ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

صدا بصحر ا ……..جو بائیڈن اور ہم

………..ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ …………

Advertisements

جو بائیڈن ڈیمو کرٹیک حکومت میں امریکہ کے نائب صدر تھے 20 جنوری کو ان کی مدت پوری ہوئی وائٹ ہاؤس سے جانے کے بعد خبر آگئی کہ جو بائیڈن اتنا غریب اور تنگ دست ہے کہ اپنے بیٹے بو با ئیڈن کے علاج کے لئے ا س کو اپنا گھر بیچنا پڑا مگر دوست نے انہیں گھر بیچنے سے منع کیااور مطلوبہ رقم اپنی جیب سے فراہم کر دیا امریکہ دنیا کا طاقتو ر ترین ملک اور اس ملک کا نائب صدر اپنے بیٹے کے علاج کے لئے گھر بیچنے پر مجبور ،یہی امریکہ کی طاقت کا راز ہے وطن عزیز پاکستان میں کوئی اس خبر کو ماننے پر امادہ نہیں ہوگا یہاں پیسہ کمانے اور مال بنانے کا سب سے تیز ترین محفوظ ترین طریقہ یہ ہے کہ سیاست میں آؤ ، اور ما ل بناؤ زیرو انو سمنٹ ہے اور منافع لاکھ فیصد سے بھی زیادہ میرا جگری دوست اسمبلی کا ممبر بنا اُس کے پاس کاغذات نا مز دگی جمع کرنے کے پیسے نہیں تھے انتخابی مہم چلانے کے لئے ایک پائی نہیں تھی دوستوں نے ہزار دو ہزار روپے چندہ جمع کر کے 52 ہزار رپے دئیے ایک مقبول سیاسی جماعت کا ٹکٹ ملا اور قسمت نے ساتھ دیا 5 سال اسمبلی کا ممبر رہا اب وہ 2 ارب روپے کی جائیداد اور ڈیڑھ کروڑ روپے کے کا روبار کا مالک ہے 75 لاکھ روپے کی گاڑی میں پھر تا ہے اس دولت کا راز اسمبلی کی رکنیت ہے کسی بھی کاروبار ، کسی بھی ملازمت میں اتنا فائد ہ نہیں جتنا فائد ہ اسمبلی کا ممبر بننے میں ہے میں اپنے دوست سے پوچھتا ہوں کہ دولت راتوں رات کہاں سے آئی تو وہ مسکر اتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایک ڈیوٹی فری گاڑی منگوائی پھر کہتا ہے میں ایک سٹینڈنگ کمیٹی کا بھی ممبر تھا ہم کہتے ہیں یہ کافی نہیں وہ کہتا ہے اس کمیٹی کا تعلق ایک بڑی انڈسٹری سے تھا ہم کہتے ہیں یہ بھی کافی نہیں وہ کہتا ہے ، مجھے امپورٹ ایکسپورٹ کا کوٹہ ملاتھا ہم نے کہا یہ بھی کا فی نہیں وہ کہتا ہے مجھے چار پلاٹ ملے تھے ہم کہتے ہیں یہ بھی کافی نہیں وہ سر بستہ را زؤں سے پردہ اُٹھاتے ہوئے کہتا ہے تحریک عدم اعتماد کا خطر ہ پیدا ہوا تھا اس لئے خصوصی پیکج ملا ہم نے کہا یہ بھی کافی نہیں انہوں نے جلتے ہوئے کہا یار ! تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے میرے دور میں سینیٹ کے دو الیکشن ہوئے 80 کروڑ روپے میں ان میں کمائے اور حق حلال کی اس کمائی سے میں نے پراپر ٹی خریدی مجھے امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن پر بہت ترس آتا ہے وہ اگر وطن عزیز پاکستان کی کسی اسمبلی کا ممبر ہوتا تو اپنی سات نسلوں کے لئے دولت جمع کرتا بیٹے کے علاج کے لئے اپنا گھربیچنے کی ضرورت کیوں پڑتی ؟ یہی تو فرق ہے وہاں اسلام نہیں ہے شریعت کاذکر نہیں ہے پاک لوگوں کے پاک وطن کا تذکر ہ نہیں ہے کوئی عیسائی ہے کوئی یہودی ہے مگر ان لوگوں نے سیاست کو خدمت اور عبادت کا ذریعہ بنایا ہوا ہے ہمارے ہاں اسلام ہے ، شریعت کا نعرہ ہے حج کا عمر ہ ہے تسبیح ہے نوافل ہیں مگر سیاست میں خدمت او رعبادت کی جگہ دکاندار ی ، ساہو کاری ہے ، کاروبار ہے منافع ہی منافع ہے اتنا منافع ہے جتنا منافع کسی اور کاروبار میں نہیں لوگ بڑی بڑی نوکریوں اور بڑی بڑی تنخواہوں کو چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھتے ہیں اور دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہیں وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ سسٹم کوتوڑ دیا گیا ہے بیوروکریسی کو کمزور کیا گیا ہے عدلیہ کو بے دست و پا کردیا گیا قانون کوپابہ زنجیر کر دیا گیا ہے سکول یا ہسپتال میں درجہ چہارم کی بھرتی کا اختیار بھی اسمبلی کے ممبر کو دیا گیا ہے لنک روڈ، سٹریٹ لائٹ ، پانی کے نلکے اور پُل کی مرمت کا اختیار بھی بیوروکریسی سے لیکر ارکان اسمبلی کو دید یا گیا ہے جارج ورکر بش ،باراک اوبامہ رولڈریگن اور بل کلنٹن 8,8 سال امریکہ کے صدر رہے امریکہ میں انہوں نے کسی پل کسی عمارت کا افتتاح نہیں کیا آپ کو پورے امریکہ میں کسی صدر،کسی گورنر ، کسی سپیکر ، کسی ممبر پارلیمنٹ یا کسی وزیر کے نام کی تختی کسی عمارت پر نہیں ملے گی وہ لوگ کسی احساس کمتری کا شکار نہیں ہیں وہ خود کو افتتاح کے فیتے کا محتاج ہی نہیں سمجھتے یہی اُن کی طاقت کا راز ہے 1995 میں جا پانی حکومت نے ضلع چترال کے بڑے قصبے میں سرکاری چھاو نی کے سامنے بڑا پُل تعمیر کیا پُل تیار ہوا تو حکام نے انجینئر سے پوچھا افتتاح کے لئے کون آئے گا انجینئر تو کو ہامہ نے بر جستہ کہا ’’ کوئی بھی ڈرائیور ‘‘ چنا نچہ نہ جاپانی سفیر آیا نہ سفارت خانے کا کوئی افیسر آیا نہ فیتہ کاٹا گیا نہ تصویر لی گئی ڈرائیور نے گاڑی پُل پر سے گُذاری یہ افتتاح تھا جو لوگ کا م کرتے ہیں وہ افتتاح ، فیتہ اور تختی کے محتاج نہیں ہوتے جو لوگ کچھ نہیں کرتے وہ فیتہ کاٹتے ہیں کمیشن لیتے ہیں اور مال بناتے ہیں جو بائیڈن امریکہ کا نائب صدر تھا اس سے پہلے وہ کانگریس اور سینیٹ کاممبر رہا ہے کہنہ مشق سیاستدان ہے اُن کے پاس بیٹے کے علاج کے لئے کچھ بھی نہیں بچا تو اس نے گھر بیچنے کاسوچا مگردوست نے اس کی مدد کی اور گھر بکنے سے بچ گیا وطن عزیز پاکستان موجودہ سیاست میں ایسی مثال نہیں ملتی کسی پارٹی کے پاس ایسی مثال نہیں ہے اگر جوبائیڈن جاچان سے ایک ہی ڈیوٹی فری گاڑی منگواتا تو بیٹے کے علاج ہوجاتا مگر بے چارہ جو بائیڈن امریکی سسٹم میں ایسا نہ کرسک

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

متعلقہ

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى