تازہ ترین

آرزو سینٹر نے چیپس کے تعاون سے “چترالی ثقافت پہ ایک شام ” کے نام سے شاندار پروگرام کا اہتمام کیا

کراچی (نمائندہ چترال ایکسپریس)پاکستان کے پہلے لبریل آرٹسس ادارہ حبیب یونیورسٹی کے آرزو سینٹر نے چیپس کے تعاون سے “چترالی ثقافت پہ ایک شام ” کے نام سے شاندار پروگرام کا اہتممام کیا۔آرزو سینٹر لسانی ترقی اور مقامی زبانوں کے فروغ کیلئے کام کرتا ہے اور یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ چترال ہیریٹیچ اینڈ انوارنمنٹل پروٹیکشن سوسائٹی ( چیپس) رحمت علی جعفر دوست کے زیرِ سربراہی پچھلے کئی سالوں سے ماحولیاتی کاموں کے ساتھ ساتھ ثقافت اور ورثے کی تحفظ کیلئے سرگرم رہی ہے۔ یہ ثقافتی پروگرام اپنے لحاظ سے ایک بہت ہی منفرد اور دلکش تھا کیونکہ پہلی دفعہ کسی تعلیمی ماحول میں چترالی ثقافت کو پزیرائی ملی۔ دوسرے ثقافتی پروگراموں کی طرح یہ صرف ناچ گانے تک ہی محیط نہیں تھا بلکہ اس میں چترال اور چترالی ثقافت اور ماحولیات پہ کافی دلچسپ باتیں بھی ہوئی۔ یہ پہلا چترالی ثقافتی پروگرام تھا جس میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر مردوں کے شانہ بشانہ شرکت کیا۔
اس پروگرام میں تقریبا 350 چترالی اور کراچی کے لوگوں نے Image may contain: 26 people, people sitting and crowdحصہ لیا اور کراچی کے مختلف اداروں سے طلباء اس پروگرام سے محظوظ ہوئے۔ اس موقعے پہ اسٹیچ کی ذمہ داری چیپس کے ممبرز سورم خان اور نبیلہ امیرزادہ نے سنبھالا۔ پروگرام کا آغاز عبادالرحمن نے چترال سے آنے والی جہاز حادثے میں شہید ہونے والے افراد کیلئے دعا پڑھ کر اور خاموشی سے کیا۔ انہوں نے نئے سال میں سب کیلئے دعائے خیر بھی کیا اور چیپس کے مشن میں ساتھ دینے کی گزارش بھی کی۔ اس کے بعد چیپس کی طرف سے چیرمن اور چیپس کے فاونڈنگ ممبر علی جماعت خان نے حبیب یونیورسٹی کو اظہارِ تشکر کے طور پہ ایک درخت کا تحفہ بھی دیا Image may contain: 4 people, people standing and indoorجو حبیب یونیورسٹی میں چیپس کے دوستی کی ایک نشانی رہے گی۔ اس کے بعد حبیب یونیورسٹی کے طالب علم اور چیپس کے یوتھ کوارڈنٹرعبدالواحد خان نے آرزو سینٹر کا شکریہ ادا کیا اور حاضریں کیلئے چترال اور چیپس کا تعارف بھی کیا اور رحمت علی جوہر کے خدمات پہ روشنی ڈالی۔ چیپس کے چیرمین نے اس موقعے پر طلبا سے خطاب کیا اور انہیں ماحولیاتی سرگرمی اور وقت کی اہمیت پر نصیحت کی۔ انہوں نے اس پروگرام کے منعقد کرنے پرحبیب یونیورسٹی کا شکریہ ادا کیا کہ واحد خان جیسے اسٹوڈنٹ کے زریعے کراچی اور چترال کے لوگوں کو ایک جگہ لایا اور مستقبل میں ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش ظاہر کی کہ جس میں چترال کے پسماندہ علاقے کو فائدہ ہوگا۔
اس پروگرام میں چترال سے تعلق رکھنے والے کمشنر سلام نے جدیدیت کا چترالی ثقافت پر اثر کے عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بہت اچھے طریقے سے جدیدیت اور عالمیت کا چترالی خوراک’ لباس’ موسیقی اور دوسرے ثقافتی عناصر پراثر کے بارے میں مثالوں کے زریعے اپنے رائے کا اظہار کیا۔Image may contain: 7 people, people standing and shoes پروفیسر کنیز فاطمہ نے “چترال عورت آباد “کے عنوان پر بات کی کہ کیسے چترالی ثقافت کو بنانے میں عورتوں کا کردار رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عورتیں نےمردوں کے ساتھ مل کر چترال کو اس مقام تک بہنچایا ہے کہ اب سب کیلئے دلچسپی کا منظر ہے۔ اس موقعے پر شاہ جی  نے کالاش ثقافت پر گفتگو کی اور کالاش کے بارے میں اپنی رنگینشاعری سے سامعین کا دل جیتا۔
اس پروگرام کے رنگین ترین حصے میں چترال سے اُبھرنے والا نوجوان فوک کلاکار عرفان علی تاج نے اپنے ساتھی معاذ آفریدی کو لیکے اپنے تینو ں گانے گائے اور سامعین و حاضریں سے خوب داد حاصل کی۔ اس کے بعد ایک اور نوجوان کلاکار زوالفقار علی شاہ نے پرانے کھوار گانے گائے اور نوجوانوں نے اپنے دلکش ناچ سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔
اس موقعٰے پر چیپس کی طرف سے چترالی کھانوں کا احتیمام بھی کیا گیا تھا جس میں چھیرا شاپیک’ لیگانو’ شوشپ’ کاڑی’ سناباچی’ پھینک’ ٹیکی اور شیشر وغیرہ شامل تھے۔ کچھ ممبرز نے دست کاری کے بھی سٹال لگایے جسے حاضریں نے بےحد پسند کیا۔
چیپس کے چیرمین اور یوتھ کوارڈنٹر نے حبیب یونیورسٹی کے ڈین اور آرزو سینٹر کے سربراہ آصف فرخی سے بھی ملاقات کی اور اس طرح کے مزید پروگرام کرانے پربات کی۔ اس کے ساتھ ساتھ حبیب یونورسٹی کے طلباء کیلئے چیپس کے ساتھ کام کرنے کے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔ چیپس کے چیرمین اوریوتھ کوارڈنٹرنےاڈمشن ڈپارمنٹ کے ایک سربراہ یاسمین بانو سے بھی مستقبل میں سکالرشپ اور داخلے میں چترالی طلباء کی چیپس کے زریعے مدد کرنے پہ بات چیت ہوئی۔ یقینا یہ پروگرام ایک بہت ہی مفید اور معلومات سے بھرپور رہا۔

اترك تعليقاً

زر الذهاب إلى الأعلى
Ads Blocker Image Powered by Code Help Pro

Ads Blocker Detected!!!

We have detected that you are using extensions to block ads. Please support us by disabling these ads blocker.

Powered By
Best Wordpress Adblock Detecting Plugin | CHP Adblock

اشتہارات بند کیوں ہیں؟۔

براہِ کرم ہمارے پلیٹ فارم کو سپورٹ کرنے کے لیے اشتہارات کو روکنے والی ایپ بند کر دیں۔ آپ کی معاونت ہمارے لیے اہم ہے۔