
مضامین
صدا بصحرا ….ایک اور عالمی نظام
…………ڈاکٹر عنا یت للہ فیضی ؔ ………
یہ 1980 ء کے عشرے کا ذکر ہے افغانستان کے اندر امریکہ اور سویت یونین کی جنگ جا ری تھی یورپی ممالک ،عرب ممالک اور ایشیاکے دیگر ممالک بشمول بھارت ،پاکستان اور بنگلہ دیش سب نے امریکہ کا ساتھ دیا امریکہ نے سویت یونین کے خلاف بڑا عالمی اتحاد بنا یا افغانستان کے اندر امریکہ کے قدم مضبوط ہوگئے تو صدر رونا لڈ ریگن نے اعلان کیا کہ اب عالمی نظام میں دو طاقتیں نہیں ہونگی صرف ایک طاقت ہوگی اور وہ امریکہ کی طاقت ہوگی یہ نیا عالمی نظام ہوگا انگریزی میں اس کو نیو ورلڈ آرڈر کا نام دیا ،مشہور ماہر عمرانیا ت سموئیل ہن ٹنگٹن نے اس کو تہذیبوں کا ٹکر اؤ قرار دیا اب مغربی تہذیب ،چین ،ہند ،عرب اور افریقی تہذیبوں کے خلاف لمبی جنگ لڑے گی یہ جنگ 1990 ء کے بعد جاری رہی اب بھی جاری ہے 2016 ء میں ایک اور عالمی نظام کا چر چا ہو ایہ ایسا عالمی نظام ہے جس کی سر براہی مغربی کلچر کے پاس نہیں ہوگی امریکہ اور یورپ اس کو اپنی مر ضی سے ہا نک کر ایک طرف نہیں لے جا سکینگے بلکہ اس کی سر براہی مشرق کے پاس ہوگی اور مشرق سے اُبھر تا ہوا سورج روس ،چین ،ایران اور ترکی کو عالمی افق پر اعلیٰ مقام دیدے گا بھار ت،جاپان ،انڈونیشیا ،بنگلہ دیش ،پاکستان اور دیگر ممالک امریکی بالا دستی سے آزاد ہو جائینگے ،مغرب کی غلامی کے خوف سے سب کو آزادی ملے گی یہ خواب نہیں حقیقت ہے اور اس حقیقت کے 3 بڑے ثبوت سامنے آگئے ہیں پہلا ثبوت یہ ہے کہ شام میں امریکہ ،اسرائیل ،یورپی یونین ،سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کو شکست ہوئی ہے شام پر امریکی قبضے کو ناکام بنا نے میں روس اور ایران اہم کر دار اد اکیا ویت نام کی طرح شام میں امریکہ کو ناکامی سے دوچار ہونا پڑا دوسرا ثبوت یہ ہے بر سلز میں یو رپی یونین کے لیڈروں نے ایک اعلامیہ کے ذریعے نیٹو کی جگہ نیا اتحاد قائم کر نے کا عندیہ دیا ہے نیا اتحاد امریکہ کے مقابلے میں آزاد ممالک کا اتحاد ہوگا اور کمزور اقوام کی مدد کرے گی یہ وہی مو قف ہے جو روس اور چین کا موقف ہے تیسرا ثبوت یہ ہے کہ ترکی نے یورپی یونین اور نیٹو سے کنارہ کشی اختیار کرکے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بننے کا اعلان کیا ہے ترک قوم بھی ما ضی میں چین ،روس اور ایران کی طرح قابل فخر تاریخ رکھتی تھی جدید دنیا میں ایک اہم صنعتی اور معاشی طاقت ہے اس کا نصف حصہ ایشیا میں اور نصف حصہ یورپ میں واقع ہے انقرہ کے لوگ ایشیا ء میں رہتے ہیں جبکہ استنبول کے لوگ یورپ کے باشندے ہیں روس بھی ایشیا اور یورپ میں منقسم ہے یورپ کے نئے فوجی اتحاد میں روس اور ترکی کو اہم مقام ملے گا امریکہ کے مقابلے میں یہ اتحاد کمزور اقوام کی مدد کر ے گا جا پان ،کوریا ،افغانستان،سعودی عرب ،پاکستان،قطر ،بحرین ،اردن ،متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے امریکہ کے فوجی اڈے اُٹھالئے جائینگے ایشیائی ممالک کو مغربی بالادستی سے نجات مل جائے گی مشرقی تہذیب کو مغرب سے جو خطرات لاحق ہیں وہ دور ہوجائینگے محکوم اور مظلوم اقوام کو سہار ا مل جائے گا یہ ایک اور عالمی نظام ہوگا جو مشرق سے طلوع ہو رہا ہے
کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے اُبھر تے ہو ئے سورج کو ذرا دیکھ
1870 ء میں جر من فلا سفر ،دانشور ،ادیب اور جرمنی کے اُس وقت کے چانسلر بسمارک نے جرمنوں کو اتحاد کا درس دیتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ متحدہ ہوجاؤ اپنی تہذیب کا دفا ع کرو ورنہ ایسی قوم دنیا پر مسلط ہوگی جس کی کوئی تاریخ نہیں ہوگی کوئی نسل نہیں ہوگی باپ دادا کا نام نہیں ہوگا جرمن حیران ہوگئے تھے کہ ایسی قوم کہاں سے آئے گی جس کا باپ دادا نہ ہو جس کی نسل نہ ہو جس کی تاریخ نہ ہو بسمارک کے اس قول کو 100 سال بھی گزرے تھے کہ امریکہ میدان میں آیا 1970 میں امریکہ ویت نامیوں کے خلاف ایسی جنگ لڑرہا تھا جو تاریخ میں کسی مہذب قوم نے نہیں لڑی جو لوگ ہیرو شیما ،نا گا ساکی اور کوریا کی جنگ میں بسمارک کے قول کی سچائی کے معترف نہیں ہو پائے تھے وہ لوگ بھی ویت نا م جنگ میں قائل ہوگئے کہ بسمارک نے جو پیشنگوئی کی وہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی روس اور چین کی سربراہی میں مشرق اقوام کے لئے اتحاد اور یورپی یونین کے اندر نیٹو کی جگہ نئے فوجی اتحاد کی خبروں سے یہ بات عیاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ شام میں امریکی شکست سے ایک اور عالمی نظام کی راہ ہمورا ہوگئی ہے کمزور اور مظلوم اقوام کو امریکی بالا دستی اور غلامی سے نجات ملنے کا وقت آگیا ہے مشرقی اقوام کے لئے یہ بڑی خوش خبری ہے ۔
کھول آنکھ زمین دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ
مشرق سے اُبھر تے ہو ئے سورج کو ذرا دیکھ
1870 ء میں جر من فلا سفر ،دانشور ،ادیب اور جرمنی کے اُس وقت کے چانسلر بسمارک نے جرمنوں کو اتحاد کا درس دیتے ہوئے پیش گوئی کی تھی کہ متحدہ ہوجاؤ اپنی تہذیب کا دفا ع کرو ورنہ ایسی قوم دنیا پر مسلط ہوگی جس کی کوئی تاریخ نہیں ہوگی کوئی نسل نہیں ہوگی باپ دادا کا نام نہیں ہوگا جرمن حیران ہوگئے تھے کہ ایسی قوم کہاں سے آئے گی جس کا باپ دادا نہ ہو جس کی نسل نہ ہو جس کی تاریخ نہ ہو بسمارک کے اس قول کو 100 سال بھی گزرے تھے کہ امریکہ میدان میں آیا 1970 میں امریکہ ویت نامیوں کے خلاف ایسی جنگ لڑرہا تھا جو تاریخ میں کسی مہذب قوم نے نہیں لڑی جو لوگ ہیرو شیما ،نا گا ساکی اور کوریا کی جنگ میں بسمارک کے قول کی سچائی کے معترف نہیں ہو پائے تھے وہ لوگ بھی ویت نا م جنگ میں قائل ہوگئے کہ بسمارک نے جو پیشنگوئی کی وہ حرف بحرف سچ ثابت ہوئی روس اور چین کی سربراہی میں مشرق اقوام کے لئے اتحاد اور یورپی یونین کے اندر نیٹو کی جگہ نئے فوجی اتحاد کی خبروں سے یہ بات عیاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ شام میں امریکی شکست سے ایک اور عالمی نظام کی راہ ہمورا ہوگئی ہے کمزور اور مظلوم اقوام کو امریکی بالا دستی اور غلامی سے نجات ملنے کا وقت آگیا ہے مشرقی اقوام کے لئے یہ بڑی خوش خبری ہے ۔
