن کی حالت سے دو چار ہے اس لئے میں نے البم کو بند کیا 1970 ؁ء سے اب تک 45 سالوں میں بانجھ پن کا مرض اور بھی بڑھ گیا ہے اب سیاستدانوں کو یا تو بالکل جلسہ نہیں کرنا چاہئے یا اُس وقت جلسہ کرنا چاہئے جب اُن کے پاس کہنے کے لئے کوئی نئی بات ہو شیکسپےئر کے ڈرامے کاا یک کردار کہتا ہے ’’جب تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہ ہو ،تو کچھ نہ کہو ‘‘مگر ہمارا حال مرزا غا لب کے حال جیسا ہے ۔
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہے اور سنا کرے کوئی

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
100% Free SEO Tools - Tool Kits PRO

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔